@hqj6xg36j0: #apple桌布 #台湾 #壁紙 #手机牆紙

柠七《主頁取圖》
柠七《主頁取圖》
Open In TikTok:
Region: TW
Saturday 02 May 2026 10:00:00 GMT
27911
359
4
122

Music

Download

Comments

indy06_1
Rifki Maulani :
😂
2026-06-05 10:55:20
0
nazeer.khan15191
nazeer khan :
🥰🥰🥰
2026-05-02 11:00:33
0
bongkan461
Xᴇɴᴋii :
😳😳😳
2026-05-02 10:14:04
0
user1293915384220
عمر محمد :
🥰🥰🥰
2026-06-10 21:52:51
0
To see more videos from user @hqj6xg36j0, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان میں مسئلہ اس ریاستی ماڈل کا ہے جس نے تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد غریب آدمی کو مدرسے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جب کروڑوں لوگ اپنے بچوں کو معیاری سکول، ہاسٹل، صحت اور روزگار نہیں دے سکتے، تو مدرسہ ان کے لیے صرف مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالتی ہے؟ ضیاء الحق کے دور میں مدرسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک تعلیمی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ سرد جنگ، افغان جہاد اور خطے کی جیوپولیٹکس سے جڑا ہوا عمل بھی تھا۔ لاکھوں نوجوانوں کو ایسی سوچ دی گئی جس میں پیچیدہ سیاسی تنازعات کو مقدس جنگوں کی شکل دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تنقیدی سوچ، سائنس، فلسفہ اور سماجی ترقی کے بجائے شناختی اور فرقہ وارانہ سیاست کو تقویت ملی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مدرسہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد علم، اخلاق اور فہم پیدا کرنا تھا تو پھر ہم ایک ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں افواہ، فتویٰ، ہجوم اور مذہبی اشتعال اکثر دلیل، تحقیق اور برداشت پر غالب آ جاتے ہیں؟ جب تعلیم کا مقصد شہری پیدا کرنے کے بجائے صرف نظریاتی سپاہی پیدا کرنا بن جائے تو معاشرہ سوال پوچھنے والوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ پھر اختلاف رائے کو بحث سے نہیں بلکہ غداری، کفر یا دشمنی کے فتووں سے جواب دیا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ تنقید ایک ریاستی پالیسی، تعلیمی ڈھانچے اور تاریخی فیصلوں پر ہے، نہ کہ کسی مذہب یا تمام مدارس پر عمومی حملہ۔  شکریہ!! # . . . . . . . . . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore
پاکستان میں مسئلہ اس ریاستی ماڈل کا ہے جس نے تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد غریب آدمی کو مدرسے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جب کروڑوں لوگ اپنے بچوں کو معیاری سکول، ہاسٹل، صحت اور روزگار نہیں دے سکتے، تو مدرسہ ان کے لیے صرف مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالتی ہے؟ ضیاء الحق کے دور میں مدرسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک تعلیمی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ سرد جنگ، افغان جہاد اور خطے کی جیوپولیٹکس سے جڑا ہوا عمل بھی تھا۔ لاکھوں نوجوانوں کو ایسی سوچ دی گئی جس میں پیچیدہ سیاسی تنازعات کو مقدس جنگوں کی شکل دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تنقیدی سوچ، سائنس، فلسفہ اور سماجی ترقی کے بجائے شناختی اور فرقہ وارانہ سیاست کو تقویت ملی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مدرسہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد علم، اخلاق اور فہم پیدا کرنا تھا تو پھر ہم ایک ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں افواہ، فتویٰ، ہجوم اور مذہبی اشتعال اکثر دلیل، تحقیق اور برداشت پر غالب آ جاتے ہیں؟ جب تعلیم کا مقصد شہری پیدا کرنے کے بجائے صرف نظریاتی سپاہی پیدا کرنا بن جائے تو معاشرہ سوال پوچھنے والوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ پھر اختلاف رائے کو بحث سے نہیں بلکہ غداری، کفر یا دشمنی کے فتووں سے جواب دیا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ تنقید ایک ریاستی پالیسی، تعلیمی ڈھانچے اور تاریخی فیصلوں پر ہے، نہ کہ کسی مذہب یا تمام مدارس پر عمومی حملہ۔ شکریہ!! # . . . . . . . . . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore

About