@tiktokdance.studio: Bum bum bum trend 💖 @alencarzão #tiktokdance #dance #viral #trend #fyp

TikTok Dance Station
TikTok Dance Station
Open In TikTok:
Region: EG
Sunday 03 May 2026 18:30:31 GMT
716194
7600
74
793

Music

Download

Comments

kristalguadalupevelazque
Muñeca :
quien más vio a Arthur dormido
2026-05-13 19:41:31
9
cgsrac1
7theRANGER7 :
çok komik
2026-06-16 19:55:36
1
beberries1
K.A.T🤯 :
arthur is very lucky he haves u😓
2026-05-13 03:40:35
1
medinefato.ahiner
Medine Şahiner🇧🇷 :
2026-05-19 14:22:23
1
dayanamanualidades
Dayana-manualidades💝 :
Arthur no está dormido solo está hechado
2026-05-16 02:26:13
1
garycreik
JJJ. :
te amo 💓💓💓💓💓😍😍😍❤️❤️🥰🥰🥰😘😘🫂🫂🫂🫂🫦🫦🫦🫶🫶👯‍♀️👯‍♀️👯‍♀️👭👭
2026-05-10 23:13:17
1
franrodriguesgmail.com
Fran Rodrigues :
JADE
2026-05-21 14:46:47
0
alessandravender4
-IVANDRAGOSIGMA- :
2026-05-24 12:55:34
1
coppolinaaa013
anii❤️ :
hahahha bella
2026-06-18 13:50:01
0
danicel099
Dayana🤍🤍. :
hermosa como siempre alez🥰🥰🥰
2026-06-21 03:46:12
0
user34266274889114
user3426627488911 :
Vu
2026-06-19 14:21:14
0
leanasamano
🌺🌸Aurora🌸🌺 :
is your name Arkeisha?
2026-06-21 04:48:39
0
To see more videos from user @tiktokdance.studio, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نواب نوروز خان زرکزئی  (پیدائش: 1875، ضلع خضدار) بلوچستان کے ایک معزز قبائلی رہنما تھے جو برطانوی دور سے ہی مزاحمتی تحریکوں میں سرگرم رہے۔ انہوں نے 1908–1910 کے دوران سرکاری ملازمت کی، مگر اپنے بھائی کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد ملازمت چھوڑ کر جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ 1914 سے 1932 تک وہ مختلف بغاوتوں کی قیادت کرتے رہے اور کئی بار گرفتار ہو کر مختلف جیلوں میں قید رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ریاستِ قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ 1958 میں جب خان آف قلات میر احمد یار خان کو گرفتار کیا گیا اور ون یونٹ نافذ ہوا تو بلوچستان میں بے چینی پھیل گئی۔ اس کے بعد نواب نوروز خان نے دوبارہ مسلح مزاحمت شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کیا جائے، خان آف قلات کو رہا کیا جائے اور بلوچستان کی حیثیت بحال کی جائے۔ حکومت نے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا۔ نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کے لیے قرآن کو بطور ضمانت پیش کیا گیا۔ اس یقین دہانی پر وہ نیچے آئے، مگر بعد میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر فوجی عدالت میں بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی، لیکن نواب نوروز خان کی زیادہ عمر (تقریباً 85 سال) کی وجہ سے ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ باقی سات افراد کو 15 جولائی 1960 کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں ان کا بیٹا بٹے خان سمیت دیگر ساتھی شامل تھے، جنہیں حیدرآباد اور سکھر جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ روایات کے مطابق جب ان کے بیٹے اور ساتھیوں کی لاشیں ان کے سامنے لائی گئیں تو انہوں نے غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ غم کا نہیں بلکہ فخر کا مقام ہے۔ نواب نوروز خان نے جیل میں رہتے ہوئے معافی کی تمام پیشکشیں مسترد کر دیں اور آخرکار 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل میں وفات پا گئے۔ بعد میں انہیں قلات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ یہ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جسے کچھ لوگ جدوجہد اور قربانی کی علامت جبکہ کچھ ریاستی بغاوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
نواب نوروز خان زرکزئی (پیدائش: 1875، ضلع خضدار) بلوچستان کے ایک معزز قبائلی رہنما تھے جو برطانوی دور سے ہی مزاحمتی تحریکوں میں سرگرم رہے۔ انہوں نے 1908–1910 کے دوران سرکاری ملازمت کی، مگر اپنے بھائی کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد ملازمت چھوڑ کر جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ 1914 سے 1932 تک وہ مختلف بغاوتوں کی قیادت کرتے رہے اور کئی بار گرفتار ہو کر مختلف جیلوں میں قید رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ریاستِ قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ 1958 میں جب خان آف قلات میر احمد یار خان کو گرفتار کیا گیا اور ون یونٹ نافذ ہوا تو بلوچستان میں بے چینی پھیل گئی۔ اس کے بعد نواب نوروز خان نے دوبارہ مسلح مزاحمت شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کیا جائے، خان آف قلات کو رہا کیا جائے اور بلوچستان کی حیثیت بحال کی جائے۔ حکومت نے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا۔ نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کے لیے قرآن کو بطور ضمانت پیش کیا گیا۔ اس یقین دہانی پر وہ نیچے آئے، مگر بعد میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر فوجی عدالت میں بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی، لیکن نواب نوروز خان کی زیادہ عمر (تقریباً 85 سال) کی وجہ سے ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ باقی سات افراد کو 15 جولائی 1960 کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں ان کا بیٹا بٹے خان سمیت دیگر ساتھی شامل تھے، جنہیں حیدرآباد اور سکھر جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ روایات کے مطابق جب ان کے بیٹے اور ساتھیوں کی لاشیں ان کے سامنے لائی گئیں تو انہوں نے غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ غم کا نہیں بلکہ فخر کا مقام ہے۔ نواب نوروز خان نے جیل میں رہتے ہوئے معافی کی تمام پیشکشیں مسترد کر دیں اور آخرکار 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل میں وفات پا گئے۔ بعد میں انہیں قلات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ یہ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جسے کچھ لوگ جدوجہد اور قربانی کی علامت جبکہ کچھ ریاستی بغاوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

About