@permanent_lock7: زندگی ایک تیز رفتار ندی کی طرح ہے، جہاں ہم سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اسی بھاگ دوڑ میں فرحان بھی شامل تھا، جس کا مقصد اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنا تھا۔ فرحان کا ایک چھوٹا سا، خوبصورت سا خاندان تھا۔ اس کی بیوی، سائرہ، ایک نہایت سمجھدار اور محبت کرنے والی عورت تھی۔ سائرہ نے اپنی پوری زندگی فرحان کے سپرد کر دی تھی۔ لیکن فرحان کے لیے کامیابی ایک نہ ختم ہونے والا سفر تھا۔ دن بھر دفتر میں مصروفیت، اور رات گئے گھر واپسی۔ سائرہ اس کا انتظار کرتی، اسے کھانا پیش کرتی، اور اس سے اس کے دن کے بارے میں پوچھتی، لیکن فرحان اکثر تھکا ہوا ہوتا اور اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا۔ فرحان کو لگتا تھا کہ وہ یہ سب اپنے خاندان کی خوشی اور آرام کے لیے کر رہا ہے، لیکن اسے یہ احساس نہیں تھا کہ اس کا وقت ہی سائرہ کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔ سال گزرتے گئے، اور فرحان کی کامیابی کی بلندیاں چھونے لگی۔ ان کے گھر میں عیش و عشرت کی کوئی کمی نہیں تھی، لیکن ایک کمی تھی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ سائرہ کے لیے فرحان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ ایک نایاب خزانہ بن گیا تھا۔ اسے بس یہی تمنا تھی کہ وہ کبھی فرحان کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ سکے، اس کا ہاتھ تھام سکے، اور اس کی آنکھوں میں اپنی محبت کو محسوس کر سکے۔ لیکن فرحان کے پاس ان باتوں کے لیے وقت نہیں تھا۔ ایک شام، فرحان دفتر سے گھر واپس آیا اور سائرہ کو بستر پر آرام کرتے ہوئے پایا۔ وہ حیران تھا، کیونکہ سائرہ کبھی بیمار نہیں ہوئی تھی۔ جب اس نے پوچھا تو سائرہ نے مسکرا کر کہا کہ وہ بس تھوڑی تھکی ہوئی ہے۔ فرحان نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اسے جلد ہی ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس لے کر جائے گا، اور وہ اسے اپنی اگلی بڑی میٹنگ کے بارے میں بتانے لگا۔ اگلے چند ہفتوں میں سائرہ کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ فرحان نے آخرکار ایک مشہور ڈاکٹر سے ملاقات طے کی۔ ڈاکٹر نے سائرہ کا معائنہ کیا اور فرحان کو اپنے دفتر میں بلایا۔ جب فرحان ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا، تو ڈاکٹر نے اسے ایک خبر دی جس نے اس کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ سائرہ کو ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں، اور اس کے پاس بس کچھ ہی مہینے باقی ہیں۔ یہ خبر فرحان کے لیے ایک دھچکا تھی۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ گھر آیا اور سائرہ کو بستر پر بیٹھے دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی فکر نہیں تھی، بس ایک خاموش مسکراہٹ تھی۔ فرحان نے سائرہ کا ہاتھ تھاما اور اس سے معافی مانگی۔ اس نے کہا کہ اس نے اپنی زندگی کے کئی سال کامیابی کے پیچھے گزار دیے، لیکن اس نے سائرہ کی محبت اور وقت کو نظر انداز کر دیا۔ اس نے سائرہ سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس جتنا بھی وقت ہے، وہ اس کے ساتھ گزارے گا۔ فرحان نے دفتر جانا چھوڑ دیا اور اپنا سارا وقت سائرہ کے ساتھ گزارنے لگا۔ وہ سائرہ کو اس کی پسندیدہ جگہوں پر لے کر جاتا، اس کے لیے اس کا پسندیدہ کھانا بناتا، اور اس کے ساتھ باتیں کرتا۔ وہ سائرہ کا ہاتھ تھام کر بیٹھتا، اسے کہانیاں سناتا، اور اس کے ساتھ ہنستا۔ فرحان کو احساس ہوا کہ اس کے لیے کامیابی کی کوئی اہمیت نہیں، اگر اس کے پاس اس کا "من پسند شخص" ہی نہ ہو۔ فرحان کے لیے سائرہ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ ایک نایاب تحفہ تھا۔ اسے سائرہ کی مسکراہٹ، اس کی ہنسی، اور اس کی باتوں سے اتنی خوشی ملتی تھی کہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک دوسری دنیا میں ہے۔ اسے یہ احساس ہوا کہ سائرہ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ ایک ایسا خزانہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آخرکار، وہ وقت بھی آ گیا جس کا سب کو ڈر تھا۔ سائرہ کی سانسیں کم ہونے لگیں۔ فرحان اس کے پاس بستر پر بیٹھا تھا، اس کا ہاتھ تھامے ہوئے۔ اس نے سائرہ سے معافی مانگی اور کہا کہ اس نے اپنی زندگی کے کئی سال کامیابی کے پیچھے گزار دیے، لیکن اسے اب یہ احساس ہوا ہے کہ "من پسند شخص کے ساتھ وقت گزارنا" ہی سب سے بڑی خوشی ہے۔ اس نے سائرہ سے کہا کہ وہ اسے بہت یاد کرے گا۔ سائرہ نے ایک آخری مسکراہٹ دی اور کہا کہ اسے کوئی پچھتاوا نہیں، کیونکہ اس کے پاس فرحان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ ایک نایاب خزانہ ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اسے بہت یاد کرے گی۔ فرحان نے سائرہ کا ہاتھ چوما اور اس سے کہا کہ وہ اسے کبھی نہیں بھولے گا۔ سائرہ کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اس کا سانس تھم گیا۔ فرحان کے لیے سائرہ کے جانے کے بعد دنیا خاموش ہو گئی۔ اسے یہ احساس ہوا کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا حصہ اب اس کے ساتھ نہیں رہا۔ اسے یہ احساس ہوا کہ "من پسند شخص کے ساتھ وقت گزارنے" کی قدر کتنی زیادہ ہے۔ اسے یہ احساس ہوا کہ اس کے پاس سائرہ کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ ایک ایسا خزانہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸 ۔