@danhtran852412: 🌶️🌶️🌶️ dạo này bao nhiêu 1 kí rồi ta???😬😬😬#giáoviên #xuhuongtiktok #danhtran852412

Thầy MT42
Thầy MT42
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 11 April 2026 04:09:40 GMT
12083
351
14
8

Music

Download

Comments

danhtran852412
Thầy MT42 :
Sáng là phải ăn trái cây tráng miệng😂😂😂
2026-04-11 04:10:00
4
69.mebanhbao.1993
cẩm lượng :
cay HK thầy
2026-04-12 07:45:02
0
nhntrng6548
trọng nhân :
chắc là không cay đâu 😂😂
2026-04-11 05:14:36
2
van.thanh530
Van Thanh :
ăn nửa chén ớt như thế hại bao tử lắm thầy ơi nguyên chén đi mới tốt 😁
2026-04-11 05:41:12
1
thuy.doan5600
đoàn h doan :
học sinh nhìn kìa bác
2026-05-18 14:09:32
0
khong_dam_tin_1_ai_nua
Minh Luân 🇻🇳 :
Bán tô mì lỗ tiền ớt
2026-04-11 05:38:23
2
phmphngnghi14
phương nghi💫💫 :
thầy chịu cay quá dữ
2026-04-11 05:23:08
0
playgamexedit
VAKIツ :
sao r thầy ổn ko có cần bình chữa cháy k thầy
2026-04-11 05:53:36
0
gianguyen199x
Trần Gia Nguyên :
🤣🤣🤣😂
2026-04-16 03:06:39
0
hennynhi1010
Thảo Trần :
😂😂😂😂😂
2026-04-11 13:17:38
0
phc.v.b56
Thanh tri :
😂😂😂
2026-04-11 07:43:14
0
thachthily1097
thạch thị ly💢 :
☺️☺️☺️☺️😂😂😂
2026-04-23 03:22:38
0
v.thanh0057
Võ Thanh :
😄😄😇🥰
2026-05-16 14:21:04
0
To see more videos from user @danhtran852412, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی انسان کسی کی توجہ کا بھوکا اس لیے نہیں ہوتا کہ اُسے محبت کم مل رہی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ جس شخص کو اُس نے اپنی تمام تر خوشیوں کا مرکز بنا دیا ہو، اُس کے رویّے میں اپنی جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ خود سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ہم کسی کے سامنے اپنی چاہت کا اقرار کرتے ہیں، اپنی ترجیحات بدلتے ہیں، اپنی مصروفیات سمیٹتے ہیں، اپنے دن اُس کے نام کرتے ہیں، اور پھر اُسی کے ہاتھوں اپنی بےقراری کی سزا بھی خاموشی سے سہتے رہتے ہیں۔ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات ہمیں مسکرا دیتی ہے، کون سا لہجہ ہمارے اندر بہار اُتارتا ہے، اور کون سی خاموشی ہمیں رات بھر اپنے ہی سوالوں میں مبتلا رکھ سکتی ہے۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ محبت ملنے کے بعد بدل جاتے ہیں؛ کیونکہ اُنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ سامنے والا اُن کے بغیر خوش نہیں رہ سکے گا۔ پھر وہ جان بوجھ کر فاصلے پیدا کرتے ہیں، باتوں میں سرد مہری اُتارتے ہیں، توجہ کو ترساتے ہیں، اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر ہماری محبت میں ایسی کون سی کمی تھی جس نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا۔ ہم پھر بھی اُن سے لڑتے نہیں، کیونکہ محبت میں بعض اوقات انسان اپنے حق سے زیادہ دوسرے کے مزاج کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔ وہ ایک لمحے کی بےرخی سے ہماری پوری رات چرا لیتے ہیں، ایک بدلتے ہوئے لہجے سے کئی دنوں کا سکون چھین لیتے ہیں، اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کب اُن کی توجہ کے طلب گار سے اُن کی بےتوجہی کے عادی ہو گئے۔ سب سے المناک بات تو یہ ہے کہ ہمیں اُن سے محبت کم نہیں ہوتی، بس اُن کے بدلتے ہوئے رویّوں کے ساتھ خود کو توڑنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اور آخر میں انسان کے پاس نہ شکایت باقی رہتی ہے، نہ سوال، نہ مطالبہ۔۔۔ بس ایک خاموش سا یقین رہ جاتا ہے کہ جسے اپنی خوشی سمجھ کر سینے سے لگایا تھا، وہی شخص ایک دن ہماری خوشیوں کا سبب نہیں، اُن کے زوال کا حوالہ بن گیا۔ 🥀
کبھی کبھی انسان کسی کی توجہ کا بھوکا اس لیے نہیں ہوتا کہ اُسے محبت کم مل رہی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ جس شخص کو اُس نے اپنی تمام تر خوشیوں کا مرکز بنا دیا ہو، اُس کے رویّے میں اپنی جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ خود سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ہم کسی کے سامنے اپنی چاہت کا اقرار کرتے ہیں، اپنی ترجیحات بدلتے ہیں، اپنی مصروفیات سمیٹتے ہیں، اپنے دن اُس کے نام کرتے ہیں، اور پھر اُسی کے ہاتھوں اپنی بےقراری کی سزا بھی خاموشی سے سہتے رہتے ہیں۔ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات ہمیں مسکرا دیتی ہے، کون سا لہجہ ہمارے اندر بہار اُتارتا ہے، اور کون سی خاموشی ہمیں رات بھر اپنے ہی سوالوں میں مبتلا رکھ سکتی ہے۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ محبت ملنے کے بعد بدل جاتے ہیں؛ کیونکہ اُنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ سامنے والا اُن کے بغیر خوش نہیں رہ سکے گا۔ پھر وہ جان بوجھ کر فاصلے پیدا کرتے ہیں، باتوں میں سرد مہری اُتارتے ہیں، توجہ کو ترساتے ہیں، اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر ہماری محبت میں ایسی کون سی کمی تھی جس نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا۔ ہم پھر بھی اُن سے لڑتے نہیں، کیونکہ محبت میں بعض اوقات انسان اپنے حق سے زیادہ دوسرے کے مزاج کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔ وہ ایک لمحے کی بےرخی سے ہماری پوری رات چرا لیتے ہیں، ایک بدلتے ہوئے لہجے سے کئی دنوں کا سکون چھین لیتے ہیں، اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کب اُن کی توجہ کے طلب گار سے اُن کی بےتوجہی کے عادی ہو گئے۔ سب سے المناک بات تو یہ ہے کہ ہمیں اُن سے محبت کم نہیں ہوتی، بس اُن کے بدلتے ہوئے رویّوں کے ساتھ خود کو توڑنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اور آخر میں انسان کے پاس نہ شکایت باقی رہتی ہے، نہ سوال، نہ مطالبہ۔۔۔ بس ایک خاموش سا یقین رہ جاتا ہے کہ جسے اپنی خوشی سمجھ کر سینے سے لگایا تھا، وہی شخص ایک دن ہماری خوشیوں کا سبب نہیں، اُن کے زوال کا حوالہ بن گیا۔ 🥀

About