@umar.ali6460: 🌹🌹🌹🤲🤲🤲🤲🥰😥😥😥😥😥😥😥

🥰  علی  ❤🤔💚
🥰 علی ❤🤔💚
Open In TikTok:
Region: MY
Wednesday 29 April 2026 07:28:54 GMT
57952
4269
158
759

Music

Download

Comments

raffiirafiiraffii
RafeeqAhmad :
asi lagya ye
2026-05-04 04:33:33
0
chatanbadsha1
chataan :
open download option place
2026-05-04 17:18:21
1
ishaqkhanis4
Ishaq khan :
🥰🥰🥰🥰
2026-05-09 17:35:12
3
rehmat.khurasani
rehmat khurasani :
save option on ka
2026-05-01 06:44:38
1
mominmalangafridi8
Momin malang afridi :
❤️Allah day jant naceb ka ameen soma ameen
2026-05-06 13:16:05
2
abdurrehmankhan2725
abdurrehmankhan2725 :
🥺Yara da hadeesona ma serach Kel belkol mufty sab sahee welee de
2026-06-19 21:17:46
0
mafridizakirkhan
M گیلامن افریدی S :
2026-05-01 04:23:41
6
msadiq6004
𝙈 𝙎𝙖𝙙𝙞𝙦⃝🇵🇰 🫡 :
صحیح بخاری و مسلم میں کوئی تضاد نہیں۔ حضرت علیؓ نے ابن عباسؓ کو ٹوکا تھا مگر ابن عباسؓ کا اجتہاد یہ تھا کہ ممانعت صرف جنگی یا خاص حالات کے لیے تھی، عام حالات کے لیے نہیں۔ اسی لیے وہ سن 60 ہجری تک اپنے موقف پر قائم رہے اور ابن زبیرؓ سے ان کا مکالمہ ہوا۔ یہ محض صحابہ کا علمی اختلاف تھا، کسی کی غلطی نہیں
2026-04-30 10:13:50
2
fahim.ullah.salaf
Fahim Ullah Salafi :
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام بخاریؒ کا کسی روایت کو نقل کرنا لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ روایت میں مذکور ہر شخص کے اجتہاد کو درست بھی سمجھتے ہیں۔ متعة کے مسئلے میں: صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخر میں متعة کو حرام قرار دیا۔ حضرت علیؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو اس مسئلے میں متنبہ بھی فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ کا ایک اجتہادی موقف تھا، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے قول سے رجوع بھی کیا۔ امام بخاریؒ نے وہ روایت اس لیے نقل کی کہ: وہ سند کے اعتبار سے صحیح تھی۔ صحابۂ کرام کے درمیان ہونے والے علمی اختلافات بھی دین کے علمی ذخیرے کا حصہ ہیں۔ روایت نقل کرنا اور اس سے استدلال کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر منکرِ حدیث یہ کہیں کہ "ابن عباسؓ کو معلوم نہیں تھا، پھر بخاری نے روایت کیوں نقل کی؟" تو جواب یہ ہے: امام بخاریؒ نے روایت کو بطورِ واقعہ نقل کیا ہے، نہ کہ ابن عباسؓ کے اجتہاد کو حجتِ قطعی قرار دینے کے لیے۔ صحیح بخاری میں بہت سے صحابہ اور تابعین کے مختلف اقوال مذکور ہیں، حالانکہ فیصلہ نبی ﷺ کی صحیح حدیث کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہی روایت تو حدیث کی حجیت پر دلیل بنتی ہے، کیونکہ حضرت علیؓ نے حضرت ابن عباسؓ کے اجتہاد کے مقابلے میں نبی ﷺ کی حدیث پیش کی، اور امت نے بھی اسی حدیث کو اختیار کیا۔ مختصر جواب: امام بخاریؒ نے روایت اس لیے نقل کی کہ وہ تاریخی و سندی اعتبار سے صحیح تھی، نہ اس لیے کہ ابن عباسؓ کا اجتہاد حتمی طور پر درست تھا۔ صحابہ کے اختلافات نقل کرنا محدثین کا طریقہ ہے، جبکہ فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح سنت سے ہوتا ہے۔
2026-06-11 15:51:16
0
shehzad.khan6452
shehzad khan :
🌺🌺🌺🌺
2026-05-17 17:22:14
1
amanajiz2
AMAN AJIZ :
🥰🥰🥰
2026-05-24 16:07:04
1
z.silent.love.s.786
SILENT LOVE S♥️ 786 💫 :
🌹🌹🌹
2026-05-28 01:25:02
1
hamad.wazer
Hamad Wazer :
🥰🥰🥰
2026-05-09 03:22:36
2
To see more videos from user @umar.ali6460, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About