@mcrogeroficial: Tamo no caminho 🤫😏

Mc Roger
Mc Roger
Open In TikTok:
Region: BR
Saturday 11 April 2026 00:06:39 GMT
7887
141
11
7

Music

Download

Comments

lethicia.diass
Lethicia Dias :
Respeita crlh .. o melhor que nós temos .. 🔥❤️
2026-04-11 00:22:23
0
lauragabaldi56
Laura Gabaldi :
O melhor 😻😻😻
2026-04-11 00:20:37
0
lauragabaldi56
Laura Gabaldi :
Te amo best 🥰🥰🥰
2026-04-11 00:20:44
0
kakaduchapa
Carlos Henrique :
Lança lança 🔥
2026-05-27 22:37:58
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😁
2026-05-17 14:24:57
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😂
2026-05-17 14:24:48
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😂
2026-05-17 14:24:53
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😁
2026-05-17 14:24:52
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😳
2026-05-17 14:24:50
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😳
2026-05-17 14:24:55
0
ana.lvia.andrade42
Lívia 💨 :
😂
2026-05-17 14:24:58
0
To see more videos from user @mcrogeroficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لفظ مراقبہ عربی مادہ رَقَبَ سے ہے، جس میں نگہبانی، نگرانی اور توجہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ روحانی اصطلاح میں مراقبہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو یکسو کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو، اپنے باطن کا جائزہ لے اور اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کرے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میرے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ یہ کیفیت انسان کو غفلت سے بیداری کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾ “اور تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔” (الحدید: 4) مراقبہ اسی شعور کو دل میں گہرا کرنے کی کوشش ہے—اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرح کسی جگہ موجود سمجھنا نہیں، بلکہ اس کے علم، قدرت اور نگرانی کا شعور اپنے اندر زندہ کرنا۔ 🕯️ مراقبے کا اصل مقصد مراقبے کا مقصد کوئی غیر معمولی منظر دیکھنا، کشف حاصل کرنا یا مستقبل کی خبریں معلوم کرنا نہیں۔ اصل مقصد دل کی اصلاح اور اللہ سے تعلق کی مضبوطی ہے۔ جب انسان خاموشی میں اپنے نفس کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے اندر چھپی ہوئی بہت سی چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں: میں کس چیز کی خواہش میں گرفتار ہوں؟ میرے دل میں حسد، تکبر یا غصہ تو نہیں؟ میری عبادت میں اخلاص کتنا ہے؟ میں لوگوں کے لیے جو ظاہر کرتا ہوں، کیا حقیقت میں بھی ویسا ہی ہوں؟ میری زندگی اللہ کی رضا کے کتنی قریب ہے؟ یہی اندر کی طرف سفر مراقبے کی روح ہے۔ 🌿 مراقبہ اور دل انسان کا جسم دنیا میں رہتا ہے، مگر اس کا دل مسلسل ہزاروں خیالات میں بھٹکتا رہتا ہے۔ کبھی ماضی کا دکھ، کبھی مستقبل کا خوف، کبھی کسی شخص کی محبت، کبھی دنیا کی خواہش۔ مراقبہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس ہجوم سے الگ ہو کر اپنے دل کو سنو۔ خاموش بیٹھو… اپنی سانس کو معمول پر آنے دو… ذہن میں آنے والے خیالات سے لڑو نہیں… بس اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرو۔ اگر ذکر کرو تو ادب، توجہ اور اخلاص کے ساتھ کرو۔ آہستہ آہستہ انسان محسوس کرتا ہے کہ ظاہری خاموشی کے اندر بھی ایک دنیا آباد ہے۔ ✨ مراقبہ کا ایک سادہ طریقہ وضو کرکے پاکیزہ اور پرسکون جگہ پر بیٹھیں۔ قبلہ رُخ بیٹھنا بہتر ہے۔ چند لمحے سکون سے سانس لیں اور جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ پھر دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ذکر، استغفار یا درود شریف پڑھیں۔ اپنے آپ کو یہ یاد دلائیں: “اللہ میرے حال سے باخبر ہے، میرے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور میرے باطن کو بھی۔ مجھے اپنے دل کی اصلاح کرنی ہے اور اپنے رب کی رضا تلاش کرنی ہے۔” چند منٹ اسی کیفیت میں رہیں۔ اگر خیالات آئیں تو گھبرائیں نہیں۔ مراقبہ کا مطلب یہ نہیں کہ دماغ میں ایک بھی خیال نہ آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ خیال کے پیچھے بہنے کے بجائے دوبارہ اللہ کی طرف توجہ لوٹائی جائے۔ 🌌 مراقبے میں آنے والی کیفیات کبھی دل میں سکون محسوس ہوسکتا ہے، کبھی آنکھوں میں آنسو آ سکتے ہیں، کبھی اپنے گناہوں کا احساس بڑھ سکتا ہے، کبھی دل میں اللہ کی یاد زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔ لیکن ہر کیفیت کو لازماً کوئی غیبی اشارہ یا کشف سمجھنا درست نہیں۔ روحانی سفر میں اصل معیار یہ ہے کہ مراقبے کے بعد انسان: نماز کا پابند ہو، گناہوں سے بچے، اخلاق بہتر کرے، تکبر کم کرے، لوگوں کے حقوق ادا کرے اور اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہو۔ اگر مراقبہ انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں کر رہا تو صرف عجیب کیفیات کا پیچھا کرنا روحانی ترقی نہیں۔ 🕊️ مراقبہ اور فنا فی اللہ روحانیت کے سفر میں جب انسان اپنی خواہشات، انا، تکبر اور نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ فنا فی اللہ کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان ذاتِ الٰہی میں حلول یا جسمانی طور پر فنا ہوجاتا ہے، بلکہ صوفیانہ مفہوم میں اسے اپنے نفس کی خود غرض خواہشات اور انا کو اللہ کی اطاعت و رضا کے تابع کرنے کے معنی میں سمجھا جاتا ہے۔ مراقبہ اس سفر میں دل کی تربیت کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اس کی بنیاد ہمیشہ شریعت، قرآن و سنت، فرائض اور اصلاحِ اخلاق پر ہونی چاہیے۔ 🔐 ایک راز کی بات مراقبے کا سب سے بڑا راز یہ نہیں کہ تمہیں کچھ نظر آئے… بلکہ یہ ہے کہ تمہارے اندر سے وہ چیزیں غائب ہونے لگیں جو اللہ سے دور کرتی ہیں۔ غصہ کم ہو جائے… تکبر ٹوٹنے لگے… دل نرم ہونے لگے… معافی آسان ہو جائے… نماز میں دل لگنے لگے… تنہائی میں گناہ سے خوف آنے لگے… اور انسان لوگوں کی نظروں کے بجائے اپنے رب کی رضا کو اہم سمجھنے لگے۔ تب سمجھو کہ خاموش بیٹھنے کا سفر صرف خاموشی نہیں رہا؛ وہ باطن کی تربیت بن گیا ہے۔ مراقبہ آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، دل کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ یہ دنیا سے فرار نہیں، اپنے نفس سے ملاقات ہے۔ اور اپنے نفس کو پہچانتے پہچانتے انسان اپنے رب کی بندگی کی حقیقت کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگتا ہے۔ #foryoupage #islamic #sufism #islamic_video #روح_اور_روحانیت_کاسفر
لفظ مراقبہ عربی مادہ رَقَبَ سے ہے، جس میں نگہبانی، نگرانی اور توجہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ روحانی اصطلاح میں مراقبہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو یکسو کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو، اپنے باطن کا جائزہ لے اور اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کرے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میرے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ یہ کیفیت انسان کو غفلت سے بیداری کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾ “اور تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔” (الحدید: 4) مراقبہ اسی شعور کو دل میں گہرا کرنے کی کوشش ہے—اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرح کسی جگہ موجود سمجھنا نہیں، بلکہ اس کے علم، قدرت اور نگرانی کا شعور اپنے اندر زندہ کرنا۔ 🕯️ مراقبے کا اصل مقصد مراقبے کا مقصد کوئی غیر معمولی منظر دیکھنا، کشف حاصل کرنا یا مستقبل کی خبریں معلوم کرنا نہیں۔ اصل مقصد دل کی اصلاح اور اللہ سے تعلق کی مضبوطی ہے۔ جب انسان خاموشی میں اپنے نفس کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے اندر چھپی ہوئی بہت سی چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں: میں کس چیز کی خواہش میں گرفتار ہوں؟ میرے دل میں حسد، تکبر یا غصہ تو نہیں؟ میری عبادت میں اخلاص کتنا ہے؟ میں لوگوں کے لیے جو ظاہر کرتا ہوں، کیا حقیقت میں بھی ویسا ہی ہوں؟ میری زندگی اللہ کی رضا کے کتنی قریب ہے؟ یہی اندر کی طرف سفر مراقبے کی روح ہے۔ 🌿 مراقبہ اور دل انسان کا جسم دنیا میں رہتا ہے، مگر اس کا دل مسلسل ہزاروں خیالات میں بھٹکتا رہتا ہے۔ کبھی ماضی کا دکھ، کبھی مستقبل کا خوف، کبھی کسی شخص کی محبت، کبھی دنیا کی خواہش۔ مراقبہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس ہجوم سے الگ ہو کر اپنے دل کو سنو۔ خاموش بیٹھو… اپنی سانس کو معمول پر آنے دو… ذہن میں آنے والے خیالات سے لڑو نہیں… بس اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرو۔ اگر ذکر کرو تو ادب، توجہ اور اخلاص کے ساتھ کرو۔ آہستہ آہستہ انسان محسوس کرتا ہے کہ ظاہری خاموشی کے اندر بھی ایک دنیا آباد ہے۔ ✨ مراقبہ کا ایک سادہ طریقہ وضو کرکے پاکیزہ اور پرسکون جگہ پر بیٹھیں۔ قبلہ رُخ بیٹھنا بہتر ہے۔ چند لمحے سکون سے سانس لیں اور جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ پھر دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ذکر، استغفار یا درود شریف پڑھیں۔ اپنے آپ کو یہ یاد دلائیں: “اللہ میرے حال سے باخبر ہے، میرے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور میرے باطن کو بھی۔ مجھے اپنے دل کی اصلاح کرنی ہے اور اپنے رب کی رضا تلاش کرنی ہے۔” چند منٹ اسی کیفیت میں رہیں۔ اگر خیالات آئیں تو گھبرائیں نہیں۔ مراقبہ کا مطلب یہ نہیں کہ دماغ میں ایک بھی خیال نہ آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ خیال کے پیچھے بہنے کے بجائے دوبارہ اللہ کی طرف توجہ لوٹائی جائے۔ 🌌 مراقبے میں آنے والی کیفیات کبھی دل میں سکون محسوس ہوسکتا ہے، کبھی آنکھوں میں آنسو آ سکتے ہیں، کبھی اپنے گناہوں کا احساس بڑھ سکتا ہے، کبھی دل میں اللہ کی یاد زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔ لیکن ہر کیفیت کو لازماً کوئی غیبی اشارہ یا کشف سمجھنا درست نہیں۔ روحانی سفر میں اصل معیار یہ ہے کہ مراقبے کے بعد انسان: نماز کا پابند ہو، گناہوں سے بچے، اخلاق بہتر کرے، تکبر کم کرے، لوگوں کے حقوق ادا کرے اور اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہو۔ اگر مراقبہ انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں کر رہا تو صرف عجیب کیفیات کا پیچھا کرنا روحانی ترقی نہیں۔ 🕊️ مراقبہ اور فنا فی اللہ روحانیت کے سفر میں جب انسان اپنی خواہشات، انا، تکبر اور نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ فنا فی اللہ کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان ذاتِ الٰہی میں حلول یا جسمانی طور پر فنا ہوجاتا ہے، بلکہ صوفیانہ مفہوم میں اسے اپنے نفس کی خود غرض خواہشات اور انا کو اللہ کی اطاعت و رضا کے تابع کرنے کے معنی میں سمجھا جاتا ہے۔ مراقبہ اس سفر میں دل کی تربیت کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اس کی بنیاد ہمیشہ شریعت، قرآن و سنت، فرائض اور اصلاحِ اخلاق پر ہونی چاہیے۔ 🔐 ایک راز کی بات مراقبے کا سب سے بڑا راز یہ نہیں کہ تمہیں کچھ نظر آئے… بلکہ یہ ہے کہ تمہارے اندر سے وہ چیزیں غائب ہونے لگیں جو اللہ سے دور کرتی ہیں۔ غصہ کم ہو جائے… تکبر ٹوٹنے لگے… دل نرم ہونے لگے… معافی آسان ہو جائے… نماز میں دل لگنے لگے… تنہائی میں گناہ سے خوف آنے لگے… اور انسان لوگوں کی نظروں کے بجائے اپنے رب کی رضا کو اہم سمجھنے لگے۔ تب سمجھو کہ خاموش بیٹھنے کا سفر صرف خاموشی نہیں رہا؛ وہ باطن کی تربیت بن گیا ہے۔ مراقبہ آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، دل کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ یہ دنیا سے فرار نہیں، اپنے نفس سے ملاقات ہے۔ اور اپنے نفس کو پہچانتے پہچانتے انسان اپنے رب کی بندگی کی حقیقت کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگتا ہے۔ #foryoupage #islamic #sufism #islamic_video #روح_اور_روحانیت_کاسفر

About