@gigi_pep_princess:

gigi_pep_princess
gigi_pep_princess
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 06 May 2026 19:16:30 GMT
2250
177
25
3

Music

Download

Comments

call_mee_mimi_mia
MiaOnTheGlow :
I stay with the same vennies 🥰🔥
2026-05-06 23:41:47
3
calichiick910
CaliChiick910 :
Leave my Gigi alone!
2026-05-07 06:58:51
2
thecheatingbiohacker
Andrew :
This is facts for real
2026-05-07 11:11:40
3
teeteelicious2
Teesworld🌎 :
BAHAAHAHAHAHA 🤣🤣🤣🤣🤣
2026-05-07 15:18:50
2
symphonyssong
Symphony’s Treasures 🌼🎤🎼 :
They tried it. I was like hell naw I knew it wasn’t you!!
2026-05-06 20:41:26
2
yourwigpapii
YourWigPapi :
Preach!!! Slow and steady wins the race
2026-05-08 05:14:46
2
marissattv11
Marissattv :
How about the fact that you would not be messaging people first!! Like are we ok?
2026-05-06 20:07:26
2
boss.lady.tee00
TikTok affiliate Tee :
Leave my Gigi alone
2026-05-06 23:57:24
2
nash.peps_592
Nathlyn Carib Flavors :
But all they have to do is LURK, the answer will eventually reveal itself!!!
2026-05-06 21:43:20
4
rengoesgrey
rengoesgrey :
And these scammers are forceful and rude and then message us talking bout how they’re scared and they dont feel good about it. DUDE! Thats your intuition telling you TO RUNN
2026-05-08 00:20:46
4
danadane1274
Dana Dane :
How do they find the real you to complain but had 0 discernment to find the real you to keep from being scammed?
2026-05-09 16:00:33
1
autumn.diy.health
autumndiyhealth :
They too egar. Then they get mad at the real person it's wild.
2026-05-12 06:05:58
0
hey_munchy
Munchy | Wellness & Skincare :
💯
2026-05-07 12:08:41
2
nece04
Girls mom❤️❤️ :
Did I just hear the Jamaican accent 😏😏
2026-05-06 20:27:26
4
To see more videos from user @gigi_pep_princess, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سورہ البقرہ کی آیات 183 سے 188 روزے کے احکام کے بارے میں ہیں۔ یہ آیات رمضان سے پہلے مدینہ میں نازل ہوئیں۔ آیت 183 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ تفسیر:  اس آیت میں اللہ نے روزے کو فرض قرار دیا۔ كُتِبَ کا مطلب فرض کیا گیا ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ روزہ صرف اس امت کے لیے نیا حکم نہیں، پچھلی امتوں پر بھی کسی نہ کسی شکل میں فرض تھا۔ روزے کا اصل مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں، بلکہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - تاکہ تمہارے اندر تقویٰ، اللہ کا ڈر اور نفس پر قابو پیدا ہو۔ روزہ انسان کو صبر، شکر اور گناہوں سے بچنا سکھاتا ہے۔ آیت 184 أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ترجمہ: گنتی کے چند دن۔ پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں (پھر بھی نہ رکھیں) تو وہ ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ دیں، اور جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ تفسیر: گنتی کے چند دن: مراد رمضان کے 29 یا 30 دن ہیں، یعنی سارا سال نہیں۔ مریض اور مسافر کے لیے رخصت: جو اتنا بیمار ہو کہ روزہ نقصان دے، یا شرعی مسافر ہو، وہ رمضان میں روزہ چھوڑ کر بعد میں قضا کر سکتا ہے۔ فدیہ: شروع اسلام میں روزہ رکھنا اختیاری تھا، طاقت والے چاہیں تو روزہ رکھیں یا فدیہ دے دیں۔ بعد میں آیت 185 سے یہ اختیار ختم ہو کر روزہ ہر صحت مند مقیم پر فرض ہو گیا۔ اب فدیہ کا حکم صرف اس بوڑھے، دائمی مریض کے لیے باقی ہے جو کبھی روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو سکے۔ آیت 185 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ترجمہ: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ پس جو تم میں سے اس مہینے کو پائے تو اس کے روزے رکھے... اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا... تفسیر: یہ اس سلسلے کی سب سے اہم آیت ہے۔ رمضان کی فضیلت: اس مہینے کو تین وجہ سے عظمت ملی - قرآن اسی میں نازل ہوا، یہ ہدایت ہے، اور یہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ لیلۃ القدر بھی اسی مہینے میں ہے۔ روزے کی حتمی فرضیت: فَمَنْ شَهِدَ - جو شخص اپنے وطن میں رمضان کا چاند دیکھے اور صحت مند ہو، اس پر روزہ فرض ہے۔ اللہ آسانی چاہتا ہے: اسلام میں سختی نہیں۔ اسی لیے بیمار اور مسافر کو رخصت دی۔ دین کا مزاج آسانی ہے۔ روزوں کے مقاصد: گنتی پوری کرنا، رمضان کے بعد تکبیر (عید کی تکبیرات) کہنا، اور شکر گزار بننا۔ آیت 186 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ترجمہ: اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیں) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تفسیر: روزوں کے احکام کے درمیان دعا کی آیت لانا بہت حکمت والا ہے۔ روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے میں بہت قریب ہوں، کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ لیکن دعا کی قبولیت کے لیے دو شرطیں ہیں: اللہ کے احکام پر عمل (فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي) اور سچا ایمان۔ یہ آیت افطاری، تہجد اور رمضان میں کثرت سے دعا کی ترغیب دیتی ہے۔ آیت 187 أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِ
سورہ البقرہ کی آیات 183 سے 188 روزے کے احکام کے بارے میں ہیں۔ یہ آیات رمضان سے پہلے مدینہ میں نازل ہوئیں۔ آیت 183 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ تفسیر: اس آیت میں اللہ نے روزے کو فرض قرار دیا۔ كُتِبَ کا مطلب فرض کیا گیا ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ روزہ صرف اس امت کے لیے نیا حکم نہیں، پچھلی امتوں پر بھی کسی نہ کسی شکل میں فرض تھا۔ روزے کا اصل مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں، بلکہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - تاکہ تمہارے اندر تقویٰ، اللہ کا ڈر اور نفس پر قابو پیدا ہو۔ روزہ انسان کو صبر، شکر اور گناہوں سے بچنا سکھاتا ہے۔ آیت 184 أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ترجمہ: گنتی کے چند دن۔ پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں (پھر بھی نہ رکھیں) تو وہ ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ دیں، اور جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ تفسیر: گنتی کے چند دن: مراد رمضان کے 29 یا 30 دن ہیں، یعنی سارا سال نہیں۔ مریض اور مسافر کے لیے رخصت: جو اتنا بیمار ہو کہ روزہ نقصان دے، یا شرعی مسافر ہو، وہ رمضان میں روزہ چھوڑ کر بعد میں قضا کر سکتا ہے۔ فدیہ: شروع اسلام میں روزہ رکھنا اختیاری تھا، طاقت والے چاہیں تو روزہ رکھیں یا فدیہ دے دیں۔ بعد میں آیت 185 سے یہ اختیار ختم ہو کر روزہ ہر صحت مند مقیم پر فرض ہو گیا۔ اب فدیہ کا حکم صرف اس بوڑھے، دائمی مریض کے لیے باقی ہے جو کبھی روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو سکے۔ آیت 185 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ترجمہ: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ پس جو تم میں سے اس مہینے کو پائے تو اس کے روزے رکھے... اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا... تفسیر: یہ اس سلسلے کی سب سے اہم آیت ہے۔ رمضان کی فضیلت: اس مہینے کو تین وجہ سے عظمت ملی - قرآن اسی میں نازل ہوا، یہ ہدایت ہے، اور یہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ لیلۃ القدر بھی اسی مہینے میں ہے۔ روزے کی حتمی فرضیت: فَمَنْ شَهِدَ - جو شخص اپنے وطن میں رمضان کا چاند دیکھے اور صحت مند ہو، اس پر روزہ فرض ہے۔ اللہ آسانی چاہتا ہے: اسلام میں سختی نہیں۔ اسی لیے بیمار اور مسافر کو رخصت دی۔ دین کا مزاج آسانی ہے۔ روزوں کے مقاصد: گنتی پوری کرنا، رمضان کے بعد تکبیر (عید کی تکبیرات) کہنا، اور شکر گزار بننا۔ آیت 186 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ترجمہ: اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیں) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تفسیر: روزوں کے احکام کے درمیان دعا کی آیت لانا بہت حکمت والا ہے۔ روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے میں بہت قریب ہوں، کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ لیکن دعا کی قبولیت کے لیے دو شرطیں ہیں: اللہ کے احکام پر عمل (فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي) اور سچا ایمان۔ یہ آیت افطاری، تہجد اور رمضان میں کثرت سے دعا کی ترغیب دیتی ہے۔ آیت 187 أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِ

About