@06phenomenal:

PHENOMENAL
PHENOMENAL
Open In TikTok:
Region: KZ
Thursday 07 May 2026 04:50:31 GMT
1809
191
9
2

Music

Download

Comments

user61203916780621
Сенин Алексей :
базар жок
2026-06-01 13:57:24
1
mereke.1986
МейрамТалгатович :
👍👍👍👍👍🥰рахмет
2026-05-07 06:04:42
1
anubis191172
First After God :
отдуши 😉😘
2026-05-07 08:26:45
1
pazanskidvor21
aleksandr :
🥰🥰🥰
2026-05-07 18:03:18
1
seregagubanov
Серёга :
🔥🔥🔥
2026-05-07 04:58:06
1
anna.28.02.1985
(((💞💞🤪Anna🤪💞💞))) :
🔥🔥🔥
2026-05-07 06:24:47
1
serega_555_5
*Серёга*_555_ :
🥰🥰🥰
2026-05-07 05:56:45
1
evgenijkiaskogmail.com
tiktok.com/@evgenijkiaskogmail :
👍🤭
2026-05-07 05:31:15
1
bonus.ua
bonus UA :
♥️🇺🇦💐🫶🥰
2026-05-07 05:14:23
1
To see more videos from user @06phenomenal, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تعد إليسا صوتاً استثنائياً في تاريخ الأغنية العربية، فهي لم تكتفِ بالغناء فقط، بل جعلت من صوتها مرآة لمشاعر الحب، الوجع، والأمل. استطاعت بذكاء فني منقطع النظير أن تسيطر على لقب
تعد إليسا صوتاً استثنائياً في تاريخ الأغنية العربية، فهي لم تكتفِ بالغناء فقط، بل جعلت من صوتها مرآة لمشاعر الحب، الوجع، والأمل. استطاعت بذكاء فني منقطع النظير أن تسيطر على لقب "ملكة الرومانسية" لسنوات طويلة. ​لماذا تلمسنا إليسا؟ ​في أغاني مثل "مكتوبة ليك"، تظهر قوة إليسا في نقل "السهل الممتنع"؛ كلمات بسيطة لكنها محملة بصدق يجعل السامع يشعر أن الأغنية قيلت لأجله هو فقط. تميزت إليسا بقدرتها على اختيار نصوص غنائية تلامس الروح، وصوت يحمل بحة دافئة تجعل من كل جملة موسيقية تجربة شعورية متكاملة. ​البصمة الفنية ​ما يميز إليسا هو الاستمرارية والذكاء في التجدد؛ فمنذ بدايتها بـ "بدي دوب" وصولاً لأعمالها الحالية، حافظت على هويتها الرصينة مع مواكبة التطور العالمي في التوزيع الموسيقي. هي ليست مجرد مطربة، بل هي حالة تعبيرية أثبتت أن الإحساس هو أقصر طريق لقلوب الجماهير. ​بطاقة تعريفية ​إليسا (مواليد 1972) ​النوع: بوب / رومانسي كلاسيك ​الأسلوب: إحساس دافئ / عمق عاطفي / صدق تعبيري ​تقييمي: 9.5/10 #اليسا #استويات #تصميمي #fyp #محمد_كلاون
پاکستان میں مسئلہ اس ریاستی ماڈل کا ہے جس نے تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد غریب آدمی کو مدرسے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جب کروڑوں لوگ اپنے بچوں کو معیاری سکول، ہاسٹل، صحت اور روزگار نہیں دے سکتے، تو مدرسہ ان کے لیے صرف مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالتی ہے؟ ضیاء الحق کے دور میں مدرسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک تعلیمی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ سرد جنگ، افغان جہاد اور خطے کی جیوپولیٹکس سے جڑا ہوا عمل بھی تھا۔ لاکھوں نوجوانوں کو ایسی سوچ دی گئی جس میں پیچیدہ سیاسی تنازعات کو مقدس جنگوں کی شکل دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تنقیدی سوچ، سائنس، فلسفہ اور سماجی ترقی کے بجائے شناختی اور فرقہ وارانہ سیاست کو تقویت ملی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مدرسہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد علم، اخلاق اور فہم پیدا کرنا تھا تو پھر ہم ایک ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں افواہ، فتویٰ، ہجوم اور مذہبی اشتعال اکثر دلیل، تحقیق اور برداشت پر غالب آ جاتے ہیں؟ جب تعلیم کا مقصد شہری پیدا کرنے کے بجائے صرف نظریاتی سپاہی پیدا کرنا بن جائے تو معاشرہ سوال پوچھنے والوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ پھر اختلاف رائے کو بحث سے نہیں بلکہ غداری، کفر یا دشمنی کے فتووں سے جواب دیا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ تنقید ایک ریاستی پالیسی، تعلیمی ڈھانچے اور تاریخی فیصلوں پر ہے، نہ کہ کسی مذہب یا تمام مدارس پر عمومی حملہ۔  شکریہ!! # . . . . . . . . . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore
پاکستان میں مسئلہ اس ریاستی ماڈل کا ہے جس نے تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد غریب آدمی کو مدرسے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جب کروڑوں لوگ اپنے بچوں کو معیاری سکول، ہاسٹل، صحت اور روزگار نہیں دے سکتے، تو مدرسہ ان کے لیے صرف مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالتی ہے؟ ضیاء الحق کے دور میں مدرسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک تعلیمی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ سرد جنگ، افغان جہاد اور خطے کی جیوپولیٹکس سے جڑا ہوا عمل بھی تھا۔ لاکھوں نوجوانوں کو ایسی سوچ دی گئی جس میں پیچیدہ سیاسی تنازعات کو مقدس جنگوں کی شکل دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تنقیدی سوچ، سائنس، فلسفہ اور سماجی ترقی کے بجائے شناختی اور فرقہ وارانہ سیاست کو تقویت ملی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مدرسہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد علم، اخلاق اور فہم پیدا کرنا تھا تو پھر ہم ایک ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں افواہ، فتویٰ، ہجوم اور مذہبی اشتعال اکثر دلیل، تحقیق اور برداشت پر غالب آ جاتے ہیں؟ جب تعلیم کا مقصد شہری پیدا کرنے کے بجائے صرف نظریاتی سپاہی پیدا کرنا بن جائے تو معاشرہ سوال پوچھنے والوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ پھر اختلاف رائے کو بحث سے نہیں بلکہ غداری، کفر یا دشمنی کے فتووں سے جواب دیا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ تنقید ایک ریاستی پالیسی، تعلیمی ڈھانچے اور تاریخی فیصلوں پر ہے، نہ کہ کسی مذہب یا تمام مدارس پر عمومی حملہ۔ شکریہ!! # . . . . . . . . . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore

About