@haqeeqatpasand11: پھر میں نے خود کو اللّٰہ کے حوالے کر دیا🥹 جب دل کے سارے دروازے بند ہو جائیں، اور امید کی ہر کرن بجھتی محسوس ہو، تب انسان کا نفس تھک کر بیٹھ جاتا ہے۔ میں نے بھی بہت کوشش کی، منصوبے بنائے، لوگوں سے مدد مانگی۔ مگر ہر تدبیر الٹی پڑتی گئی، ہر دروازہ کھل کر پھر بند ہو گیا، ہر سہارا ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ تب جا کر سمجھ آیا کہ میری دوڑ اپنی حد تک تھی، اس سے آگے میرا اختیار نہیں۔ ایک ایسی رات آئی جب آنسو بھی خشک ہو گئے اور دعا کے لیے الفاظ بھی نہ ملے۔ بس سجدے میں گر کر اتنا کہا کہ یا اللہ، میں ہار گئی اب تو سنبھال۔ یہ جملہ زبان سے نکلا تو لگا جیسے سینے سے کوئی بھاری پتھر ہٹ گیا ہو۔ پھر میں نے خود کو اللہ کے حوالے کر دیا، مکمل طور پر، بغیر کسی "اگر مگر" کے۔ پھر میں نے کہا اب نتیجہ میرا نہیں، تدبیر میری نہیں، فکر میری نہیں۔ عجیب سکون تھا اس لمحے میں، جیسے کوئی بچہ ماں کی گود میں سر رکھ دے۔ دل سے بوجھ اترا تو نیند بھی لوٹ آئی، اور صبح آنکھ کھلی تو دنیا ویسی ہی تھی مگر میں بدل چکی تھی جن باتوں پر رات کو روئی تھی اب ان پر صبر آ گیا تھا۔ جن لوگوں کے رویوں نے توڑا تھا، ان کے لیے دل میں معافی آ گئی تھی۔ کیونکہ جب معاملہ اللہ کے سپرد ہو جائے تو دل انتقام نہیں مانگتا۔ پھر راستے بھی کھلنے لگے، مگر اب میں راستوں کی محتاج نہیں تھی۔ کامیابی ملی تو شکر کیا، تاخیر ہوئی تو سمجھی کہ میرے رب کی کوئی حکمت ہوگی۔ میں نے جان لیا کہ حوالے کرنا بےبسی نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو موسیٰؑ کو دریا کے سامنے کھڑا کر دے اور کہے کہ مارو عصا۔ یہ وہ یقین ہے جو ابراہیمؑ کو آگ میں بےخوف اتار دے۔ یہ وہ توکل ہے جو ہاجرہؑ سے صفا مروہ کے چکر لگواتا ہے، میں نے بس اتنا کیا کہ اپنی "میں" کو مٹا دیا۔ اپنی انا، اپنا غم اپنا زور، سب اس کے قدموں میں رکھ دیا۔ پھر دیکھا کہ جو کام میرے بس میں نہیں تھے، وہ ہونے لگے۔ جن لوگوں کو میں منا نہیں سکتی تھی ان کے دل خود نرم ہو گئے۔ حوالے کرنے کے بعد دعا بھی بدل جاتی ہے۔ پہلے مانگتی تھی کہ "یا اللہ یہ دے دے"، اب کہتی ہوں "یا اللہ جو بہتر ہے وہ دے دے"۔ پہلے شکوہ تھا کہ دیر کیوں ہو رہی ہے، اب شکر ہے کہ تُو سن رہا ہے۔ یہ ایک لائن کا جملہ زندگی کا پورا فلسفہ بدل دیتا ہے۔ پھر میں نے خود کو اللہ کے حوالے کر دیا، اور اس نے مجھے مجھ سے بچا لیا۔ میری جلدبازی سے، میری ناشکری سے، میرے غلط فیصلوں سے۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے وہی لمحہ اصل کامیابی تھا۔ جب میں نے کہا تھا کہ یا رب، آج سے میری کشتی تُو چلائے گا۔ اس دن کے بعد سے ڈوبنے کا ڈر ختم ہو گیا، کیونکہ ناخدا پر بھروسہ ہے۔ تو اگر تم بھی تھک گئے ہو، تو ایک بار دل سے کہہ کر دیکھو۔ پھر میں نے خود کو اللہ کے حوالے کر دیا، اور یقین کرو، اس سے خوبصورت آزادی کوئی نہیں۔ #creatorsearchinsights #unfrezzemyaccount