@sultanabdulhameeedsani: 📜 “جب سلطان رخصت ہو ا تو محل کی دیواریں بھی خاموش ہو گئیں” یہ منظر عثمانی سلطنت کے اُس غمگین لمحے کو ظاہر کرتا ہے جب شاہی محل کے اندر ایک عظیم شخصیت کا جنازہ اٹھایا گیا۔ چار افراد کندھوں پر تابوت لیے آہستہ قدموں سے چل رہے ہیں، جبکہ اردگرد کھڑے لوگ سر جھکائے سوگ میں ڈوبے ہیں۔ یہ صرف ایک جنازہ نہیں تھا… یہ ایک دور، ایک وقار، ایک طاقت اور ایک تاریخ کی رخصتی تھی۔ جیسے حکمران نے اپنی زندگی میں سلطنت کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی، سازشوں کا مقابلہ کیا، امت کے اتحاد کی بات کی، اور مقدس سرزمینوں کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ جب ایسے لوگ دنیا سے جاتے ہیں… تو صرف خاندان نہیں روتا، نسلیں سوگ مناتی ہیں۔ کہا جاتا ہے اس دن محل کے اندر عجیب خاموشی تھی۔ نوکر، محافظ، خادم، اہلِ خانہ… سب جانتے تھے کہ آج ایک انسان نہیں، ایک باب بند ہو رہا ہے۔ تابوت اٹھانے والوں کے قدم آہستہ تھے… کیونکہ وہ وزن لکڑی کا نہیں، تاریخ کا اٹھا رہے تھے۔ یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقت، تاج اور تخت سب رہ جاتے ہیں… صرف نام اور کردار ساتھ جاتا ہے۔ “سلطان چلا گیا… مگر اس کی غیرت آج بھی زندہ ہے”