@irwansengeti: Untuk pemesanan Sans Hotel Bobohome Jambi bisa melalui aplikasi Reddoors Ya oi, dan masukin kode YUKNGINEP biar dapat harga lebih murah. Sekarang kalian juga bisa pesan via wa ofificial RedDoorz di 0813-2227-795 atau https://wa.link/vmda75 Atau bisa pesan langsung ke hotel dan dapatkan voucher sarapan untuk 2 orang. Gas Gas Gas #redtravellers #bukasemuapintu #reddoorz

irwansengeti - oi oi oi
irwansengeti - oi oi oi
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 02 May 2026 01:58:26 GMT
9800
93
12
18

Music

Download

Comments

bufatriswidia
Bu Fatris Widia :
Mayang Ado jugo
2026-05-02 10:10:47
0
haikalgibrananand
GEOJU :
1
2026-05-02 03:05:28
0
astaghfirullah_655
🇮🇩NETIZEN INDO✅ :
gas oi aku mau nyobain juga 😁
2026-05-07 03:55:00
0
daffaaa.s_
faassgann :
wah terpantau admin fjkt48😂🤭 #Passion200%
2026-05-02 07:08:56
1
s.fatimah85
S.FATIMAH :
@💕🫧 𝑀ISS チITRI 🫧💕 @Nawang aja @wulan88 kapaan weeee
2026-06-03 11:40:37
2
To see more videos from user @irwansengeti, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خلیفہ سوم حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا انتہائی المناک واقعہ ہے، جو 18 ذی الحجہ 35ھ (بروز جمعہ) کو مدینہ منورہ میں پیش آیا۔اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:پس منظر اور محاصرہحضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت کے اواخر میں بعض بیرونی عناصر اور باغیوں نے مختلف شکایات کی آڑ میں فتنہ کھڑا کیا۔ باغیوں نے مدینہ کا رخ کیا اور خلیفہ وقت کے گھر کا لگ بھگ 40 دن تک محاصرہ کر لیا۔ باغیوں نے آپ پر پانی اور خوراک کی ترسیل تک بند کر دی۔حضرت عثمانؓ کا مؤقف صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد آپ کی مدد اور باغیوں سے مقابلے کے لیے تیار تھی، لیکن حضرت عثمانؓ نے شہرِ رسولؐ اور امتِ مسلمہ میں خونریزی سے بچنے کے لیے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا کہ میں اپنے ذاتی دفاع کے لیے مدینہ کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون نہیں بہانا چاہتا۔شہادت کا دن (18 ذی الحجہ 35ھ)باغیوں نے گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور دروازے کو آگ لگا دی۔ اس وقت آپؓ روزے کی حالت میں تھے اور قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے۔ باغی اندر گھس آئے اور آپؓ پر وار کیا۔ آپ کی اہلیہ حضرت نائلہؓ نے دفاع کی کوشش کی تو ان کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔باغیوں نے انتہائی مظلومیت کے ساتھ آپؓ کو شہید کر دیا۔ روایات کے مطابق آپ کا خونِ مبارک قرآن مجید کے ان الفاظ پر گرا:  (اور اللہ تمہاری طرف سے ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہے)۔ باغیوں نے مکان پر حملہ کر دیا، امام حسن ؓ جو دروازہ پر متعین تھے مدافعت میں زخمی ہوئے، چار باغی دیوار پھاند کر چھت پر چڑھ گئے، آگے آگے حضرت ابوبکر ؓ کے چھوٹے بیٹے محمد بن ابی بکر تھے، جو حضرت علی ؓ کی آغوشںِ تربیت میں پلے تھے، یہ کسی بڑے عہدے کے طلب گار تھے جس کے نہ ملنے سے حضرت عثمان ؓ کے دشمن بن گئے تھے، انھوں نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان ؓ کی ریش مبارک پکڑلی اور زور سے کھینچی، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا، بھتیجے! اگر تمھارے باپ زندہ ہوتے تو ان کو یہ پسند نہ آتا، یہ سن کر محمد بن ابی بکر شرما کر پیچھے ہٹ گئے اور ایک دوسرے شخص کنانہ بن بشر نے آگے بڑھ کر پیشانی مبارک پر لوہے کی لاٹ اس زور سے ماری کہ پہلو کے بل گر پڑے، اس وقت بھی زبان سے ‘‘بسم اللہ توکلت علی اللہ’’ نکلا سودان ابن حمران مراوی نے دوسری جانب ضرب لگائی جس سے خون کا فوارہ جاری ہو گیا، ایک اور سنگدل عمر وبن الحمق سینہ پر چڑھ بیٹھا اور جسم کے مختلف حصوں پر پے درپے نیزوں کے نو زخم لگائے، کسی شقی نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، وفادار بیوی حضرت نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا نے جو پاس ہی بیٹھی تھیں ہاتھ پر روکا، تین انگلیاں کٹ کر الگ ہو گئیں، وار نے ذوالنورین ؓ کی شمع حیات بجھا دی، اس بے کسی کی موت پر عالمِ امکان نے ماتم کیا، کائنات ارضی و سماوی نے خون ناحق پر آنسو بہائے، کارکنانِ قضا و قدر نے کہا جو خون آشام تلوار آج بے نیام ہوئی ہے وہ قیامت تک بے نیام رہے گی اور فتنہ وفساد کا جو درازہ کھلا ہے وہ حشر تک کھلا رہے گا۔[122] شہادت کے وقت حضرت عثمان بن عفان ؓ تلاوت فرما رہے تھے، قرآن مجید سامنے کھلا تھا، اس خون ناحق نے جس آیت کو خون ناب کیا وہ یہ ہے:
خلیفہ سوم حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا انتہائی المناک واقعہ ہے، جو 18 ذی الحجہ 35ھ (بروز جمعہ) کو مدینہ منورہ میں پیش آیا۔اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:پس منظر اور محاصرہحضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت کے اواخر میں بعض بیرونی عناصر اور باغیوں نے مختلف شکایات کی آڑ میں فتنہ کھڑا کیا۔ باغیوں نے مدینہ کا رخ کیا اور خلیفہ وقت کے گھر کا لگ بھگ 40 دن تک محاصرہ کر لیا۔ باغیوں نے آپ پر پانی اور خوراک کی ترسیل تک بند کر دی۔حضرت عثمانؓ کا مؤقف صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد آپ کی مدد اور باغیوں سے مقابلے کے لیے تیار تھی، لیکن حضرت عثمانؓ نے شہرِ رسولؐ اور امتِ مسلمہ میں خونریزی سے بچنے کے لیے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا کہ میں اپنے ذاتی دفاع کے لیے مدینہ کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون نہیں بہانا چاہتا۔شہادت کا دن (18 ذی الحجہ 35ھ)باغیوں نے گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور دروازے کو آگ لگا دی۔ اس وقت آپؓ روزے کی حالت میں تھے اور قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے۔ باغی اندر گھس آئے اور آپؓ پر وار کیا۔ آپ کی اہلیہ حضرت نائلہؓ نے دفاع کی کوشش کی تو ان کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔باغیوں نے انتہائی مظلومیت کے ساتھ آپؓ کو شہید کر دیا۔ روایات کے مطابق آپ کا خونِ مبارک قرآن مجید کے ان الفاظ پر گرا: (اور اللہ تمہاری طرف سے ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہے)۔ باغیوں نے مکان پر حملہ کر دیا، امام حسن ؓ جو دروازہ پر متعین تھے مدافعت میں زخمی ہوئے، چار باغی دیوار پھاند کر چھت پر چڑھ گئے، آگے آگے حضرت ابوبکر ؓ کے چھوٹے بیٹے محمد بن ابی بکر تھے، جو حضرت علی ؓ کی آغوشںِ تربیت میں پلے تھے، یہ کسی بڑے عہدے کے طلب گار تھے جس کے نہ ملنے سے حضرت عثمان ؓ کے دشمن بن گئے تھے، انھوں نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان ؓ کی ریش مبارک پکڑلی اور زور سے کھینچی، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا، بھتیجے! اگر تمھارے باپ زندہ ہوتے تو ان کو یہ پسند نہ آتا، یہ سن کر محمد بن ابی بکر شرما کر پیچھے ہٹ گئے اور ایک دوسرے شخص کنانہ بن بشر نے آگے بڑھ کر پیشانی مبارک پر لوہے کی لاٹ اس زور سے ماری کہ پہلو کے بل گر پڑے، اس وقت بھی زبان سے ‘‘بسم اللہ توکلت علی اللہ’’ نکلا سودان ابن حمران مراوی نے دوسری جانب ضرب لگائی جس سے خون کا فوارہ جاری ہو گیا، ایک اور سنگدل عمر وبن الحمق سینہ پر چڑھ بیٹھا اور جسم کے مختلف حصوں پر پے درپے نیزوں کے نو زخم لگائے، کسی شقی نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، وفادار بیوی حضرت نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا نے جو پاس ہی بیٹھی تھیں ہاتھ پر روکا، تین انگلیاں کٹ کر الگ ہو گئیں، وار نے ذوالنورین ؓ کی شمع حیات بجھا دی، اس بے کسی کی موت پر عالمِ امکان نے ماتم کیا، کائنات ارضی و سماوی نے خون ناحق پر آنسو بہائے، کارکنانِ قضا و قدر نے کہا جو خون آشام تلوار آج بے نیام ہوئی ہے وہ قیامت تک بے نیام رہے گی اور فتنہ وفساد کا جو درازہ کھلا ہے وہ حشر تک کھلا رہے گا۔[122] شہادت کے وقت حضرت عثمان بن عفان ؓ تلاوت فرما رہے تھے، قرآن مجید سامنے کھلا تھا، اس خون ناحق نے جس آیت کو خون ناب کیا وہ یہ ہے: "فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللہُo وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ" "خدا تم کو کافی ہے اور وہ سننے اور جاننے والا ہے۔" جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت کا واقعہ پیش آیا، دو دن تک لاش بے گور و کفن پڑی رہی، حرم رسول میں قیامت برپا تھی، باغیوں کی حکومت تھی، ان کے خوف سے کسی کو علانیہ دفن کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی، سنیچر کا دن گذر کر رات کو چند آدمیوں نے ہتھیلی پر جان رکھ کر تجہیز وتکفین کی ہمت کی اور غسل دیے بغیر اسی طرح خون آلود پیراہن میں شہید مظلوم کا جنازہ اٹھایا اور کل سترہ افراد نے کابل سے مراکش تک کے فرماں روا کے جنازہ کی نماز پڑھی، مسند ابن جنبل میں ہے کہ حضرت زبیرؓ بن عوام نے اور ابن سعد میں ہے کہ حضرت جبیر بن معطم ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے پیچھے حش کو کب میں اس حلیم و برد باری کے مجسمہ اور بے کسی ومظلومی کے پیکر کو سپرد خاک کیا[123] بعد کو یہ دیوار توڑکر جنت البقیع میں داخل کر لیا گیا، آج بھی جنت البقیع کے سب سے آخر میں مزار مبارک موجود ہے۔ #islamic_video #vairal #trending #mehar_arslan_yasin🖤🥀 #foryou

About