@sierrastrickland2: Friend I know our loyalty got used against but that’s okay!! God sent us to each other!!! Let’s lock 🔒 in!! We love you❤️ #fyp #fypviralシ #foryoupage #postivitiy #friend 🙌🏽

Sierra
Sierra
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 18 April 2026 22:07:25 GMT
45923
1196
335
105

Music

Download

Comments

just.justine_87
Justine 🩵 :
LOCK IN!!!!!! You’re so right!!! 🥂
2026-07-21 02:50:07
1
robert.s.taylor4
ROBERT S TAYLOR :
BEAUTIFUL ONE, BAD BUNNY. PRAYER FOR EVIL INTENTIONS
2026-05-30 23:54:54
2
edmonturner
Edmon Turner :
Everybody ain't Loyal everybody ain't ur Friend! yes I Toast to that! yes Lock in! it's God's provisions it's Glorious out here y'all
2026-04-19 16:38:57
5
stefaniepurcell1
sunshine :
let's get it lol ily
2026-04-18 23:03:21
3
chad.orr4
Chad Orr :
amen love you too🥰
2026-04-18 23:32:46
6
toria5351
Sunshine ☀️ :
Amen love you friend 🙏🙏🙏🙏🙏🙏
2026-04-19 01:26:27
5
justanotherguy6506
justanotherguy650 :
WE LOCKED IN FRIEND 💯
2026-04-21 15:30:07
3
carlosacosta9185
carlosacosta9185 :
freennnddddddddddd🥰😉
2026-04-18 22:40:00
5
latashamays2
latashamays2 :
Amen💜💯👑
2026-04-19 13:17:30
3
latonya.stephens8
Latonya Stephens :
friend thank you 💯
2026-04-18 23:48:20
2
arnoldhotard
Paul :
yes
2026-04-28 02:18:09
4
noremorseever
NOREMORSEVER :
LOVE U FRIEND 💖💖💖💖💖
2026-04-19 16:34:55
1
ckiki22
Ckiki22 :
Amen 🫶
2026-04-18 22:53:11
2
eleijah1979
Eleija :
Toast love you too
2026-04-19 01:01:13
3
bobzuccarelli
Bob Zuccarelli :
Thank you I love you
2026-04-21 20:52:16
4
jonimaloney79
Joni :
Love you 😘
2026-04-20 22:13:41
4
nodoze0
nodoze :
😅😂I don't drink
2026-04-20 00:04:24
4
ernestmendoza639
ernestmendoza639 :
that's it baby
2026-04-18 22:34:42
2
To see more videos from user @sierrastrickland2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کچھ عرصہ پہلے کا واقعہ ہے کہ فیصل آباد کی ایک تپتی دوپہر تھی، جہاں سورج آگ برسا رہا تھا۔ وہیں اینٹوں کے ایک پرانے بھٹے پر، مٹی کی بو اور دھوئیں کے درمیان، ساجد نامی ایک غریب مزدور کام کرتا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ مٹی سے گندھے ہوئے تھے اور چہرے پر وقت سے پہلے آئی جھریاں اس کی کٹھن زندگی کی کہانی سناتی تھیں۔۔۔۔۔  ساجد دن بھر سخت مشقت کرتا، تپتے ہوئے تندور جیسے بھٹے سے اینٹیں نکالتا، اور شام کو اسے مزدوری کے صرف 500 روپے ملتے تھے۔۔۔۔ ان 500 روپوں سے اسے اپنے گھر کا چولہا بھی جلانا ہوتا تھا اور بیمار ماں کی دوا بھی لانی ہوتی تھی۔۔۔۔  اس کا اپنا گھر کیا تھا؟ بس ایک کچی جھونپڑی تھی، جس کی چھت پر پرانی لکڑیوں اور پلاسٹک کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ جب بھی فیصل آباد میں تیز بارش ہوتی، اس کی جھونپڑی کی چھت ٹپکنے لگتی۔ وہ رات بھر اپنی ماں کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ کر صبح ہونے کا انتظار کرتا۔ مگر ساجد کا ایمان اس کی جھونپڑی سے کہیں زیادہ مضبوط اور پکا تھا۔۔۔۔  اسی کے محلے میں ایک بیوہ خاتون رہتی تھی، جس کے تین چھوٹے بچے تھے۔ ان کا کوئی کمانے والا نہیں تھا اور وہ اکثر رات کو بھوکے سو جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن غیرتِ نفس کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔۔۔۔۔۔ ساجد کو ان کی اس حالت کا علم تھا۔ اس نے اپنے دل میں ایک عہد کر لیا۔ وہ روزانہ شام کو جب 500 روپے مزدوری لیتا، تو اس میں سے 50 روپے کا ایک نوٹ الگ کر لیتا۔ یہ 50 روپے اس کی کل کمائی کا دسواں حصہ تھے، جس کی اس کی اپنی ٹپکتی چھت کو بہت ضرورت تھی۔ جب رات کا پچھلا پہر ہوتا، پورا محلہ سو جاتا اور گلیوں میں گھپ اندھیرا چھا جاتا، تو ساجد اپنی جھونپڑی سے نکلتا۔۔۔۔۔۔ وہ دبے پاؤں اس بیوہ کے گھر کے باہر پہنچتا۔ اپنے اردگرد دیکھتا کہ کوئی انسان اسے دیکھ تو نہیں رہا اور پھر وہ 50 روپے کا نوٹ اس بیوہ کے دروازے کے نیچے بنے چھوٹے سے سوراخ سے اندر سرکا دیتا۔۔۔۔۔۔  وہ یہ کام اس طرح کرتا کہ لینے والے کو کبھی یہ احساس نہ ہو کہ یہ رقم کس نے دی ہے، تاکہ ان کی عزتِ نفس پر آنچ نہ آئے۔۔۔۔ یہ ساجد اور اس کے رب کے درمیان ایک خاموش سودا تھا۔ مہینوں گزر گئے، یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ ایک شام، بھٹے کا مالک، چوہدری اسلم، کسی کام سے رات گئے وہاں سے گزر رہا تھا جب اس نے ساجد کو اندھیرے میں کسی چور کی طرح گلیوں سے گزرتے دیکھا تو اسے شک ہوا کہ شاید ساجد بھٹے سے کچھ چوری کر کے جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔  وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔ چوہدری نے دیکھا کہ ساجد اس بیوہ کے دروازے کے پاس رکا۔۔۔۔  جیب سے نوٹ نکالا۔۔۔۔۔ دروازے کے نیچے ڈالا۔۔۔۔۔ اور آسمان کی طرف منہ کر کے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔  اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔۔۔۔۔۔  ساجد تو وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔ لیکن چوہدری اسلم وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔۔  اس نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔ جب بیوہ نے دروازہ کھولا تو چوہدری نے پوچھا:
کچھ عرصہ پہلے کا واقعہ ہے کہ فیصل آباد کی ایک تپتی دوپہر تھی، جہاں سورج آگ برسا رہا تھا۔ وہیں اینٹوں کے ایک پرانے بھٹے پر، مٹی کی بو اور دھوئیں کے درمیان، ساجد نامی ایک غریب مزدور کام کرتا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ مٹی سے گندھے ہوئے تھے اور چہرے پر وقت سے پہلے آئی جھریاں اس کی کٹھن زندگی کی کہانی سناتی تھیں۔۔۔۔۔ ساجد دن بھر سخت مشقت کرتا، تپتے ہوئے تندور جیسے بھٹے سے اینٹیں نکالتا، اور شام کو اسے مزدوری کے صرف 500 روپے ملتے تھے۔۔۔۔ ان 500 روپوں سے اسے اپنے گھر کا چولہا بھی جلانا ہوتا تھا اور بیمار ماں کی دوا بھی لانی ہوتی تھی۔۔۔۔ اس کا اپنا گھر کیا تھا؟ بس ایک کچی جھونپڑی تھی، جس کی چھت پر پرانی لکڑیوں اور پلاسٹک کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ جب بھی فیصل آباد میں تیز بارش ہوتی، اس کی جھونپڑی کی چھت ٹپکنے لگتی۔ وہ رات بھر اپنی ماں کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ کر صبح ہونے کا انتظار کرتا۔ مگر ساجد کا ایمان اس کی جھونپڑی سے کہیں زیادہ مضبوط اور پکا تھا۔۔۔۔ اسی کے محلے میں ایک بیوہ خاتون رہتی تھی، جس کے تین چھوٹے بچے تھے۔ ان کا کوئی کمانے والا نہیں تھا اور وہ اکثر رات کو بھوکے سو جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن غیرتِ نفس کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔۔۔۔۔۔ ساجد کو ان کی اس حالت کا علم تھا۔ اس نے اپنے دل میں ایک عہد کر لیا۔ وہ روزانہ شام کو جب 500 روپے مزدوری لیتا، تو اس میں سے 50 روپے کا ایک نوٹ الگ کر لیتا۔ یہ 50 روپے اس کی کل کمائی کا دسواں حصہ تھے، جس کی اس کی اپنی ٹپکتی چھت کو بہت ضرورت تھی۔ جب رات کا پچھلا پہر ہوتا، پورا محلہ سو جاتا اور گلیوں میں گھپ اندھیرا چھا جاتا، تو ساجد اپنی جھونپڑی سے نکلتا۔۔۔۔۔۔ وہ دبے پاؤں اس بیوہ کے گھر کے باہر پہنچتا۔ اپنے اردگرد دیکھتا کہ کوئی انسان اسے دیکھ تو نہیں رہا اور پھر وہ 50 روپے کا نوٹ اس بیوہ کے دروازے کے نیچے بنے چھوٹے سے سوراخ سے اندر سرکا دیتا۔۔۔۔۔۔ وہ یہ کام اس طرح کرتا کہ لینے والے کو کبھی یہ احساس نہ ہو کہ یہ رقم کس نے دی ہے، تاکہ ان کی عزتِ نفس پر آنچ نہ آئے۔۔۔۔ یہ ساجد اور اس کے رب کے درمیان ایک خاموش سودا تھا۔ مہینوں گزر گئے، یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ ایک شام، بھٹے کا مالک، چوہدری اسلم، کسی کام سے رات گئے وہاں سے گزر رہا تھا جب اس نے ساجد کو اندھیرے میں کسی چور کی طرح گلیوں سے گزرتے دیکھا تو اسے شک ہوا کہ شاید ساجد بھٹے سے کچھ چوری کر کے جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔ چوہدری نے دیکھا کہ ساجد اس بیوہ کے دروازے کے پاس رکا۔۔۔۔ جیب سے نوٹ نکالا۔۔۔۔۔ دروازے کے نیچے ڈالا۔۔۔۔۔ اور آسمان کی طرف منہ کر کے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔۔۔۔۔۔ ساجد تو وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔ لیکن چوہدری اسلم وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔ جب بیوہ نے دروازہ کھولا تو چوہدری نے پوچھا: "مائی! یہ جو لڑکا ابھی آیا تھا، یہ یہاں کیا کر رہا تھا؟" بیوہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی: "صاحب جی! میں اس فرشتے کو نہیں جانتی۔ لیکن پچھلے کئی مہینوں سے، جب بھی ہمارے گھر میں آٹا ختم ہونے والا ہوتا ہے، رات کے اندھیرے میں کوئی اس دروازے کے نیچے پیسے ڈال جاتا ہے۔ میں نہیں جانتی وہ کون ہے، لیکن میرا رب جانتا ہے کہ وہ ہمارے لیے غیب کا سہارا ہے۔" یہ سن کر چوہدری اسلم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔ اس کا دل کانپ اٹھا۔ وہ شخص جو روزانہ لاکھوں کا کاروبار کرتا تھا، اس 500 روپے کمانے والے مزدور کے دل کی وسعت کے آگے خود کو بہت چھوٹا محسوس کرنے لگا۔ اگلی صبح، جب ساجد روزانہ کی طرح بھٹے پر مزدوری کے لیے پہنچا اور مٹی گندھنے لگا، تو چوہدری اسلم نے اسے اپنے دفتر میں بلایا۔۔۔۔۔ ساجد ڈر گیا کہ شاید اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔ چوہدری اسلم اپنی کرسی سے اٹھا، ساجد کے مٹی سے بھرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور نم آنکھوں سے بولا: "ساجد! تم نے مجھے اور میری دولت کو شرمندہ کر دیا۔ تم مٹی سے اینٹیں نہیں بناتے، تم تو اپنے ایمان سے سونا بناتے ہو۔ آج سے تم یہاں مزدوری نہیں کرو گے، آج سے تم اس پورے بھٹے کو سنبھالو گے۔۔ اور تمہاری تنخواہ اتنی ہو گی کہ تمہیں کبھی تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔" اور بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اگلے ہی ہفتے، چوہدری اسلم نے اپنے خرچے پر ساجد کی جھونپڑی کی جگہ ایک پکا مکان بنوا دیا۔ وہ چھت جو کبھی بارش میں ٹپکتی تھی، اب ساجد کے ایمان اور توکل کی وجہ سے ایک مضبوط اور محفوظ چھت میں بدل چکی تھی۔۔۔۔۔ جب انسان تنگی میں بھی اللہ کے بندوں کا سہارا بنتا ہے تو کائنات کا مالک غیب سے اس کے حالات ایسے بدلتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ صدقہ کرنے کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں، بس ایک تڑپتا ہوا دل اور سچا ایمان کافی ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں! #pakistanidiarieswithhaseeb

About