@copstrending1: #Cops #copsoftiktok #copsontiktok #copstiktok #police

Cops Trending 👮
Cops Trending 👮
Open In TikTok:
Region: US
Friday 01 May 2026 15:41:47 GMT
473
26
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @copstrending1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب! خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے،  دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا،  ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا، ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں،  خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی, لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے, بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے،  امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے، ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں، ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،  وفاق اپنی پالیسی تبدیل کریں اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے. #CMKP #SohailAfridi #KPPolice #KPSecurity #LawAndOrder #Peace
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب! خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا، ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا، ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی, لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے, بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے، امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے، ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں، ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، وفاق اپنی پالیسی تبدیل کریں اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے. #CMKP #SohailAfridi #KPPolice #KPSecurity #LawAndOrder #Peace

About