@ubaid.typist70: ہم کہاں واقف تھے لوگوں کی فطرتوں سے، ہمیں لگتا تھا جو جیسا دکھتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے۔ ہم نے چہروں کو پڑھنا سیکھا ہی نہیں تھا، ہم دلوں پر یقین کر بیٹھے تھے۔ ہمیں لگا تھا کہ مسکراہٹوں میں خلوص ہوتا ہے، اور میٹھی باتوں میں سچائی۔ مگر وقت نے آہستہ آہستہ سچ کھولا… کچھ لوگ آنکھوں میں محبت لے کر آئے، اور دل میں حساب کتاب رکھتے تھے۔ ہم نے اپنوں کو اپنا سمجھا، اور وہ ہمیں وقت کے ساتھ سمجھاتے گئے کہ ہر "اپنا" حقیقت میں اپنا نہیں ہوتا۔ اب ہم سیکھ گئے ہیں… کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اور ہر ہنستا چہرہ مخلص نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی… ہم اپنی سادگی پر شرمندہ نہیں، کیونکہ دھوکہ دینا برا ہوتا ہے، دھوکہ کھانا نہیں۔ ہم کہاں واقف تھے لوگوں کی فطرتوں سے، ہمیں لگتا تھا جو جیسا دکھتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے۔ #ubaidtypist70 #foryoupage