@syedaliraza95: مورخہ 14/4/26کا یہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے کہ ایک شہری کو عدالتِ عالیہ کے معزز جج صاحب کی جانب سے مکمل طور پر ڈسچارج کیے جانے کے باوجود تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کے ایک اے ایس آئی جسکاُنام ودود ہے نے ذاتی عناد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی کوشش کی۔ قانون واضح ہے کہ جب کسی ملزم کو عدالت باعزت طور پر ڈسچارج کر دے تو اسے فوری طور پر رہا کرنا لازم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مذکورہ افسر کی جانب سے نہ صرف گرفتاری کو جاری رکھنے کی کوشش کی گئی بلکہ ہتھکڑیاں تک نہ کھولی گئیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں اس شخص کے خلاف نہ کوئی نیا مقدمہ درج تھا نہ ہی کسی اور کیس میں مطلوب تھا اس کے باوجود زبردستی تھانے لے جانے پر اصرار کیا گیا۔ یہ عمل نہ صرف اختیارات سے تجاوز ہے بلکہ انصاف کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ موقع پر موجود وکلاء برادری نے بھرپور قانونی مؤقف اختیار کرتے ہوئے پولیس کو عدالت کے احاطہ سے اس وقت تک باہر نہیں نکلنے دیا جب تک کہ مذکورہ شہری کو فوری طور پر رہا نہیں کر دیا گیا۔ یہ اقدام قانون کی بالادستی اور شہری حقوق کے تحفظ کی بہترین مثال ہے۔ اس تمام صورتحال کی ویڈیو ثبوت کے طور پر موجود ہے جس میں واضح طور پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک بے گناہ شہری کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے ذمہ دار افسر کےخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقی بنایا جائے۔ #RuleOfLaw #Justice #PoliceReform #HumanRighth