@cococoni.moya: Yo automáticamente mostrando mi anillo 😂💍 #humor #anillodepromesa #anillodecompromiso #amigas

Coni 💕✨
Coni 💕✨
Open In TikTok:
Region: CL
Sunday 03 May 2026 16:25:14 GMT
2736431
204366
290
39859

Music

Download

Comments

daaanivv18
Dani🤍 :
Que terrible que respeten más un anillo que un simple NO😭
2026-05-05 16:18:19
41586
ia.oniss
IA :
El hombre respeto el anillo al instante, en efecto, es un caballero
2026-06-19 17:02:13
2905
lajavi_a
lajavi :
Tus amigas 10/10
2026-05-04 00:43:44
3940
adharaphoenixs
Adhara Phoenix's :
Con el no del principio era suficiente, gracias
2026-06-22 00:11:42
146
travel.kombii
Travel.kombi :
Yo doy clases a univeritarios y soy joven. Siempre prefiero ir con anillo porque instantáneamente pone limites
2026-05-04 02:10:07
3519
xandre_lex0
𝄢𝖃𝖆𝖓𝖉𝖗𝖊 𝕷𝖊𝖝 ☽࿐ :
Aquí el claro ejemplo de que si no traía anillo y no lo mostraba y solo decía no, iba a seguir insistiendo. A diferencia de con el anillo, que al verlo se alejo y aunque irritado no insistió más.
2026-05-05 02:49:35
7471
alexruizmoreno1
Alex Ruiz Moreno :
ora que marriot aJajajaja
2026-06-24 22:15:47
37
bluehniee
cao🍒 :
que rabia que no acepten un no como respuesta
2026-05-05 15:47:58
149
vlmendra_
Almendra :
JAAJAJJ mis caras diciéndolo todo 😂
2026-05-03 18:13:01
521
vikauribe
vicky🪼 :
Lamentablemente solo cuando ven que le perteneces a alguien más dejan de insistir
2026-05-06 16:20:34
106
sofiazagal
Sofi Zagal :
JAAJAJJA el momento mas random del dia
2026-05-03 17:17:43
369
priscillacazo
Priscila Cazo :
Ayyy yo cuando iba de carrete (fiesta) siempre andaba con uno y me salvo muchas veces 💜🫶🏼
2026-05-03 22:54:02
694
_v4n333333
Vane :
Ay amiga, es que estás bellisimaaa
2026-05-04 00:19:31
144
jmlr17
JML :
Marriot dice jaja
2026-05-13 21:32:33
15
alitardzmtz
Alita Rdz :
Por eso ya quiero mi anillo 😞 aunque no me lo crean. 😂 La verdad a veces un simple “no” es insuficiente…
2026-06-24 20:30:43
8
przcab
przcab :
no debería tener wuemostral el anillo para que la dejara en paz
2026-05-06 19:30:38
18
deborvmmo3
Debora Monserrat :
Me paso en mi trabajo 🥲, todos los días atendía px Dipreca tomándoles electrocardiograma por tanto tenían que descubrirse el pecho y siempre se pasaban pa la punta conmigo por más que pusiera límites, lástima pero igual bien:/ que al empezar a usar un anillo dejaron de molestarme.
2026-05-04 01:16:29
465
ngv0555555
Nat :
Y las amigas son el reflejo de lo que eres, muy bien🥰
2026-05-04 13:11:42
93
ayudemos.777gmail.com
Cuidado temporal :
viendo a sus amigas te das cuenta que tú entorno importa e influye mucho, así que antes de comprometerse con alguien, miren su entorno primero
2026-05-07 15:11:55
12
lexinnitus
Aᥣᥱxιᥲ | TXT⁵ :
Pero cuántas veces tienes que decir que no 😭 que horror
2026-05-06 03:33:15
7
casitadejosefa
casitadejosefa :
tuvo la mala suerte de que estaba grabando😅
2026-05-04 12:36:25
378
caaaaaaaaaaaaaaaaaaamila
Cami :
Ay amiga yo tengo mis dos anillos y no uso ninguno por que despues de mi embarazo me quedaron los dedos inchadooooooos jdjdjsjs😂
2026-05-04 00:53:46
193
To see more videos from user @cococoni.moya, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ شخص جس نے یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان کا راستہ چنا پھر دنیا نے اسے
وہ شخص جس نے یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان کا راستہ چنا پھر دنیا نے اسے "محسنِ پاکستان" کے نام سے جانا ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو برطانوی ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952 میں ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر آیا۔ وہ یورپ کی معروف لیبارٹریوں میں کم کر رہے تھے، جہاں بہترین تنخواہ، جدید سہولیات اور روشن مستقبل ان کے قدم چوم رہا تھا، مگر ان کے دل میں پاکستان ہر وقت زندہ تھا۔ 18 مئی 1974 کو بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ یہ خبر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ کئی دن تک وہ بے چین رہے۔ ان کے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرتا رہا۔ "اگر پاکستان نے بھی اپنی دفاعی طاقت مضبوط نہ کی تو کیا ہوگا؟" بالآخر انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ 17 ستمبر 1974 کو انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک تفصیلی خط لکھا۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ اگر حکومت اعتماد کرے تو وہ اپنی تعلیم، تجربہ اور مہارت پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کرنے کو تیار ہیں۔ چند ماہ بعد انہیں پاکستان بلایا گیا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے، جن سے حکومت کافی متاثر ہوئی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب انہوں نے یورپ کی پرتعیش زندگی، بھاری تنخواہ اور محفوظ مستقبل کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 1975 میں پاکستان واپس آگئے۔ یہ صرف ایک ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے خواب کا آغاز تھا جسے پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ کہوٹ لیبارٹری... جہاں تاریخ لکھی جا رہی تھی پاکستان واپسی کے بعد انہیں انتہائی محدود وسائل، عالمی دباؤ اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہوٹہ میں قائم ہونے والی لیبارٹری میں دن رات تحقیق جاری رہی۔ جدید مشینری دستیاب نہیں تھی، ضروری پرزے حاصل کرنا مشکل تھا اور ہر قدم پر رازداری ضروری تھی۔ مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری۔ سالوں کی مسلسل محنت کے بعد پاکستان یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جو ملکی دفاع کی بنیاد بن گئی۔ 1998... جب پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں مئی 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے بھی چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربات کیے۔ یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین باب بن گیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں متعدد سائنس دانوں، انجینئرز، فوجی ماہرین اور اداروں نے کردار ادا کیا، تاہم عوامی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کامیابی کی سب سے نمایاں علامت بن کر سامنے آئے۔ اسی دن سے ان کا نام پاکستان کے دفاع اور قومی خودمختاری کے ساتھ جڑ گیا۔ مشکلات برداشت کیں، برسوں خفیہ ماحول میں کام کیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمیشہ کہتے تھے: "کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے تعلیم یافتہ، باکردار اور محنتی نوجوان ہوتے ہیں۔" وہ چاہتے تھے کہ پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو۔ اعزازات اور عوامی محبت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ لیکن ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز پاکستانی عوام کی محبت ہے۔ وفات... مگر نام ہمیشہ زندہ رہے گا 10 اکتوبر 2021 کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کی خبر نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ لاکھوں پاکستانیوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، کیونکہ ان کی نظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک سائنس دان نہیں بلکہ قومی خوداعتمادی اور دفاعی صلاحیت کی ایک نمایاں علامت تھے۔ تاریخی ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان کی زندگی کے بعض پہلو بین الاقوامی سطح پر تنازعات کا موضوع رہے، تاہم پاکستان میں ان کی سائنسی خدمات اور قومی دفاع میں کردار کے باعث وہ آج بھی بڑے احترام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آئیں ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یااللہ عبدالقدیر خان کی مغفرت فرما۔ ان کے درجات بلند فرما۔ ان کے لیے آخرت کی زندگی میں انعامات کی بارش عطا فرما ۔۔ ان کو حوض کوثر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے پانی پلا ۔۔۔۔ آمین
وہ شخص جس نے یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان کا راستہ چنا پھر دنیا نے اسے
وہ شخص جس نے یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان کا راستہ چنا پھر دنیا نے اسے "محسنِ پاکستان" کے نام سے جانا ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو برطانوی ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952 میں ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر آیا۔ وہ یورپ کی معروف لیبارٹریوں میں کم کر رہے تھے، جہاں بہترین تنخواہ، جدید سہولیات اور روشن مستقبل ان کے قدم چوم رہا تھا، مگر ان کے دل میں پاکستان ہر وقت زندہ تھا۔ 18 مئی 1974 کو بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ یہ خبر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ کئی دن تک وہ بے چین رہے۔ ان کے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرتا رہا۔ "اگر پاکستان نے بھی اپنی دفاعی طاقت مضبوط نہ کی تو کیا ہوگا؟" بالآخر انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ 17 ستمبر 1974 کو انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک تفصیلی خط لکھا۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ اگر حکومت اعتماد کرے تو وہ اپنی تعلیم، تجربہ اور مہارت پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کرنے کو تیار ہیں۔ چند ماہ بعد انہیں پاکستان بلایا گیا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے، جن سے حکومت کافی متاثر ہوئی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب انہوں نے یورپ کی پرتعیش زندگی، بھاری تنخواہ اور محفوظ مستقبل کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 1975 میں پاکستان واپس آگئے۔ یہ صرف ایک ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے خواب کا آغاز تھا جسے پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ کہوٹ لیبارٹری... جہاں تاریخ لکھی جا رہی تھی پاکستان واپسی کے بعد انہیں انتہائی محدود وسائل، عالمی دباؤ اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہوٹہ میں قائم ہونے والی لیبارٹری میں دن رات تحقیق جاری رہی۔ جدید مشینری دستیاب نہیں تھی، ضروری پرزے حاصل کرنا مشکل تھا اور ہر قدم پر رازداری ضروری تھی۔ مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری۔ سالوں کی مسلسل محنت کے بعد پاکستان یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جو ملکی دفاع کی بنیاد بن گئی۔ 1998... جب پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں مئی 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے بھی چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربات کیے۔ یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین باب بن گیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں متعدد سائنس دانوں، انجینئرز، فوجی ماہرین اور اداروں نے کردار ادا کیا، تاہم عوامی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کامیابی کی سب سے نمایاں علامت بن کر سامنے آئے۔ اسی دن سے ان کا نام پاکستان کے دفاع اور قومی خودمختاری کے ساتھ جڑ گیا۔ مشکلات برداشت کیں، برسوں خفیہ ماحول میں کام کیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمیشہ کہتے تھے: "کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے تعلیم یافتہ، باکردار اور محنتی نوجوان ہوتے ہیں۔" وہ چاہتے تھے کہ پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو۔ اعزازات اور عوامی محبت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ لیکن ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز پاکستانی عوام کی محبت ہے۔ وفات... مگر نام ہمیشہ زندہ رہے گا 10 اکتوبر 2021 کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کی خبر نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ لاکھوں پاکستانیوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، کیونکہ ان کی نظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک سائنس دان نہیں بلکہ قومی خوداعتمادی اور دفاعی صلاحیت کی ایک نمایاں علامت تھے۔ تاریخی ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان کی زندگی کے بعض پہلو بین الاقوامی سطح پر تنازعات کا موضوع رہے، تاہم پاکستان میں ان کی سائنسی خدمات اور قومی دفاع میں کردار کے باعث وہ آج بھی بڑے احترام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آئیں ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یااللہ عبدالقدیر خان کی مغفرت فرما۔ ان کے درجات بلند فرما۔ ان کے لیے آخرت کی زندگی میں انعامات کی بارش عطا فرما ۔۔ ان کو حوض کوثر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے پانی پلا ۔۔۔۔ آمین

About