@chechak1999:

DeNgIz🖤
DeNgIz🖤
Open In TikTok:
Region: UZ
Thursday 23 April 2026 18:33:56 GMT
15009
912
0
88

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @chechak1999, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حال ہی میں حکومتِ پنجاب نے صحتِ عامہ کے تحفظ اور نوجوان نسل کو مہلک عادات سے بچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بروقت قانونی اقدام اٹھایا ہے۔ اس اقدام کے تحت صوبہ بھر میں 'ویپ'  اور 'پوڈ'  کے استعمال، فروخت اور فراہمی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد قانون کا حصہ بن چکا ہے، جس کا مقصد معاشرتی بگاڑ اور طبی نقصانات کی روک تھام ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق، یہ قانون محض علامتی نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ اس قانونی شق کے اہم نکات درج ذیل ہیں:  اب پابندی صرف ان افراد تک محدود نہیں جو ان مصنوعات کی تجارت یا فروخت میں ملوث ہیں، بلکہ ان مصنوعات کا **استعمال** کرنے والے افراد بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔   خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر (FIR) کا اندراج کیا جائے گا۔    یہ ایک قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں مرتکب افراد کو بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ تین سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ یہ قانون سازی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب تعلیمی اداروں، بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ویپنگ ایک 'اسٹیٹس سمبل'  کے طور پر فروغ پا چکی تھی۔ نوجوان نسل، جو اس کے طبی نقصانات سے ناواقف تھی، اسے فیشن اور جدید طرزِ زندگی کا حصہ سمجھ کر اپنا رہی تھی۔ طبی نقطہ نظر سے، ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز پھیپھڑوں اور انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ سماجی نقطہ نظر سے، والدین کے لیے اپنے بچوں کی نقل و حرکت پر ہر وقت نظر رکھنا ممکن نہیں ہوتا، لہذا ریاست کی جانب سے یہ اقدام بچوں کو اس لت سے بچانے کے لیے ایک مؤثر 'حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرے گا۔ ان تمام قانونی پیچیدگیوں اور سخت سزاؤں کے پیشِ نظر، ان تمام افراد، بالخصوص طلبا و طالبات کو، جو اس عادت میں مبتلا ہیں، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس ممنوعہ عمل کو فوری طور پر ترک کر دیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی اور مستقبل کے سنگین نتائج سے محفوظ رہ سکیں۔ #JudicialReview #CriminalLaw #LegalAnalysis #LawAndJustice #SayNoToDrugs
حال ہی میں حکومتِ پنجاب نے صحتِ عامہ کے تحفظ اور نوجوان نسل کو مہلک عادات سے بچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بروقت قانونی اقدام اٹھایا ہے۔ اس اقدام کے تحت صوبہ بھر میں 'ویپ' اور 'پوڈ' کے استعمال، فروخت اور فراہمی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد قانون کا حصہ بن چکا ہے، جس کا مقصد معاشرتی بگاڑ اور طبی نقصانات کی روک تھام ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق، یہ قانون محض علامتی نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ اس قانونی شق کے اہم نکات درج ذیل ہیں: اب پابندی صرف ان افراد تک محدود نہیں جو ان مصنوعات کی تجارت یا فروخت میں ملوث ہیں، بلکہ ان مصنوعات کا **استعمال** کرنے والے افراد بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر (FIR) کا اندراج کیا جائے گا۔ یہ ایک قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں مرتکب افراد کو بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ تین سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ یہ قانون سازی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب تعلیمی اداروں، بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ویپنگ ایک 'اسٹیٹس سمبل' کے طور پر فروغ پا چکی تھی۔ نوجوان نسل، جو اس کے طبی نقصانات سے ناواقف تھی، اسے فیشن اور جدید طرزِ زندگی کا حصہ سمجھ کر اپنا رہی تھی۔ طبی نقطہ نظر سے، ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز پھیپھڑوں اور انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ سماجی نقطہ نظر سے، والدین کے لیے اپنے بچوں کی نقل و حرکت پر ہر وقت نظر رکھنا ممکن نہیں ہوتا، لہذا ریاست کی جانب سے یہ اقدام بچوں کو اس لت سے بچانے کے لیے ایک مؤثر 'حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرے گا۔ ان تمام قانونی پیچیدگیوں اور سخت سزاؤں کے پیشِ نظر، ان تمام افراد، بالخصوص طلبا و طالبات کو، جو اس عادت میں مبتلا ہیں، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس ممنوعہ عمل کو فوری طور پر ترک کر دیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی اور مستقبل کے سنگین نتائج سے محفوظ رہ سکیں۔ #JudicialReview #CriminalLaw #LegalAnalysis #LawAndJustice #SayNoToDrugs

About