@ahmadofficial0555: آم کو بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ" کہا جاتا ہے۔ یہ گرمیوں کا سب سے لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، لیکن دیسی حکمت اور میڈیکل سائنس کے مطابق آم کا فائدہ یا نقصان اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طریقے سے اور کس وقت کھاتے ہیں۔ آم کھانے کے فائدے، نقصانات اور اسے کھانے کا سب سے صحیح (حکیمی طریقہ درج ذیل ہے آم کھانے کا صحیح طریقہ " انتہائی اہم -1- ہمارے ہاں اکثر لوگ آم کاٹتے ہیں اور کھا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گرمی اور دانے نکل آتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے یہ تین اصول ہمیشہ یاد رکھیں پانی میں بھگونا (سائنسی راز آم کھانے سے کم از کم ایک سے دو گھنٹے پہلے اسے ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر رکھیں۔ آم کی ڈنڈی (منہ) کے پاس ایک زہریلا کیمیکل (Phytic acid) اور گرمی ہوتی ہے۔ پانی میں بھگونے سے آم کی گرمی گوند اور اسے پکانے کے لیے لگایا گیا کیمیکل (مصالحہ) پانی میں بہہ جاتا ہے۔ کچی لسی کا استعمال گرمی کا توڑ : آم کی تاثیر انتہائی گرم ہوتی ہے ۔ دیسی حکمت کا اصول ہے کہ آم کھانے کے بعد آدھا گلاس کچی لسی ایک حصہ دودھ اور تین حصے پانی، ہلکا سا نمک ڈال کر لازمی پیئیں۔ اس سے آم کی گرمی کٹ جائے گی، معدے میں گیس نہیں ہوگی اور جسم پر کبھی دانے نہیں نکلیں گے۔ کھانے کا وقت آم کو کبھی بھی پیٹ بھر کر روٹی کھانے کے فوراً بعد مت کھائیں۔ اسے دو کھانوں کے درمیان دوپہر کے وقت کھائیں۔ آم کھانے کے زبردست فائدے - الف) ہاضمے اور معدے کے لیے بہترین آم میں قدرتی فائبر (ریشہ) اور کچھ خاص انزائمز پائے جاتے ہیں۔ یہ انزائمز سخت خوراک (پروٹین) کو توڑ کر ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور پرانی قبض کو دور کر کے انتڑ یوں کو صاف کرتے ہیں۔ ب.) کینسر اور بیماریوں سے بچاؤ آم میں وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بھاری مقدار ہوتی ہے ۔ یہ جسم کے مدافعتی نظام کو لوہے کی طرح مضبوط بناتا ہے اور خاص طور پر چھاتی خون اور معدے کے کینسر سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہے۔ ج) آنکھوں اور جلد کے لیے آم وٹامن اے کا خزانہ ہے۔ ایک پیالی آم کھانے سے دن بھر کی وٹامن اے کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ یہ نظر کو تیز کرتا ہے، جلد کے مسام صاف کرتا ہے اور چہرے پر قدرتی چمک لاتا ہے۔ د) خون کی کمی اور جسمانی طاقت آم میں آئرن فولک ایسڈ اور قدرتی گلوکوز ہوتا ہے۔ جو لوگ کمزور ہیں، جن کا وزن نہیں بڑھتا، یا جنہیں خون کی کمی ہے، ان کے لیے آم اور دودھ کا شیک ایک انتہائی طاقتور ٹانک ہے ۔ آم کھانے کے نقصانات اور خطرات - اگر آم کو حد سے زیادہ یا غلط طریقے سے کھایا جائے تو اس کے درج ذیل نقصانات ہو سکتے ہیں (الف) گرمی دانے اور الرجی اگر آم کو پانی میں بھگوئے يغير كھایا جائے ، با بہت زیادہ کھا لیا جائے ، تو جسم میں شدید گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سے چہرے پر کیل مہاسے، منہ میں چھالے اور جسم پر گرمی دانے نکل آتے ہیں۔ ب) شوگر کے مریضوں کے لیے خطرہ آم میں قدرتی مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کا گلائسیمک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے جو خون میں شوگر کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔ شوگر کے مریض اسے کھا سکتے ہیں لیکن دن میں صرف چند ٹکڑے، اور وہ بھی ڈاکٹر کی اجازت سے ۔ (ج) موٹاپا اور پیٹ کی چربی جو لوگ وزن کم کرنا چاہتے ہیں، وہ آم کا استعمال کم کریں۔ خاص طور پر آم کا ملک شیک جس میں چینی بھی ڈالی گئی ہو ایک ہی وقت میں ہزاروں کیلوریز جسم میں ڈال دیتا ہے، جو سیدھا پیٹ کی چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ د) گلے کی خرابی کیمیکل کا نقصان آج کل مارکیٹ میں کچے آموں کو کیلشیم کاربائیڈ کیمیکل مصالحہ لگا کر پکایا جاتا ہے ۔ اگر آم کو اچھی طرح دھوئے بغیر کھا لیا جائے تو یہ کیمیکل گلے میں شدید خراش کھانسی اور انتڑ یوں کا انفیکشن پیدا کر دیتا ہے۔ خلاصہ آم کو پانی میں بھگو کر اعتدال کے ساتھ کھائیں اور اوپر سے کچی لسی پی لیں۔ اس طرح آپ کو آم کے صرف سو فیصد فائدے ملیں گے اور کوئی نقصان نہیں ہوگا۔