Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@lil.hamsandwhich: 🤣🤣🤣Give it away #lilbuckem #lilhamsandwhich #xbcyza #blowthisup #fypシ
Lil Hamsandwhich
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 03 May 2026 18:05:10 GMT
57795
5434
63
940
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.67MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.42MB
)
Watermark .mp4 (
0.58MB
)
Music .mp3
Comments
AI :
😭😂😂Js give it away
2026-05-06 17:55:58
3
tmartin234 :
Facts 😂😂😂😂
2026-06-30 05:31:41
0
lulsplatt3 :
Stampk
2026-05-31 07:49:00
0
m :
manee🤣🤣🤣
2026-05-03 18:09:54
1
YxngCalimade :
On bro 😂😂💯
2026-05-25 02:27:35
0
Luh bloc :
oml😂
2026-05-07 22:00:26
0
¿ :
Noo bapp 😂😂😂
2026-05-04 21:31:52
0
vv :
lmaooo
2026-05-11 09:56:24
0
✨ Your Favorite 😍 :
That part 😂
2026-05-25 13:25:17
1
Slab Alott :
literally
2026-05-03 18:58:36
0
I love petite girls :
The best one im talking about peanut butter🎚️
2026-05-03 18:20:06
8
1uh5ive :
gng stop doing ts😭
2026-05-03 18:07:28
2
🤷♂️ :
Ain’t on shi
2026-05-10 00:29:52
0
MKAIOR🎀🩰 :
just wasting peoples time
2026-06-21 06:42:00
0
To see more videos from user @lil.hamsandwhich, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
This is a safe space
#小說推文 #小說推薦 #fyp #小說 #因為一個片段看了整部劇
@Rafael Cabral @Cê Tá Doido Festival @Panda 🐼 @Ícaro e Gilmar @Humberto e Ronaldo #mjmusiccy
Do you think the bent neck lady was evil? #scarystories #paranormal #truehorrorstories #creepystory #unexplained spooky baby shout outs- @Dray @Steph Reid
Hình nền Lamine Yamal #xuhuong #wallpapers #lamineyamal #bongda #bacelona
فلم ستلج کے مرکزی اور اصل کردار یعنی جسونت سنگھ اسلام آباد بھی آچکے ہیں۔ یہ تب معلوم ہوا جب فلم دیکھتے دیکھتے تجسس کی اتہاء تک پہنچ گیا اور آخر تک سارے نام پڑھتے چلا گیا۔ وہیں جسونت کی اسلام آباد فیصل مسجد کے سامنے اپنی فیملی کے ساتھ تصویر بھی نظر آئی۔ فلم ستلج انڈین پنجاب کے اس عشرے کی کہانی ہے جب ماورائے عدالت قت۔ل عام ہو رہا تھا۔ فلم کی کہانی ایک بینک افسر کے گرد گھومتی ہے جو اپنے قریبی دوست اور اس کی والدہ کی گمشدگی کے بعد سچ کی تلاش شروع کرتا ہے۔ یہ تلاش اسے ایسے نظام تک لے جاتی ہے جہاں لاوارث لا۔شیں اور لوگوں کا خفیہ ریکارڈ بے نقاب ہوتا ہے اور جیسے جیسے وہ تہہ تک پہنچتے ہے طاقتور حلقوں کا دباؤ ان کی ذاتی زندگی تک کو نگل جاتا ہے۔ کہانی بتا کر سپوائلر نہیں دے سکتا البتہ کسی حد تک تاریخ کو کرید سکتے ہیں۔ 1984 میں اپریشن بلیو سٹار اور اندرا گاندھی کے قت۔ل کے بعد جو کچھ پنجاب میں ہوا اسے تاریخ نے decade of darkness کا نام دیا ہے۔ 1984 سے 1995 تک کا یہ وہ عرصہ تھا جس کے اختتام پر جسونت سنگھ کھالڑا کی جبری گمشدگی ہوئی۔ اس دور میں پولیس کو مشتبہ شدت پسندوں کو کسی بھی بہانے حراست میں رکھنے کا اختیار مل گیا تھا اور ان پر الزام یہ لگا کہ نہتے مشتبہ افراد کو جعلی مقا۔بلوں میں ما۔ر کر ہزاروں لا۔شیں خاموشی سے جلا دی گئیں۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فلم کے سکرپٹ کے موافق عام لوگوں کو بھی پا۔ر کیا جاتا تھا۔ جسونت سنگھ کھالڑا امرتسر میں ایک بینک کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کے ساتھی پیارا سنگھ کو پولیس مقابلے میں ما۔ر دیا گیا۔ پھر وہ گمشدہ ساتھیوں کی تلاش میں نکلے تو امرتسر میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ میں ایسے ناموں، عمر اور پتوں کی فہرست ملی جو مار۔ے گئے اور بعد میں جلائے گئے تھے لیکن انہیں لاوارث لکھا گیا۔ یہ سلسلہ صرف امرتسر تک محدود نہ رہا۔ تحقیق مزید تین اضلاع تک پھیل گئی اور فہرست ہزاروں میں جا پہنچی۔ یہ کوئی الزام تراشی نہیں تھی۔ انڈیا کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے خود تصدیق کی کہ صرف تارن تارن ضلع میں پولیس نے 2097 افراد کی غیر قانونی آخری رسومات ادا کیں۔ کھالڑا کا اپنا اندازہ اس سے کہیں آگے کا تھا۔ پورے پنجاب میں 25 ہزار سے زائد سکھ شہریوں کو اسی طرح غیر قانونی طور پر قت۔ل کر کے جلائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ انڈیا کی سپریم کورٹ اور قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس ڈیٹا کی توثیق کی۔ جسونت سنگھ کی جستجو جاری رہی اور وہ ان لاوارث لا۔شوں کے وارث مانے جانے لگے۔ جنوری 1995 میں انہوں نے ایک ہنگامہ خیز پریس کانفرنس کی، انڈین عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر کینیڈا اور برطانیہ کا سفر کیا تاکہ یہ شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے جا سکیں۔ حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی۔ جسونت سنگھ کی یہ تگ و دو جاری ہی تھی کہ وہ صبح آئی جس نے سب کچھ بدل دیا۔ 6 ستمبر 1995 کو جسونت کو ان کے امرتسر کے کبیر پارک والے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق وہ اپنی گاڑی دھو رہے تھے کہ ایک ماروتی وین رکی اور پولیس اہلکار انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ تارن تارن کے ایس ایس پی نے د۔ھمکی دی تھی کہ اگر جسونت 25 ہزار لا۔شوں کی بات کرتے رہے تو یہ گنتی 25 ہزار 1 ہوسکتی یعنی یہ جسونت کو دھمکی تھی۔ یوں جسونت کو اس اغواء کے بعد 45 سے 50 دن حراست میں رکھا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور بالآخر جعلی مقابلے میں مار دیا گیا۔ عدالتی کارروائی ہوتی رہی۔ انصاف دیر سے سہی لیکن پہنچا ضرور۔۔۔ دو پولیس اہلکاروں کو 2005 میں عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ چار مزید ملزماب کی سزا 2007 میں ہائی کورٹ نے عمر قید تک بڑھا دی اور 2011 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے مظالم پر سخت ریمارکس دیے۔ پرمجیت کور کھالڑا جسونت سنگھ کی اہلیہ ہیں۔ وہ اس وقت گرو نانک دیو یونیورسٹی امرتسر میں لائبریرین تھیں۔ انہوں نے شوہر کے قت۔ل کے بعد گھر بیٹھنا گوارا نہ کیا۔ انہوں نے 1995 میں کھالڑا ایکشن کمیٹی بنائی جو 1998 میں کھالڑا مشن کمیٹی اور بعد میں کھالڑا مشن آرگنائزیشن کہلائی اور گمشدہ افراد کے انصاف کی جنگ جاری رکھی۔ یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر 1999 میں تارن تارن سے لوک سبھا الیکشن لڑا لیکن ہار گئیں اور 2019 میں کھڈور صاحب حلقے سے دوبارہ میدان میں اتریں جہاں دو لاکھ سے زائد ووٹ لے کر بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ آج بھی وہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ اسی مشن سے جڑی ہیں۔۔ تدوین ادیب یوسفزئی #Satluj #diljitdosanjh #IndiaNews Copied
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy