@jokerismy2ndversion: وہ دل کے جس میں خدا مکیں ہے وہ دل دکھاؤ تو یاد رکھنا۔ کسی کی آنکھوں میں درد پاکر جو مسکراؤ تو یاد رکھنا۔ جو ہار بیٹھا ہو تم پہ سب کچھ اس آدمی سے تم خود پرستی میں جیت جاؤ تو یاد رکھنا کسی کے غم پہ جو بے حسی کا جشن مناؤ تو یاد رکھنا بدن کی خستہ عمارتوں پر ہوس کا اپنی محل بناؤ تو یاد رکھنا کسی کے چہرے پے فکر دوراں کی سلوٹوں میں کسی سرہانے رکھی ہوئی بھیگی کروٹوں میں اداس آنکھوں کی سرخ مائل سی تشنگی میں لرزتی سانسوں میں ختم ہوتی سی زندگی میں جو سنگدلی کا قرار پاؤ تو یاد رکھنا کہ دیر ہے پر اندھیر نا ہے ہمارے اوپر جو اک خدا ہے وہ دور بیٹھا سب دیکھتا ہےبہت کڑا وہ حساب کرتا ہے یاد رکھناتم اس کا انصاف بھول جاؤ ہزار لیکن بشر کی اپنی ہر ایک لغزش وہ یاد رکھتا ہےیاد رکھنا۔ وہ یاد رکھتا ہے یاد رکھنا۔