@0000writer: "Whether the field is of war or of loyalty, the one who runs away is always called contemptible." 1. میدانِ جنگ (بہادری کی علامت): جنگ میں بزدلی دکھانا اور دشمن کے سامنے سے بھاگ جانا سپاہی کے لیے سب سے بڑی ذلت مانی جاتی ہے۔ تاریخ میں صرف انہی لوگوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو آخری سانس تک لڑتے ہیں۔ میدانِ جنگ سے فرار کا مطلب نہ صرف اپنی شکست ہے بلکہ اپنی قوم اور نظریے سے غداری بھی ہے۔ 2. میدانِ وفا (کردار کی علامت): یہاں "وفا" سے مراد دوستی، محبت، رشتے یا کسی کے ساتھ کیا گیا وعدہ ہے۔ زندگی کی آزمائشوں میں جب حالات مشکل ہو جائیں تو اکثر لوگ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ قول کے مطابق، جو شخص مشکل گھڑی میں اپنے پیارے یا اپنے اصولوں کو چھوڑ کر بھاگ جائے، وہ اخلاقی طور پر اتنا ہی گرا ہوا ہے جتنا میدانِ جنگ سے بھاگنے والا بزدل۔ 3. بدذات کا لفظ (رسوائی کا استعارہ): یہاں "بدذات" سے مراد صرف حسب نسب کی خرابی نہیں، بلکہ کم ظرفی اور کردار کی پستی ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرے، وہ معاشرے کی نظر میں اپنی عزت اور ساکھ کھو دیتا ہے۔ حاصلِ کلام: یہ قول ہمیں سبق دیتا ہے کہ انسان کو اپنے قول و فعل کا پکا ہونا چاہیے۔ حالات چاہے کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اپنی جگہ چھوڑنا یا پیٹھ دکھانا بزدلی ہے، جبکہ ڈٹے رہنا ہی اصل شرافت اور مردانگی ہے۔ #0000writer #fyppppppppppppppppppppppp #viral #lines #fyp