@murtaza_769: محبت کا یہ کون سا انداز ہے جو جنت کو بھی بازار بنا دے، حوروں کو بھی ضمانت میں رکھ دے — اور پھر بھی چہرے پر شرم کی لالی نہ آئے بلکہ ایک معصوم سی مسکراہٹ ہو! یہ شاعر کوئی معمولی عاشق نہیں۔ یہ وہ دیوانہ ہے جو دنیا میں بھی قرض پر جیا، اور اب آخرت میں بھی قرض مانگنے کا ارادہ رکھتا ہے — مگر قرض کس سے؟ اپنے محبوب سے۔ اور ضمانت کیا ہے؟ ستر حوریں! گویا جنت کی دولت کو بھی عشق کی دہلیز پر بچھا دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ عاشق کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا — نہ دنیا میں، نہ جنت میں۔ وہ خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ مانگتا ہے۔ مگر اس کی جرأت دیکھیے کہ گروی بھی رکھتا ہے تو وہ چیز جو اس کی اپنی بھی نہیں! ستر حوریں اس کی ملکیت کہاں؟ مگر عشق میں یہی تو بے باکی ہے — جو ملا نہیں، اسے بھی داؤ پر لگا دو۔ اور لفظ "ادھار مانگیں گے" — یہاں شاعر نے ایک اور نکتہ چھپایا ہے۔ وہ کہتا ہے "مانگیں گے" — یعنی اکیلا نہیں مانگے گا، ساتھ مانگے گا۔ گویا محبوب سے یہ بھی کہہ دیا کہ جنت میں بھی تم میرے ساتھ رہو، ادھار بھی مل کر مانگیں گے، اور اگر قرض نہ ملا تو مل کر مفلس رہیں گے — مگر ساتھ رہیں گے! یہی تو عشق ہے — جہاں غریبی بھی جشن بن جائے، اور جنت کی حوریں بھی محبوب کی ایک نظر کے آگے ہیچ لگیں۔ #fyp #fouryoupage #unfreezmyaccount #standwithkashmir #1millionaddition @TikTok