@vabell.a: Mareta best jadi PA, makanya aku rekomendasiin ke temen2 aku buat pake mareta sebagai PA, ya walau ada aja yg hate katanya percuma S1 tapi malah jadi PA hehe. Jgn di dengerin ya mar, we love u pokoknya<3 semangat kerjanya dua orang yg kecintaan bgt sm aku <3 @BILA L nya satu❤️ @maretaayuya #bellogg

bella
bella
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 02 May 2026 04:32:57 GMT
159335
8586
60
30

Music

Download

Comments

l_cy101
kz|cy :
Pertama kakk dapet apaa😅😅😅
2026-05-02 04:34:10
52
rrrrr.851
r :
spill baju sm rok nya ka belll hihiii
2026-05-02 06:10:17
24
gendutgua
maretaayuya :
Wes angel 🤣🤣
2026-05-02 05:18:29
7
ayunda.yyunda6
ayunda yyunda :
ke enammmm😁😁😁😁
2026-05-02 04:35:30
1
lansyarma
lansyarma :
Ka bela❤️❤️❤️
2026-05-02 04:59:51
1
tiar4_0p
araaaoUps👾 :
pertama nih kk
2026-05-02 04:46:20
2
sudin.1998
Sudin 1998 :
KA Bella bajunya bagus mau minta spill takut gak kebeli😁
2026-05-02 04:40:20
5
aemokhalid
fhatiya 🧚🩷 :
sepi nih
2026-05-02 05:36:12
1
indahjuls
Panggilannya Siapa🤔 :
ko masih sepi😁
2026-05-02 04:34:57
1
prinsa_world
PRinsa 🌱 :
aku nunggu jodohnya Billa. ngikutin kalian dari dulu, selalu memperjuangkan apapun semaksimal itu. bahagia terus ya Bella, Bila, mareta
2026-05-05 04:03:37
3
xxviankaa
౨ৎ 𝓔𝔂𝓲𝓲𝓷 ˖☾.˚ :
ALLOOWW PENGEN DISAPA KA BELLA NIIIIICCH
2026-05-02 04:40:46
2
ccarmenngardenn
Cacaa🐯 :
KAA SAPAAA DONGG
2026-05-02 04:37:18
1
dapurminiequw
Riskykiky :
Spil outfit nya dong ka bel
2026-05-02 05:14:26
1
miloni725
ceci🌷🌷 :
pengen banget di sapa sama ka bella😭😭😭
2026-05-04 14:37:06
1
scdumpys_
♍ :
serah terima enzo kapan kak?
2026-05-02 04:38:35
1
si.efaaaa
Laylaa.efaa :
Kak bell spill outfit
2026-05-02 06:31:38
1
ibrahim.ghifari4
Ibrahim Ghifari :
aku juga kecintaan sama ke Bella dari sebelum nikah sampe skrg anak udah 1tetep aku suka kamu kak,weeloveyou 🥰
2026-05-05 05:10:04
3
carmenit_aaa1
🐰cαɾოҽղíҽ🍄⁉️ :
1 Mei ultah akuu🩷🫰🏻
2026-05-14 12:06:30
1
keppoo43
Pikaacuu🦋 :
kak spill bajunya
2026-05-02 10:17:30
1
iininyh31_
ininay𐙚˚ :
ka bela spill bajunya
2026-05-02 05:04:10
1
28_sep4
rannn :
kangen ka bel+ ka mareta
2026-05-02 04:37:44
2
wednesyay
Wednesyay :
ka bella spil outfit
2026-05-02 07:36:11
1
0hya_4
. :
mareta mirip owner seblak rc karawang gasi?
2026-05-03 07:47:14
1
niyawildheart2
𝓜𝓮.𝓶𝔂𝓼𝓮𝓵𝓯.𝓪𝓷𝓭.𝓲✨ :
hallo kak bella
2026-05-02 04:36:30
1
To see more videos from user @vabell.a, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بسمِ ربِّ الشہداء سلامٌ علیٰ الحسینؑ و علیٰ علیِّ بن الحسینؑ و علیٰ اولادِ الحسینؑ و علیٰ اصحابِ الحسینؑ غمِ شہِ کربلا تو ازل سے اہلِ دل کی متاعِ جاں اور سرمایۂ ایماں رہا ہے، مگر امسال اس غمِ مقدس کے ساتھ ایک اور حزنِ نہاں بھی قلب کے نہاں خانوں میں موجزن ہے؛ ایسا حزن جو شکوہ نہیں، مگر خاموشی کی صورت میں روح پر اترتا رہتا ہے۔ سنا تھا کہ جب ماہِ محرم اپنی سوگوار ساعتوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو کدورتوں کے صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، رنجشوں کے دریچے بند کر دیے جاتے ہیں، اور بیٹیوں کے لیے گھروں کے در وا کر دیے جاتے ہیں۔ مجالسِ عزا برپا ہوتیں، ذکرِ مظلومِ کربلا سے فضا معطر ہوتی، اور اہلِ خانہ ایک ہی دسترخوانِ غم پر جمع ہو کر بی بی سکینہؑ کی غربت اور بی بی سُغریٰؑ کی حسرتِ دیدار کا پرسہ دیتے۔ مگر اس بار گردشِ ایام نے ایک اور ہی منظر دکھایا ہے۔ چہرے موجود ہیں مگر مانوسیت مفقود؛ رشتے قائم ہیں مگر قربت ناپید؛ آشنائی کے دعوے باقی ہیں مگر دل کا محرم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہجومِ آشنا میں بھی ایک انجمنِ تنہائی آباد ہے۔ تاہم اس کیفیتِ ملال میں بھی دل شکر سے خالی نہیں۔ اگر بزمِ خانہ کی وہ پرانی رونقیں نصیب نہیں ہوئیں تو کیا ہوا، مولا حسینؑ نے اپنی عزاداری سے محروم نہیں فرمایا۔ اسیرانِ شام کی یاد میں، مسافرانِ کربلا کی سنت کی پیروی میں، کوچہ و بازار میں عزاداری کا شرف عطا ہوا ہے۔ یہ سعادت بھی کم نہیں کہ انسان اپنی تنہائی کو ماتمِ حسینؑ میں ڈھال دے اور اپنے اشکوں کو کاروانِ کربلا کے قدموں میں نذر کر دے۔ شاید یہی رازِ وفا ہے کہ جب اہلِ دنیا کے در نیم وا یا بستہ نظر آئیں تو بابِ حسینؑ پوری شانِ کرم کے ساتھ کھل جاتا ہے۔ جب دل اپنوں کی بے التفاتی سے بوجھل ہو تو ذکرِ مظلومِ کربلا اسے سہارا دیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو تنہا محسوس کرے تو قافلۂ اسیرانِ شام یہ پیغام دیتا ہے کہ راہِ حق کے مسافر اکثر تنہا ہوتے ہیں، مگر کبھی بے سہارا نہیں ہوتے۔ اے وارثِ آدمؑ و نوحؑ و ابراہیمؑ! اس محرم ہمارے اشک، ہماری حاضری، ہماری خاموش دعائیں اور یہ دلِ شکستہ اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنے غم کی حرارت، اپنی یاد کی حلاوت اور اپنی محبت کے نور سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ۔ السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسینؑ سلامٌ علیٰ قلبِ زینبَ الصبور، و علیٰ غربۃِ سکینۃَ المظلومة، و علیٰ حسرةِ سُغریٰ المنتظرة۔
بسمِ ربِّ الشہداء سلامٌ علیٰ الحسینؑ و علیٰ علیِّ بن الحسینؑ و علیٰ اولادِ الحسینؑ و علیٰ اصحابِ الحسینؑ غمِ شہِ کربلا تو ازل سے اہلِ دل کی متاعِ جاں اور سرمایۂ ایماں رہا ہے، مگر امسال اس غمِ مقدس کے ساتھ ایک اور حزنِ نہاں بھی قلب کے نہاں خانوں میں موجزن ہے؛ ایسا حزن جو شکوہ نہیں، مگر خاموشی کی صورت میں روح پر اترتا رہتا ہے۔ سنا تھا کہ جب ماہِ محرم اپنی سوگوار ساعتوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو کدورتوں کے صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، رنجشوں کے دریچے بند کر دیے جاتے ہیں، اور بیٹیوں کے لیے گھروں کے در وا کر دیے جاتے ہیں۔ مجالسِ عزا برپا ہوتیں، ذکرِ مظلومِ کربلا سے فضا معطر ہوتی، اور اہلِ خانہ ایک ہی دسترخوانِ غم پر جمع ہو کر بی بی سکینہؑ کی غربت اور بی بی سُغریٰؑ کی حسرتِ دیدار کا پرسہ دیتے۔ مگر اس بار گردشِ ایام نے ایک اور ہی منظر دکھایا ہے۔ چہرے موجود ہیں مگر مانوسیت مفقود؛ رشتے قائم ہیں مگر قربت ناپید؛ آشنائی کے دعوے باقی ہیں مگر دل کا محرم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہجومِ آشنا میں بھی ایک انجمنِ تنہائی آباد ہے۔ تاہم اس کیفیتِ ملال میں بھی دل شکر سے خالی نہیں۔ اگر بزمِ خانہ کی وہ پرانی رونقیں نصیب نہیں ہوئیں تو کیا ہوا، مولا حسینؑ نے اپنی عزاداری سے محروم نہیں فرمایا۔ اسیرانِ شام کی یاد میں، مسافرانِ کربلا کی سنت کی پیروی میں، کوچہ و بازار میں عزاداری کا شرف عطا ہوا ہے۔ یہ سعادت بھی کم نہیں کہ انسان اپنی تنہائی کو ماتمِ حسینؑ میں ڈھال دے اور اپنے اشکوں کو کاروانِ کربلا کے قدموں میں نذر کر دے۔ شاید یہی رازِ وفا ہے کہ جب اہلِ دنیا کے در نیم وا یا بستہ نظر آئیں تو بابِ حسینؑ پوری شانِ کرم کے ساتھ کھل جاتا ہے۔ جب دل اپنوں کی بے التفاتی سے بوجھل ہو تو ذکرِ مظلومِ کربلا اسے سہارا دیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو تنہا محسوس کرے تو قافلۂ اسیرانِ شام یہ پیغام دیتا ہے کہ راہِ حق کے مسافر اکثر تنہا ہوتے ہیں، مگر کبھی بے سہارا نہیں ہوتے۔ اے وارثِ آدمؑ و نوحؑ و ابراہیمؑ! اس محرم ہمارے اشک، ہماری حاضری، ہماری خاموش دعائیں اور یہ دلِ شکستہ اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنے غم کی حرارت، اپنی یاد کی حلاوت اور اپنی محبت کے نور سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ۔ السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسینؑ سلامٌ علیٰ قلبِ زینبَ الصبور، و علیٰ غربۃِ سکینۃَ المظلومة، و علیٰ حسرةِ سُغریٰ المنتظرة۔

About