@haqeeqattv09: ایران نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قبر پر حملہ کیا، حالانکہ ان کا انتقال اس زمانے سے بہت پہلے ہو چکا تھا جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان واقعات پیش آئے۔ لہٰذا حضرت علیؓ کے نام پر کی جانے والی ان کی سیاست اور تجارت کو سچ نہ سمجھو؛ کیونکہ ان کی حقیقی انتقامی سوچ حضرت علیؓ کے لیے نہیں، بلکہ کسریٰ اور فارس کی سلطنت کے لیے ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا انتقال 21 ہجری (642ء) میں ہوا، جو حضرت علیؓ کے منصبِ خلافت سنبھالنے سے تقریباً 16 سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس بنا پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے نہ تو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ہونے والے فتنے کو پایا، اور نہ ہی وہ کسی ایک فریق کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ایرانیوں اور ایران کے پیروکاروں کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ صحابی حضرت خالد بن ولیدؓ ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل معاملہ کسریٰ کے تخت اور فارس کی اس سلطنت کا بدلہ ہے، جسے حضرت خالد بن ولیدؓ نے زوال سے دوچار کیا۔ اسی لیے میں دعوت دیتا ہوں کہ تاریخ کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے، اور ان فریب کاریوں سے متاثر نہ ہوا جائے جو فارسی عناصر اور ان کے حامی حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے نام پر کرتے ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی شخصیت اس کی ایک واضح مثال ہے، اور ان کی وفات کا حضرت علیؓ و حضرت معاویہؓ کے فتنے سے سولہ سال پہلے ہونا، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان کے دعووں میں تضاد اور نفاق پایا جاتا ہے۔ 2013ء میں ایران کی جانب سے حمص میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی مسجد اور مزار پر حملہ کرنا، پھر اس میں داخل ہو کر قبر کو نقصان پہنچانا، ان کے اسلام سے حقیقی عناد کی ایک دلیل ہے۔ اور یہی دشمنی ان کے پیروکاروں میں بھی منتقل ہو چکی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی حضرت خالد بن ولیدؓ کا ذکر آتا ہے، ان میں تعصب بھڑک اٹھتا ہے—یہ تعصب نہ عراق، نہ عربیت اور نہ ہی اسلام کے لیے ہوتا ہے، بلکہ ایران کے لیے ہوتا ہے جسے وہ گویا اپنا مرکزِ عقیدت بنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے طرزِ عمل میں کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں یہ امت کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں—خواہ وہ عہدِ خلافتِ راشدہ ہو، بنو امیہ کا زمانہ ہو، بنو عباس کا دور ہو یا موجودہ زمانہ۔ حتیٰ کہ جب ہم معرکۂ ذی قار کا ذکر کرتے ہیں، تب بھی یہ لوگ کسریٰ فارس کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس نے عرب عورت کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے زمانے میں اپنی نصرت کا مشاہدہ کرایا۔ جس طرح حضرت خالد بن ولیدؓ نے 15 ہجری (636ء) میں شام کو رومیوں سے آزاد کرایا تھا، اسی طرح 1446 ہجری (2024ء) میں ان کی اولاد نے شام کو فارسی مجوس اور ان کے حامیوں اور روسیوں سے آزاد کرایا۔ 🎯 ✍️ تحریر: مؤرخ تامر الزغاری
جناب سیف اللہ سیدنا خالد رضی اللہ بن ولید پر لاکھوں سلام
2026-05-06 14:48:04
16
Bin Yasir :
اور یہ کب کی بات ہے
2026-04-25 00:35:56
1
zrar bin azwar :
سلام تامر الزغاری💞💞
2026-04-24 20:54:39
1
Irfan Khan Khan Baba :
خدا تعالی ان کو ہدایت دیں لیکن بہت مشکل ہی نظر ارہا ہے
2026-04-24 21:42:41
5
Iltaf Hussain :
great absolutely great remarks
2026-04-24 19:49:38
3
اسفر شیخ🇵🇰🇴🇲 :
المؤرخ البريطاني سير ويليام موير (William Muir): وصف خالد بأنه القائد الأكثر بروزاً في التاريخ الإسلامي المبكر بعد الخلفاء، واعتبره من أعظم الجنرالات في تاريخ العالم بسبب انتصاراته الحاسمة التي ضمنت بقاء الإسلام وتوسعه.
المؤرخ فيليب حتي (Philip K. Hitti): في كتابه "تاريخ العرب"، قارن حملات خالد العسكرية بحملات نابليون وهانيبال، مشيراً إلى قدرته الفائقة على المناورة في الصحراء وتحقيق انتصارات رغم تفوق الأعداء في العدد والعدة.
المؤرخ روي كاساغراندا (Roy Casagranda): يصف خالد بأنه "عبقري عسكري" لم يُهزم قط في أكثر من 100 معركة، ويؤكد أن انتصاراته أعادت تشكيل الجغرافيا السياسية للقرن السابع.
الموسوعة البريطانية (Britannica): تصنفه كأحد أكثر القادة نجاحاً في التاريخ، وتؤكد نجاحه في هزيمة أقوى إمبراطوريتين في ذلك العصر (الساسانية والبيزنطية) في وقت قياسي.
2026-04-25 02:40:31
0
ZeeShan :
حضرت خالد بن ولید رض بھی ھمارے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی ھمارے
حضرت امیر معاویہ رض بھی ھمارے
تمام اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین ھمارے