@lenghduong312: "Hãy là ánh mặt trời của chính mình, dù đi đến đâu, bạn cũng mang theo một ánh sáng."#xhh

hd.
hd.
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 15 April 2026 22:15:52 GMT
547714
20361
67
2008

Music

Download

Comments

he0_sua66
he0_sua66 :
Chỗ đầu tiên bà thuê nhiêu á bà
2026-06-16 12:10:53
1
wgsobq
nhựt anh :
mới gặp
2026-04-25 14:41:06
1
thy070114
Bảo Thy🍇 :
Ảnh đầu ở Hà tiên dk ạ
2026-04-17 11:17:40
4
tuansang14_9
Pin con ó :
Em cx hà tiên nè
2026-04-17 14:06:49
1
doo_huhin
Đ :
Ảnh cuối ở đâu vậy chị
2026-04-19 00:53:28
1
hoag_.kaq
Hoangkhang.🦦 :
Cho xin capp vs ạ
2026-04-17 14:04:12
1
yencteneee
han dan ong :
2026-04-15 23:51:52
1
5kikhon
ng ha vy :
ui ui chỗ này ha
2026-04-17 13:01:38
1
uyee.nhii_367
meo. :
Đi ăn ở đâu mà nhìn ngon v chị🥰
2026-06-18 14:37:54
1
dlcute04
L :
m buff đúng k
2026-04-20 21:59:00
1
ngkhoa088
chàng khờ :
chấttttt
2026-04-16 15:42:47
1
cooqwa.053_
Minh Trọng :
2026-04-18 06:31:59
1
vanhieu242009
Hiếu :
2026-04-18 07:53:46
1
khoa.oi02
Khoa ơi :
chổ này à
2026-04-19 16:15:13
1
kd34828_
sứt muon dz :
Nki có ⚡️
2026-04-19 07:33:04
1
dkt20869
dkt🍂🍃 :
ba ha độ
2026-04-18 07:53:31
1
map2999
inh m Minh🤷🏻 :
Nhạc hây Á😂
2026-04-18 05:26:47
1
hjhjhaha219
! :
😳
2026-04-18 18:44:32
1
han_dan_ba212
yêu nhầm cô tổ trưởng :
giàu sướng thật
2026-04-17 08:37:54
6
dgch_.an
sao tôi lại cửng nhỉ :
đông hồ hả
2026-04-17 13:17:03
2
lviet.qi
nhật hạ. :
2026-04-16 10:37:43
1
khonoi0604
td. :
lên 1 vườn bông🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
2026-04-17 17:16:29
1
zuzi23d
Hiền và nhiều tài :
Đi wave
2026-04-17 09:07:54
1
dnglinhh_
L :
@nlih: Linh, Ánh, Ngọc, Trâm, Trân, Hồng, Quỳnh, Quyên, Bảo Anh, Ngọc Anh, Trang, Tâm, Yến, Yên, Nhi, Nhàn, Phương, Hương, Thảo, Hảo, My, Bảo, Dương, Lan, Hải, Lân, Ly, Ngân, Hằng, Chang, Thủy, Hân, Hạnh, Chi, Long, Dũng, Quý, Quang, Quân, Trung, Quốc, Khánh, Khang, Thịnh, Đức, Việt, Chiến, Nam, Thắng, Thông, Hải, Bính, Thiện, Độ, Trình, Vũ, Phi, Sáng, Đạt, Mã, Phong, Vân, Hiếu, Trinh, Tùng, Lâm, Huyền, Kiều, Oanh, Phúc, Huy, Hoàng, Bắc, Sinh, Tú, Vy, Oánh, Uyên, Nhã, Minh, Mạnh, Thư, Tuấn, Mai, An, Diệu, Diễm, Như, Trí, Đào, Nghĩa, Thu, Nhung, Hà, Phước, Tiên, Cảnh, Dung, Sang, Giang, Bách, Thuận, Thành, Hoa, Anh, Ái, Ân, Bích, Bình, Cúc, Cường, Di, Đông, Đoan, Định, Dậu, Giỏi, Hào, Hậu, Hòa, Hoan, Hùng, Khôi, Kiên, Lệ, Liên, Lộc, Lợi, Luân, Luyến, Mến, Mùi, Mẫn, Mộc, Năm, Ngà, Nguyên, Nhân, Nhiên, Phát, Quế, Quỳ, San, Sâm, Sơn, Sử, Tài, Tấn, Thắm, Thái, Thế, Thi, Thiện, Thơ, Thục, Thủy, Tiến, Tín, Toàn, Trác, Trúc, Trường, Tường, Tuyết, Vinh, Vượng, Xuân, Ý, Minh Anh, Hoàng Anh, Đức Minh, Anh Tuấn, Quốc Huy, Gia Bảo, Nhật Minh, Thành Đạt, Hải Đăng, Quang Huy, Đình Phong, Thanh Tùng, Mạnh Hùng, Tiến Đạt, Công Thành, Trung Kiên, Hữu Phước, Văn Toàn, Tuấn Kiệt, Bảo Long, Trường An, Đức Thịnh, Nhật Quang, Quốc Bảo, Phúc An, Thiên Ân, Gia Khánh, Hoài Nam, Đông Quân, Vĩnh Khang, Mai Anh, Thuỳ, Thuỳ Anh, Khánh Ly, Diễm My, Kim Ngân, Bích Ngọc, Thanh Trúc, Mỹ Linh, Hoài An, Hoài Thương, Gia Hân, Gia Linh, Phương Anh, Yến Nhi, Bảo Ngọc, Khả Vy, Tuệ Nhi, Ánh Dương, Minh Châu, Nhật Hạ, Ngọc Bích, Kiều Anh, Thúy Vân, Thúy Kiều, Tường Vi, Cẩm Tú, Bích Phương, Hồng Nhung, Thanh Vy, Tuyết Mai, Nhã Phương, Thảo Nhi, Khánh An, An Nhiên, Minh An, Thanh Mai, Cẩm Ly, Ngọc Hân, Kim Chi, Ái Nhi, Hạ Vy, Tuệ An, Bảo Châu, Minh Thư, Hoài Vy, Nhật Linh, Trúc Linh, Gia Uyên, Thảo Vy, Kim Anh, Yên Chi, An Vy, Cẩm Vân, Thanh Ngân, Hạ Anh, Tuyết Nhi, Diệu Anh, Như Ý, Bảo Trâm, Ngọc Mai, Khánh Vân, Trúc Mai, Hoàng Yến, Phương Vy, Minh Nguyệt, Hải Nam, Minh Khoa, Quang Minh, Đức Anh, Bảo Khánh, Nhật Tân, Trường Giang, Anh Dũng, Quốc Trung, Thanh Phong, Gia Huy, Minh Quân, Hoàng Long tim hộ mình vd mới ạa🥺
2026-04-18 06:26:16
1
l.cng.phi80
lê công phi :
Có dịp ghé quán nò. Bãi nò e. Siêu dễ thương
2026-04-19 00:32:48
1
To see more videos from user @lenghduong312, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

👈 کراچی اپنے جن فرزندوں پر تاقیامت فخر اور ناز کرتا رہے گا ان میں سرفہرست *غازی عبدالقیوم* ہیں جنہوں نے یہاں مختصر عرصہ گزارا لیکن اس شہر کی تاریخ میں امر ہوگئے اور کراچی کا کوئی تذکرہ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ 1910 ء کے کسی مہینے میں ہزارہ کے گاؤں غازی میں پیدا ہوئے۔  والد کا نام عبداللہ خان تھا کم عمری میں ہی والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے گھرکا دینی ماحول اور محلے کی مسجد کے پیش امام کی رفاقت نے ان کو پابند صوم و صلوٰۃ بنادیا  24 سال کی عمر میں شادی ہوگئی جب ذمہ داریوں کا بوجھ پڑا تو حصول روزگار کے لئے کراچی کا رخ کیا یہاں انہیں کوئی ملازمت نہ ملی تو تانگہ چلانے لگے ۔ رہائش رام سوامی کے علاقے میں تھی جو بھی آمدن ہوتی اس میں اپنی دلہن ، بوڑھی والدہ اور ضعیف چچا کی کفالت کرتے۔ ہزارہ کے گاؤں غازی میں 1910ء کے لگ بھگ عبداللہ نامی شخص کے گھر جب غازی عبدالقیوم کی ولادت ہوئی تو کسے پتہ تھاکہ یہ بچہ بڑا ہوکر آقا کی حرمت پر جان نچھاور کردے گا لیکن چونکہ اس کی قسمت میں روز اوّل سے یہ اعزاز لکھا تھا اس لئے حالات ایسے بنے کہ وہ ہزارہ سے تلاش معاش میں کراچی پہنچے ۔ جو قیام پاکستان سے قبل کیماڑی سے گرومندر تک پھیلا ہوا تھا مذکور ہے  کہ 24 سال کی عمر میں غازی عبدالقیوم کی شادی ہوگئی تھی اور 25ویں سال میں وہ صاحب گنبد خضری کی عظمت کا تحفظ کرتے ہوئے جنت کو سدھار گئے۔ اپنی ضعیف والدہ ، نئی نویلی دلہن اور بوڑھے چچا کی کفالت کے لئے انہوں نے کوچوانی کا پیشہ اختیار کیا۔ 33ء میں حیدرآباد کے نتھو رام نے ’’تاریخ اسلام‘‘ نامی کتابچہ شائع کیا جس کا زہریلا مواد ’’رنگیلا رسول‘‘ اور اس نوع کی دوسری تحریروں جیسا ہی تھا جن میں عا م مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا تھا اس لئے یہ پمفلٹ سامنے آیا تو مسلمانوں میں اضطراب پھیلا۔ علماء مشائخ نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی جمعہ کے اجتماعات میں اس جسارت کی مذمت کی گئی اور عامتہ المسلین کوبتایا گیا کہ کس طرح چند فتنہ ذہن ماحول کو پراگندہ کررہے ہیں ۔ عاشقان رسول کو کسی پل بھی چین نہ تھا ایسے ہی محبت کرنے والوں میں ایک غازی عبدالقیوم بھی تھا جس نے جونامارکیٹ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی تو اسے نتھو رام کی شر انگیزی کا پتہ چلا ۔ اس نے دل کے نہاں خانے میں موجود جذبہ محبت کا تقاضا جانا کہ محبوب رب کائنات کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو جہنم رسید کردیاجائے۔ عدالت نے مسلم اکابرین کی اپیل پر کتابچہ ضبط کرکے ملزم کو محض ایک سال قید بامشقت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا یہ فیصلہ جلتی پر تیل کا کام کرگیا ’’تاریخ اسلام‘‘ کے ہندو مصنف نتھو رام نے اس سزا کے خلاف بھی اپیل دائر کردی جس کی سماعت 34ء میں شروع ہوئی۔ کراچی کی عدالت میں جس روز نتھو رام کے مقدمے کی سماعت ہونی تھی  اس سے ایک دن قبل غازی عبدالقیوم نے بازار سے ایک خنجر خریدار اسے دھار لگوائی او رکمرہ عدالت میں شناخت کے بعد ایک سمت بیٹھے نتھو رام کے پیٹ اور گدی پر اس طرح وار کئے کہ وہ اسی وقت اپنے انجام کو پہنچا عدالت میں افراتفری پھیل گئی ۔ کسی عدالتی اہلکار نے گرفتاری کے بعد غازی سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ تو اس ناخواندہ شخص نے جس کا دل جذبہ عشق رسول سے سرشار تھا کمرہ میں آویزاں انگریز بادشاہ جارج کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوبصورت جواب دیا کہ اگر یہ تمہارے بادشاہ کو گالی دیتا اور تم میں غیرت ہوتی تو اس کو سزا نہ دیتے؟؟؟ اگلا جملہ تھا کہ اس نے تو میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی تھی اس لئے یہ اسی انجام کا مستحق تھا۔ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا تو کسی مزاحمت کے بغیر انہوں نے خود کو قانون کے سپرد کردیا۔ ان کے مقدمے کی پیروی کراچی کے مشہور بیرسٹر نے مفت کی لیکن غازی عبدالقیوم خان کا ایک ہی بیان تھا کہ آپ جو چاہیں کریں مجھ سے قتل کا انکار نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ عدالت نے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت کا حکم سنایا اس نے یہ فیصلہ سن کر الحمد للہ کہا۔ اس کے بعدبھی غازی عبدالقیوم کے وکیل کوششوں میں لگے رہے ۔ گورنر ممبئی کو رحم کی اپیل بھی بھیجی دوسری طرف پر یو ی کونسل نے رحم کی استدعا مسترد کی 19مارچ 35ء کو عاشق صادق کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ تاریخ فیصلے کے ٹھیک تین روز بعد کی ہے۔ غازی عبدالقیوم کی سزا کے فیصلے پر عمل درآمد کے نتائج کا حکومت کااندازہ تھا اس لئے غازی عبدالقیوم کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ شاہ غلام ر سول قادری نے جیل ہی میں پڑھائی ۔ شاہ غلام رسول قادری اپنے عہد کے جلیل القدر بزرگ تھے اور وہ قادری مسجد سولجربازار مقابل ہولی فیملی اسپتال میں مدفون ہیں آج کل ان کے پوتے صاحبزاداہ فرید الدین قادری مصنف تذکرہ اولیا ئے قادریہ سجادہ نشین ہیں ۔ #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان #for #Duet #pakistan
👈 کراچی اپنے جن فرزندوں پر تاقیامت فخر اور ناز کرتا رہے گا ان میں سرفہرست *غازی عبدالقیوم* ہیں جنہوں نے یہاں مختصر عرصہ گزارا لیکن اس شہر کی تاریخ میں امر ہوگئے اور کراچی کا کوئی تذکرہ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ 1910 ء کے کسی مہینے میں ہزارہ کے گاؤں غازی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام عبداللہ خان تھا کم عمری میں ہی والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے گھرکا دینی ماحول اور محلے کی مسجد کے پیش امام کی رفاقت نے ان کو پابند صوم و صلوٰۃ بنادیا 24 سال کی عمر میں شادی ہوگئی جب ذمہ داریوں کا بوجھ پڑا تو حصول روزگار کے لئے کراچی کا رخ کیا یہاں انہیں کوئی ملازمت نہ ملی تو تانگہ چلانے لگے ۔ رہائش رام سوامی کے علاقے میں تھی جو بھی آمدن ہوتی اس میں اپنی دلہن ، بوڑھی والدہ اور ضعیف چچا کی کفالت کرتے۔ ہزارہ کے گاؤں غازی میں 1910ء کے لگ بھگ عبداللہ نامی شخص کے گھر جب غازی عبدالقیوم کی ولادت ہوئی تو کسے پتہ تھاکہ یہ بچہ بڑا ہوکر آقا کی حرمت پر جان نچھاور کردے گا لیکن چونکہ اس کی قسمت میں روز اوّل سے یہ اعزاز لکھا تھا اس لئے حالات ایسے بنے کہ وہ ہزارہ سے تلاش معاش میں کراچی پہنچے ۔ جو قیام پاکستان سے قبل کیماڑی سے گرومندر تک پھیلا ہوا تھا مذکور ہے کہ 24 سال کی عمر میں غازی عبدالقیوم کی شادی ہوگئی تھی اور 25ویں سال میں وہ صاحب گنبد خضری کی عظمت کا تحفظ کرتے ہوئے جنت کو سدھار گئے۔ اپنی ضعیف والدہ ، نئی نویلی دلہن اور بوڑھے چچا کی کفالت کے لئے انہوں نے کوچوانی کا پیشہ اختیار کیا۔ 33ء میں حیدرآباد کے نتھو رام نے ’’تاریخ اسلام‘‘ نامی کتابچہ شائع کیا جس کا زہریلا مواد ’’رنگیلا رسول‘‘ اور اس نوع کی دوسری تحریروں جیسا ہی تھا جن میں عا م مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا تھا اس لئے یہ پمفلٹ سامنے آیا تو مسلمانوں میں اضطراب پھیلا۔ علماء مشائخ نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی جمعہ کے اجتماعات میں اس جسارت کی مذمت کی گئی اور عامتہ المسلین کوبتایا گیا کہ کس طرح چند فتنہ ذہن ماحول کو پراگندہ کررہے ہیں ۔ عاشقان رسول کو کسی پل بھی چین نہ تھا ایسے ہی محبت کرنے والوں میں ایک غازی عبدالقیوم بھی تھا جس نے جونامارکیٹ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی تو اسے نتھو رام کی شر انگیزی کا پتہ چلا ۔ اس نے دل کے نہاں خانے میں موجود جذبہ محبت کا تقاضا جانا کہ محبوب رب کائنات کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو جہنم رسید کردیاجائے۔ عدالت نے مسلم اکابرین کی اپیل پر کتابچہ ضبط کرکے ملزم کو محض ایک سال قید بامشقت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا یہ فیصلہ جلتی پر تیل کا کام کرگیا ’’تاریخ اسلام‘‘ کے ہندو مصنف نتھو رام نے اس سزا کے خلاف بھی اپیل دائر کردی جس کی سماعت 34ء میں شروع ہوئی۔ کراچی کی عدالت میں جس روز نتھو رام کے مقدمے کی سماعت ہونی تھی اس سے ایک دن قبل غازی عبدالقیوم نے بازار سے ایک خنجر خریدار اسے دھار لگوائی او رکمرہ عدالت میں شناخت کے بعد ایک سمت بیٹھے نتھو رام کے پیٹ اور گدی پر اس طرح وار کئے کہ وہ اسی وقت اپنے انجام کو پہنچا عدالت میں افراتفری پھیل گئی ۔ کسی عدالتی اہلکار نے گرفتاری کے بعد غازی سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ تو اس ناخواندہ شخص نے جس کا دل جذبہ عشق رسول سے سرشار تھا کمرہ میں آویزاں انگریز بادشاہ جارج کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوبصورت جواب دیا کہ اگر یہ تمہارے بادشاہ کو گالی دیتا اور تم میں غیرت ہوتی تو اس کو سزا نہ دیتے؟؟؟ اگلا جملہ تھا کہ اس نے تو میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی تھی اس لئے یہ اسی انجام کا مستحق تھا۔ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا تو کسی مزاحمت کے بغیر انہوں نے خود کو قانون کے سپرد کردیا۔ ان کے مقدمے کی پیروی کراچی کے مشہور بیرسٹر نے مفت کی لیکن غازی عبدالقیوم خان کا ایک ہی بیان تھا کہ آپ جو چاہیں کریں مجھ سے قتل کا انکار نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ عدالت نے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت کا حکم سنایا اس نے یہ فیصلہ سن کر الحمد للہ کہا۔ اس کے بعدبھی غازی عبدالقیوم کے وکیل کوششوں میں لگے رہے ۔ گورنر ممبئی کو رحم کی اپیل بھی بھیجی دوسری طرف پر یو ی کونسل نے رحم کی استدعا مسترد کی 19مارچ 35ء کو عاشق صادق کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ تاریخ فیصلے کے ٹھیک تین روز بعد کی ہے۔ غازی عبدالقیوم کی سزا کے فیصلے پر عمل درآمد کے نتائج کا حکومت کااندازہ تھا اس لئے غازی عبدالقیوم کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ شاہ غلام ر سول قادری نے جیل ہی میں پڑھائی ۔ شاہ غلام رسول قادری اپنے عہد کے جلیل القدر بزرگ تھے اور وہ قادری مسجد سولجربازار مقابل ہولی فیملی اسپتال میں مدفون ہیں آج کل ان کے پوتے صاحبزاداہ فرید الدین قادری مصنف تذکرہ اولیا ئے قادریہ سجادہ نشین ہیں ۔ #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان #for #Duet #pakistan

About