@7fi17: اخجلتنا يا الله 🥺🤍#لحن #سيد_سلام_الحسيني #التوبه_الي_الله #ياحسين

حُر ʳ
حُر ʳ
Open In TikTok:
Region: IQ
Sunday 26 April 2026 18:40:39 GMT
8312
1173
11
63

Music

Download

Comments

1lix479
محمد علي :
يا الله
2026-07-14 17:43:17
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
K
2026-04-27 01:39:47
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
S
2026-04-27 01:39:37
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
F
2026-04-27 01:39:41
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
G
2026-04-27 01:39:43
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
A
2026-04-27 01:39:35
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
H
2026-04-27 01:39:45
0
7rfi7
حــر ⚜️ :
D
2026-04-27 01:39:39
0
zx0_er7
⤹:♯̶. عقولـي: ✘🇶🇦 :
عجيب ياخي رحمت الله الواسعة ويفرح بتوبت عبدة فرح شديد ياخي شني من رحمه ماشاء الله الهم اردني اليك ردا جميلا
2026-04-29 18:30:16
0
yxc77u
ᴮ :
♥️♥️♥️
2026-04-26 22:02:55
1
hku4576
Xxuu :
🥹🥹🤍🤍
2026-05-16 19:23:48
0
To see more videos from user @7fi17, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Caption: ✍️ سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں  سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے  سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی  سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف  سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں  یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے  ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں  سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں  سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی  سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے  سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں  سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی  جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں  سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں  مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں  پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے  کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں  وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں  کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں  بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا  سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت  مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں  رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں  چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں  کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے  کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں  کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی  اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں  اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں  فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #viralvideo #goviral #foryou #100kviews #fyppppppppppppppppppppppp
Caption: ✍️ سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #viralvideo #goviral #foryou #100kviews #fyppppppppppppppppppppppp

About