@saqi.writes852: رات کے سنائے میں ایک پرانی کھڑکی کے پاس ایک تھکا ہوا دل بیٹھا ہے۔ چاندنی مدھم ہے، جیسے آسمان نے بھی اپنا نور کھو دیا ہو۔ ہوا میں خاموشی گھلی ہے، مگر اس خاموشی میں یادوں کی بازگشت گونج رہی ہے۔ وہ یادیں جو دل کے کسی کونے میں ابھی تک سانس لے رہی ہیں۔ کبھی یہی راتیں ہنسی سے بھری ہوتی تھیں وہی چاندنی خوشبو بن کر دل کو چھو جاتی تھی۔ مگر اب بر روشنی ادھوری لگتی ہے۔ وہ چہرہ جو کبھی خوابوں میں مسکراتا تھا، اب خوابوں سے بھی روٹھ گیا ہے۔ دل روز سمجھاتا کہ ہے سب ختم ہو چکا ہے، مگر آنکھیں اب بھی اُسی دروازے پر لگی رہتی ہیں جہاں سے وہ آخری بار گزری تھی۔ وقت بدل گیا موسم گزر گئے مگر دل کا موسم ویسا ہی ہے۔ دن میں سب ٹھیک ہے، مگر رات آتے ہی سب بکھر جاتا ہے۔ اُس کی آواز اُس کی مسکراہٹ اُس کا نام ۔ سب ذہن میں گونجتا ہے۔ اور دل کہتا ہے، کاش وہ ایک بار پھر لوٹ آئے۔ لوگ کہتے ہیں بھول جاؤ مگر کوئی نہیں سمجھتا کہ کچھ لوگ بھولنے کیلئے نہیں ہوتے۔ وہ دل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو دل !!!!... اپنے ہی حصے کو دفنا دیتا ہے