@alihaq2537: * غزل * اُٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو بھری بہار میں پہنچی خِزاں مٹانے کو قدم اُٹھاےٗ جو کلیوں نے مُسکرانے کو جلایا آتشِ گُل نے چمن میں ہر تِنکا بہار پھُونک گیٗ میرے آشیانے کو جمالِ بادہ و ساغر میں ہیں رُمُوز بہت مری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو قدم قدم پہ رُلایا ہمیں مقدّر نے ہم اُن کے شہر میں آےٗ تھے مُسکرانے کو نہ جانے اب وہ مجھے کیا جواب دیتے ہیں سنا تو دی ہے اُنہیں داستاں " سنانے کو " کہو کہ ہم سے رہیں دُور، حضرتِ واعظ بڑے کہیں کے یہ آےٗ سبق پڑھانے کو اب ایک جشنِ قیامت ہی اور باقی ہے اداوٗں سے تو وہ بہلا چکے زمانے کو شبِ فراق نہ تم آسکے نہ موت آیٗ غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو نصیرؔ جِن سے توقع تھی ساتھ دینے کی تُلے ہیں مُجھ پہ وُہی اُنگلیاں اُٹھانے کو کلام حضرت الشیخ سید نصیر الدین نصیرؔ جیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ گولڑہ شریف #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰