@llann0sh: #llann0sh #tiktok #views_video

﮼لەنۆش🧸
﮼لەنۆش🧸
Open In TikTok:
Region: IQ
Sunday 03 May 2026 21:21:48 GMT
94755
6732
30
1197

Music

Download

Comments

daleeee.7
🖤” :
Aw musica🌚
2026-05-04 19:21:37
22
_986806
𝑴𝑨𝑵𝑰𝑺𝑨_986 :
نازانم چی بڵێم🤷
2026-05-07 00:19:43
1
tbaqzhlul0
﮼تەها ❦︎ :
هەمیشە ناخۆشترین بەهێزترین وانەکان ئەتکات بە باشترین مامۆستا
2026-05-04 23:23:36
13
zhw_2222
𝓩𝓱𝔀𝓪𝓷🦢🌊 :
2026-05-05 18:11:00
4
unluckyydnaa
𖣂 :
دووبارە💔
2026-05-05 22:46:17
4
madkurd2
. :
وانەڵیت
2026-05-28 17:50:35
0
prozhayzhyan
Chra Xan :
بەخواڕێک وابوووو🥺🤲
2026-05-06 18:33:17
2
bafren300
``ⒷⒶⒻⓇⒺⓝ´´ :
وام زانی وە ڵامم دراوەتەوە دیسان !!!!!
2026-05-06 22:20:15
0
gully_abdullwahab
﮼گول٘ی﮼عبدولوەهاب🤍. :
@﮼بیبی 💔
2026-05-05 15:13:43
2
pamo7102
PAMA🦌 :
💔
2026-05-04 11:47:03
4
user322481085
user6851328434559 :
🥺🥺🥺
2026-05-04 15:18:29
4
xanm_.121
“Nura” :
💔💔💔🫠
2026-05-04 07:03:59
3
nghtlely
•••• :
🥀🥀🥀
2026-05-05 21:49:37
1
gullirash_15
گوڵی ڕەش :
👍
2026-05-06 19:11:13
1
zanaqalate1
(Zana Qalate) :
❤️❤️❤️
2026-05-04 19:22:56
2
azizibrahim7621
Aziz :
😁😁😁
2026-05-05 10:40:06
1
mu7amad_97
Mu7amad_97 :
🖤
2026-05-08 11:56:14
0
linda_99aros
Linda99 :
💔
2026-05-08 19:16:44
0
To see more videos from user @llann0sh, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مہمند ایجنسی کے پہاڑوں میں لپا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں۔ بیزی گڈا خیل وہاں اشرف اور اجازت کے گھر دیوار سے دیوار ملے ہوئے تھے۔ بچپن ایک ساتھ، روٹی سانجھی، غم سانجھے۔ پھر ایک دن وراثت کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ گھر کے ساتھ 2 مرلے زمین کا ٹکڑا۔ کاغذ کوئی نہیں تھا، صرف بڑوں کی زبانی بات۔   اشرف بولا:
مہمند ایجنسی کے پہاڑوں میں لپا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں۔ بیزی گڈا خیل وہاں اشرف اور اجازت کے گھر دیوار سے دیوار ملے ہوئے تھے۔ بچپن ایک ساتھ، روٹی سانجھی، غم سانجھے۔ پھر ایک دن وراثت کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ گھر کے ساتھ 2 مرلے زمین کا ٹکڑا۔ کاغذ کوئی نہیں تھا، صرف بڑوں کی زبانی بات۔ اشرف بولا: "یہ میرے دادا نے مجھے دی تھی" اجازت بولا: "نہیں، میرے باپ کی نشانی ہے یہ" بات سے بات بڑھی۔ ایک گالی، ایک دھکا۔ اشرف کے ہاتھ میں کلہاڑی آ گئی۔ غصے میں وار ہوا۔ اجازت کا 16 سالہ بھائی "گل خان" زمین پر گر گیا۔ مرتے ہوئے اس نے صرف اتنا کہا: "بھائی... مٹی... سے بڑی... کوئی چیز نہیں؟" بس... پہلا خون گر گیا۔ اور 18 سالہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد یہ 2 مرلے زمین "میدانِ جنگ" بن گئی۔ *اشرف کے گھر سے 12 جنازے اٹھے:* باپ، چچا، دو سگے بیٹے، تین بھتیجے، دو ماموں زاد، ایک بہنوئی، دو دور کے کزن۔ ہر جنازے کے بعد اشرف کی ماں پاگلوں کی طرح چیختی: "میرا بیٹا کھا گئی یہ مٹی!" *اجازت کے گھر سے بھی 12 جنازے اٹھے:* بھائی، والد، اکلوتا بیٹا "نوید"، دو بھانجے، چار کزن، ایک چچا زاد۔ اجازت کی بیوی نے 18 سال میں 6 بیٹوں کے جنازے خود کندھا دیے۔ آخر میں وہ بھی صدمے سے چل بسی۔ وہ 2 مرلے زمین؟ وہ 18 سال تک بنجر پڑی رہی۔ نہ فصل اگی، نہ گھر بنا۔ صرف کانٹے، پتھر اور رات کو کتوں کے رونے کی آواز۔ گاؤں والے کہتے: "اس مٹی کو لعنت لگ گئی ہے"۔ عید، شادی، جنازہ... ہر خوشی دشمنی کی نذر ہو گئی۔ بچے سکول نہیں گئے، بیٹیاں بیاہی نہیں گئیں۔ پورے دو خاندان قید ہو گئے۔ جب سپاہی چلے گئے - 2018 وقت گزرتا گیا۔ بندوقیں زنگ آلود ہو گئیں۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ پہلے اشرف بوڑھا ہو کر دنیا سے چلا گیا۔ اپنے 12 جنازے دفنا کر۔ 2 سال بعد اجازت بھی دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گیا۔ اپنے 12 جنازے دفنا کر۔ دونوں قبر میں چلے گئے۔ ساتھ لے گئے 2 مرلے کا جھگڑا۔ گاؤں والے کہنے لگے: "اب لڑے گا کون؟ دشمن تو مٹی میں چلا گیا"۔ پر دشمنی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بیٹوں کے دلوں میں زندہ تھی۔ "باپ کا بدلہ" کا سبق بچوں کو پڑھا دیا گیا تھا۔ بیٹوں کی ہمت - صلح کا دن -2018 ایک دن اشرف کا بڑا بیٹا "فیاض" اور اجازت کا بڑا بیٹا "کامران" اسی 2 مرلے زمین پر آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ دونوں کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ دونوں کی آنکھیں سرخ تھیں۔ دونوں کے گھر یتیم، بیوہ، مقروض۔ زمان نے بندوق زمین پر پھینک دی۔ مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور کامران کے پاؤں میں رکھ دی۔ رو کر بولا: "کامران، میرے باپ سے غلطی ہو گئی۔ غصے میں میرے چچا نے تیرے چچا کو مار دیا۔ میں باپ کی غلطی کی سزا پوری نسل کو نہیں دوں گا۔ مجھے معاف کر دو"۔ کامران کی بندوق بھی گر گئی۔ اس نے بھی مٹی اٹھا کر زمان کے سر پر ڈالی۔ ہچکیاں لے کر بولا: "زمان، میرے باپ نے بھی آگ بھڑکائی۔ ہم 18 سال سے اندھے تھے۔ آج آنکھیں کھل گئیں۔ میں بھی معاف کرتا ہوں"۔ دونوں دشمن کے بیٹے گلے لگ کر اس قدر روئے کہ 18 سال کا زخم بہہ گیا۔ وہ مٹی جو خون پیتی تھی، آج آنسو پی رہی تھی۔ جرگہ بیٹھا۔ پورے مہمند کے مشران آئے۔ علماء آئے۔ فیصلہ ایک ہی ہوا: "یہ زمین اب کسی انسان کی نہیں۔ یہ اللہ کی امانت ہے"۔ اس 2 مرلے ٹکڑے پر "مسجد صلح و ایمان" کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اشرف کے پوتے نے پہلی اینٹ رکھی۔ اجازت کے نواسے نے دوسری۔ آج وہاں 5 وقت اذان ہوتی ہے۔ وہی مٹی جس پر 24 جنازے اٹھے، اب ہزاروں سجدے کرتی ہے۔ اشرف کا پوتا "آدم" اور اجازت کا نواسا "حمزہ" ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر۔ مسجد کے دروازے پر سنگِ مرمر پر لکھوا دیا گیا: "یہاں 2 مرلے زمین پر 24 جانوں کی قیمت لگی تھ2018 میں دو بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف دعائیں بکیں گی، لاشیں نہیں"۔ *خاتمہ: قبروں کا سکون* آج اشرف اور اجازت کی قبریں ساتھ ہیں۔ گاؤں کے بچے دونوں قبروں پر پانی ڈالتے ہیں، پھول رکھتے ہیں۔ بوڑھی مائیں جو 24 جنازے دفنا چکی ہیں، اب مسجد کی دہلیز پر بیٹھ کر قرآن پڑھتی ہیں اور کہتی ہیں: "یا اللہ، ہمارے شوہر، ہمارے بیٹے تو واپس نہیں آئیں گے۔ پر تو ہمارے پوتوں کو بچا لے۔ دشمنی کی لعنت سے بچا لے۔ 2. *اشرف چلا گیا، اجازت چلا گیا، زمین یہیں رہ گئی۔* انسان خالی ہاتھ آیا، خالی ہاتھ گیا۔ 3. *دشمنی وراثت میں نہیں ملتی، ہمت سے ختم ہوتی ہے۔* زمان اور کامران نے ثابت کیا کہ بیٹا باپ کا بدلہ نہیں، باپ کی اصلاح ہوتا ہے۔ 4. *جہاں خون گرتا تھا، وہاں اب سجدے ہوتے ہیں۔* یہ اللہ کی رحمت ہے

About