@highsnobiety: Professional skateboarding is an insular world, and the first of our three cover stars on the spring issue of HIGHSNOBIETY is one of the best-known virtuosos of the sport. #sageelsesser went from punk kid subculture to mainstream vehicle of stardom and sponsorships in the past 10 years. That was then. Elsesser is now 29, but he seems older. He’ll come alive not just as a face in a Supreme lookbook or a character in the background of an Odd Future video or supermodel Paloma Elsesser’s brother, although he is all those things. But he’ll come into focus as the eye of a cultural hurricane, shaping the whirlwind around him in his own quiet, persistent way. Read more about how Elsesser has re-written the skate playbook and turned it into his venture into music at the link in bio. #nyc #navyblue #navybluethoughts #fyp

highsnobiety
highsnobiety
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 14 April 2026 14:14:11 GMT
2887
40
1
3

Music

Download

Comments

user5272451370617
Edward 1954 :
B5
2026-07-03 16:08:48
0
To see more videos from user @highsnobiety, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بیٹے کے قتل کیس میں انصاف، ملزمان کی گرفتاری اور جائیداد کے تحفظ کا مطالبہ تخت بھائی (نمائندہ خصوصی) ضعیف العمر بزرگ زرین خان ولد گل خان سکنہ عمر خان گلی، تخت بھائی نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے عزت خان کے قتل کیس میں فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اپنے بیان میں زرین خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے عزت خان کو قتل کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق اس واقعے میں ان کے دوسرے بیٹے راضی خان اور بہو کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب میں مقیم راضی خان کو وطن واپس لا کر قانون کے مطابق تفتیش کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ زرین خان نے مزید الزام عائد کیا کہ قتل کے بعد بعض افراد مقتول کے کاروبار، زمینوں اور دیگر اثاثوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود حیات ہیں، اس لیے ان کے مطابق مقتول کے کاروبار، جائیداد اور مالی معاملات پر کسی دوسرے شخص کا کوئی حق نہیں بنتا، لہٰذا حکومت ان اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کو چار ماہ گزر چکے ہیں اور مقدمے کی تفتیش تاحال جاری ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے تحقیقات میں پیش رفت کی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر شواہد کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی بنتی ہے تو ذمہ دار افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ زرین خان نے حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ قتل کیس کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات مکمل کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے اور ان کے خاندان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
بیٹے کے قتل کیس میں انصاف، ملزمان کی گرفتاری اور جائیداد کے تحفظ کا مطالبہ تخت بھائی (نمائندہ خصوصی) ضعیف العمر بزرگ زرین خان ولد گل خان سکنہ عمر خان گلی، تخت بھائی نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے عزت خان کے قتل کیس میں فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اپنے بیان میں زرین خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے عزت خان کو قتل کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق اس واقعے میں ان کے دوسرے بیٹے راضی خان اور بہو کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب میں مقیم راضی خان کو وطن واپس لا کر قانون کے مطابق تفتیش کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ زرین خان نے مزید الزام عائد کیا کہ قتل کے بعد بعض افراد مقتول کے کاروبار، زمینوں اور دیگر اثاثوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود حیات ہیں، اس لیے ان کے مطابق مقتول کے کاروبار، جائیداد اور مالی معاملات پر کسی دوسرے شخص کا کوئی حق نہیں بنتا، لہٰذا حکومت ان اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کو چار ماہ گزر چکے ہیں اور مقدمے کی تفتیش تاحال جاری ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے تحقیقات میں پیش رفت کی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر شواہد کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی بنتی ہے تو ذمہ دار افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ زرین خان نے حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ قتل کیس کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات مکمل کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے اور ان کے خاندان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

About