@paygham_e_sarosh: اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن مطلب: اس شعر میں اقبال انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تو میری بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں تو اپنے باطن میں جھانک کر ہی زندگی کی حقیقتوں کا ادراک کر لے کہ زندگی اپنی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ انسان کے باطن میں پوشیدہ رہتی ہے اور انسان کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے ۔ من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق تن کی دنیا تن کی دنیا، سُود و سَودا ، مکر و فن مطلب: اس شعر میں اقبال فلسفہَ خودی کو بالکل ایک نئے انداز میں پیش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ جذبہَ عشق و مستی کے علاوہ انسانی فطرت کے دونوں پہلووَں نیکی اور بدی کا جائزہ بھی لیتے ہیں چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو انسان باطنی سطح پر جذب و مستی اور عشق حقیقی سے ہم آہنگ رہتا ہے جب کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ذاتی مفاد کے لیے وہ ہر نوع کے مکر و فن کے مراحل سے گزرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا ۔ اقبال اس شعر میں انسانی کردار کے ان دونوں پہلووَں کو خیر و شر کے آئینے میں دیکھتے ہیں ۔ من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دھن، جاتا ہے دھن مطلب: اقبال کے مطابق انسان کو باطنی سطح پر قلبی سکون میسر آ جائے تو پھر اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ تو ایسی نعمت ہے جو ضائع نہیں ہوتی جب کہ مادی اور جسمانی سطح پر حاصل ہونے والی دولت اور قوت تو ڈھلتی پھرتی چھاؤں کے مانند ہے ۔ اس کو کسی طور پر بھی پائیداری حاصل نہیں ہوتی ۔ پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن مطلب: اپنی بات کو تمام کرتے ہوئے نظم کے اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مجھے تو ایک مرد قلندر کا قول شرمسار کر گیا کہ اپنی خودی کو چھوڑ کر اگر تو کسی کے روبرو جھک گیا تو جان لے کہ تیرے پاس نہ تو روحانی سکون کی دولت باقی رہے گی نا ہی دوسرے مادی فوائد برقرار رہیں گے ۔ #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #allamaiqbalpoetry #sadpoetry