@ishqe.lahasil23: تنہائی اور دُکھ کا احساس جب حد سے بڑھ جائے، تو انسان اکثر اپنے ارد گرد ایسے کندھے تلاش کرتا ہے جہاں سر رکھ کر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ لیکن زندگی کے کسی موڑ پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب شور مچاتی ہوئی دنیا میں آپ خود کو بالکل اکیلا پاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کے دُکھ بانٹنے والا کوئی نہیں، اور آپ کی خاموش سسکیوں کو سننے والا کوئی موجود نہیں۔ جب انسان کے اندر کا درد لفظوں کی صورت باہر نہ نکل سکے اور جذبات کا طوفان سینے میں ہی دم توڑنے لگے، تو وہ گھٹن انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس تنہائی میں انسان صرف اپنے آپ سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ منظر کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے جب ایک شخص کمرے کے کسی اندھیرے کونے میں، فرش پر بیٹھے ہوئے، اپنی ہی باہوں کا سہارا لیتا ہے اور اپنے گھٹنوں میں سر چھپا کر رو دیتا ہے۔ اپنے ہی وجود کو گلے لگانا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ اب اس دنیا میں آپ کا سب سے مخلص ساتھی آپ کا اپنا آپ ہی ہے۔ جب درد بانٹنے کو کوئی میسر نہ ہو، تو انسان اپنی ہی باہوں میں پناہ لیتا ہے۔ وہ آنسو جو کسی دوسرے کے سامنے گرنے تھے، اب خاموشی سے اپنی ہی آستینوں میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ رونا ہے جس میں آواز نہیں ہوتی، لیکن اس کی گونج روح کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اس حالت میں انسان کو کسی ہمدرد کی نصیحت یا تسلی کے الفاظ نہیں چاہیے ہوتے، بلکہ اسے صرف ایک ایسے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے جو بغیر کچھ کہے اس کے درد کو محسوس کر سکے۔ مگر جب وہ ساتھ نہیں ملتا، تو وہ اپنی تنہائی کو ہی اپنا لباس بنا لیتا ہے۔ یہ عمل بظاہر کمزوری لگ سکتا ہے، مگر اپنی ہی باہوں میں سر رکھ کر رو لینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اب اپنے زخموں کو خود بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درد جب حد سے گزرتا ہے تو وہ انسان کو خود شناس بنا دیتا ہے۔ تنہائی میں بہنے والے یہ آنسو انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ آخر کار آپ کو اپنے آپ کو خود ہی سنبھالنا ہے، خود ہی حوصلہ دینا ہے اور خود ہی اپنی بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹنا ہے۔ . . #ishqelahasil23 #urdupotery #urduline #plzsupport #🥹💔🥀