@maybeuchi2:

HJ
HJ
Open In TikTok:
Region: DE
Tuesday 28 April 2026 15:37:31 GMT
120870
7869
20
516

Music

Download

Comments

kksrpp
レン :
@p
2026-07-21 18:45:56
0
rileks.4
rileks. :
positive vibes
2026-04-29 14:34:27
7
kaktus1415
⃟ :
Clean
2026-06-13 09:08:08
0
3mr4628
3MR :
احد يعرف الفلتر او الجودة ❤️‍🔥 .
2026-05-07 22:13:09
1
khatdara30
Dara :
2026-05-01 10:09:55
4
131aok17
DMR :
Брат в каком приложении редактируешь можешь подсказать)
2026-05-07 19:09:20
0
wendy28510
Wendy :
What’s the app in last photo
2026-05-24 07:50:08
0
havskb
king :
💚💚💚
2026-05-09 15:07:32
1
josealejandro955
José Alejandro Estra :
😁
2026-05-21 23:08:22
0
she_is_bulletproof_
Fd :
❤️❤️❤️
2026-04-28 20:21:11
0
jhehadha
𝓙 :
🩶🩶
2026-05-03 13:31:03
0
nathennn.1
nathennn.1 :
🥰🥰🥰
2026-04-30 12:49:12
0
gabias4
rna :
@nobody🪽
2026-04-29 15:58:10
0
nub8s
Nuซี่ :
😳😳
2026-05-14 09:51:17
0
botikisabaeya
Bota :
👍🏻
2026-06-26 18:41:07
0
To see more videos from user @maybeuchi2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اسی احتجاج کے دوران طلبہ نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عنا عطا نے کیمپس کے اندر جانے کی کوشش کی، جس پر خواتین طالبات نے ان کا راستہ روکا۔ اس دوران کسی بھی طالب علم نے ڈاکٹر عنا عطا کو نہ گالی دی، نہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عنا عطا نے اپنے شوہر، جو ایک فوجی افسر ہیں، کو فون کیا۔ فوجی افسر کیمپس پہنچے اور کسی سے بات چیت یا صورتحال کے بارے میں پوچھ گچھ کیے بغیر براہِ راست طلبہ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا، جس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ طلبہ کا مقصد کسی فیکلٹی ممبر کی بے عزتی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر عنا عطا کو گالی نہیں دی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو وہ صرف اس لیے کہ طلبہ نے احتجاج کے دوران کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ #repost #fyp #studentsrightsjirga #sarhaduniversity #geonews #pakarmy #colonel #pakistani_tik_tok
حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اسی احتجاج کے دوران طلبہ نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عنا عطا نے کیمپس کے اندر جانے کی کوشش کی، جس پر خواتین طالبات نے ان کا راستہ روکا۔ اس دوران کسی بھی طالب علم نے ڈاکٹر عنا عطا کو نہ گالی دی، نہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عنا عطا نے اپنے شوہر، جو ایک فوجی افسر ہیں، کو فون کیا۔ فوجی افسر کیمپس پہنچے اور کسی سے بات چیت یا صورتحال کے بارے میں پوچھ گچھ کیے بغیر براہِ راست طلبہ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا، جس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ طلبہ کا مقصد کسی فیکلٹی ممبر کی بے عزتی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر عنا عطا کو گالی نہیں دی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو وہ صرف اس لیے کہ طلبہ نے احتجاج کے دوران کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ #repost #fyp #studentsrightsjirga #sarhaduniversity #geonews #pakarmy #colonel #pakistani_tik_tok

About