@pplourencoo: EP 15 | Nossa primeira briga… @Gab Ambrósio

Pedro Lourenço
Pedro Lourenço
Open In TikTok:
Region: BR
Thursday 07 May 2026 21:18:26 GMT
296210
45691
294
3167

Music

Download

Comments

sanieleyara
sany :
eu não tô gostando, minha mãe que tá KAKAKAKAKKAKA
2026-05-07 21:25:36
7891
thsantc
Thaís Cruz :
“Você que é uma pessoa de questões”, me pegou kkkk
2026-05-08 00:48:24
3988
itswelli
ItsWelli :
a almofada claramente desconfortável
2026-05-08 00:28:24
1037
brunowtf0
Bruno :
no final da conversa vai ta assim kkkk
2026-05-07 23:11:55
2237
eucarolferreirajf
Carol Rodrigues :
a almofada... kkkk
2026-05-07 21:50:56
393
oi.hiran
・bernardes :
Diga mais…
2026-05-08 01:55:27
302
katia.beserra
Kátia Azevedo Beserr :
Eu morro de rir. Quando eu lembro do meu filho o riso vira choro. 🤣🥲
2026-05-08 00:05:18
528
italveras
Ítalo Veras143 :
O chat GPT servindo em todos os momentos
2026-05-07 21:47:58
272
paixaolm
paixaolm :
As almofadas a cada toque kkkkk, amei
2026-05-08 03:09:14
87
imlyne2
imlyne2 :
“Eu não preciso de 30 dias pra saber que não quero tá num lugar… um lugar que me incomoda” eu no penúltimo emprego kkkkkkkkkkkkkkk odiava
2026-05-08 11:15:19
84
naoeheric
Gustavo :
cara daria uma série fácil na Netflix kkkkkkkkkk
2026-05-07 22:50:58
86
farias20_
Walmir Farias :
“Uma empresa que tem baia, pra trabalhar igual cavalo” me pegou essa parte, kkkkk
2026-05-18 01:56:45
31
kkkkkoitada
Kassia Andrade :
“E a nossa experiência?”
2026-05-08 00:03:39
49
anaclaratorres92
Ana Clara Torres :
tem que ver
2026-05-07 22:24:42
30
carinawuxian
Cah Wei :
Faz os erros de gravação por favor kkkkkk
2026-05-21 13:07:28
7
nayane.ga
Nayane :
A serie só melhora kkkkkk
2026-05-07 22:29:33
33
laizeminelli
Laize Minelli :
Cada almofada era um riso
2026-05-11 19:53:03
20
gemysticink
gemysticink :
minha mãe também disse que eu sou híbrida 🤷🏻‍♀️
2026-05-07 21:59:02
57
bella_insonia
Bella :
A mãe: "Deus, sou eu de novo..."
2026-05-08 12:58:44
17
rafajurk
Rafaela yurkevich :
Eu ja fiquei em uma empresa 3 meses, me chamaram pra falar que passei na experiência e eu pedi demissão porque eles não passaram na minha experiencia!
2026-05-08 02:21:49
45
mdgdre
dre :
“teEm que ver”
2026-05-08 02:10:19
19
To see more videos from user @pplourencoo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

رات کا وقت تھا۔ آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ شہر کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ایک عالی شان بنگلے کی بالکونی میں کھڑا ایک شخص اپنی کامیابیوں پر ناز کر رہا تھا۔ اس کے پاس دولت تھی، شہرت تھی، عزت تھی، گاڑیاں تھیں، نوکر تھے، اور ہر وہ چیز تھی جس کا خواب عام انسان دیکھتا ہے وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا
رات کا وقت تھا۔ آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ شہر کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ایک عالی شان بنگلے کی بالکونی میں کھڑا ایک شخص اپنی کامیابیوں پر ناز کر رہا تھا۔ اس کے پاس دولت تھی، شہرت تھی، عزت تھی، گاڑیاں تھیں، نوکر تھے، اور ہر وہ چیز تھی جس کا خواب عام انسان دیکھتا ہے وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا "میں نے یہ سب اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔ آج جو مقام میرے پاس ہے، وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لہجے میں شکر سے زیادہ غرور تھا۔ اسی لمحے اس کے گھر کے ایک کمرے میں اس کا نومولود پوتا سو رہا تھا۔ ننھا سا بچہ، جو دنیا میں آئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔ اس کے ہاتھ کانپتے تھے، آنکھیں پوری طرح نہیں کھلتیں تھیں، اور وہ خود اپنا سر بھی نہیں سنبھال سکتا تھا۔ اس شخص نے ایک لمحے کے لیے بچے کو دیکھا، مسکرایا اور واپس اپنی کامیابیوں کے خیال میں گم ہوگیا۔ مگر زندگی کے پاس انسان کو سمجھانے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ چند دن بعد ایک بزرگ عالم ان کے گھر تشریف لائے۔ گفتگو کے دوران اس شخص نے فخر سے اپنی دولت، کاروبار اور کامیابیوں کا ذکر شروع کردیا۔ بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب وہ اپنی تعریف مکمل کرچکا تو بزرگ نے صرف ایک سوال پوچھا: "بیٹا! جب تم دنیا میں آئے تھے تو کیا تم خود نہا سکتے تھے وہ حیران ہوا اور بولا: "نہیں۔" بزرگ نے دوسرا سوال کیا: "اور جب تم اس دنیا سے جاؤ گے تو کیا خود اپنا آخری غسل دے سکو گے؟" یہ سن کر وہ خاموش ہوگیا۔ بزرگ نے فرمایا: "پھر غرور کس بات کا؟" یہ الفاظ تیر کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔ وہ رات بھر سو نہ سکا۔ اسے اپنا بچپن یاد آنے لگا۔ وہ وقت جب وہ ایک بے بس بچہ تھا۔ جب اس کی ماں راتوں کو جاگ جاگ کر اسے سنبھالتی تھی۔ جب وہ بھوک لگنے پر صرف روتا تھا اور کوئی دوسرا اس کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ جب وہ خود ایک قدم بھی نہیں چل سکتا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ انسان کی ابتدا کتنی کمزور ہے۔ پھر اس نے زندگی کے مختلف مراحل کو یاد کیا۔ اسکول، کالج، کاروبار، شادی، اولاد۔ ہر کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کا تعاون موجود تھا۔ ماں کی دعائیں تھیں۔ باپ کی محنت تھی۔ اساتذہ کی رہنمائی تھی۔ دوستوں کا ساتھ تھا۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جسے وہ اپنی طاقت سمجھتا تھا، درحقیقت وہ اللہ کی عطا تھی۔ چند مہینے گزرے۔ ایک دن اسے اپنے ایک قریبی دوست کے انتقال کی خبر ملی۔ وہ جنازے میں شریک ہوا۔ جب میت کو غسل دیا جا رہا تھا تو وہ دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔ وہ شخص جو کبھی بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا تھا، آج بے جان پڑا تھا۔ چار لوگ اسے اٹھا رہے تھے۔ دوسرے لوگ اسے نہلا رہے تھے۔ وہ خود کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اس لمحے بزرگ کی بات پھر اس کے ذہن میں گونج اٹھی: "انسان نہ پہلی بار خود نہا سکتا ہے اور نہ آخری بار۔" اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ سوچنے لگا: زندگی کتنی عجیب ہے۔ پیدائش کے وقت بھی دوسروں کا محتاج۔ موت کے وقت بھی دوسروں کا محتاج۔ درمیان میں چند دن ملتے ہیں اور انہی دنوں میں انسان خود کو بادشاہ سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ ایک مسافر ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد اس کی زندگی بدلنے لگی۔ اس نے اپنے رویے میں عاجزی پیدا کرنا شروع کردی۔ اب وہ ملازمین سے نرمی سے بات کرتا۔ غریبوں کی مدد کرتا۔ کسی کو حقیر نہیں سمجھتا۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ دولت، حسن، طاقت، عہدہ اور شہرت سب عارضی ہیں۔ اصل چیز انسان کا کردار ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن وہ اپنے پوتے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ پوتا اب بڑا ہوچکا تھا۔ اس نے پوچھا: "دادا جان! انسان کو سب سے زیادہ کس چیز سے بچنا چاہیے؟" اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "غرور سے۔" بچے نے پوچھا: "کیوں؟" اس نے جواب دیا: "کیونکہ غرور انسان کو حقیقت بھلا دیتا ہے۔" پھر اس نے وہی بات دہرائی: "بیٹا! انسان کی اوقات بس اتنی ہے کہ نہ پہلی بار خود نہا سکتا ہے اور نہ آخری بار۔ پوتا خاموش ہوگیا مگر اس کے دل میں یہ بات ہمیشہ کے لیے اتر گئی۔ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان اپنی حقیقت کبھی نہ بھولے ہم مٹی سے بنے ہیں مٹی پر چلتے ہیں اور ایک دن مٹی میں لوٹ جائیں گے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ امانت ہے۔ ہمارا جسم، ہماری طاقت، ہماری دولت، ہماری عزت، سب اللہ کی عطا ہے اگر اللہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ لے سکتا ہے اسی لیے عقل مند وہی ہے جو کامیابی پر شکر کرے، ناکامی پر صبر کرے، اور ہر حال میں عاجزی اختیار کرے یاد رکھو قبروں میں نہ دولت جاتی ہے، نہ عہدے، نہ شہرت۔ وہاں صرف اعمال جاتے ہیں اس لیے زندگی کے چند دنوں میں غرور کی عمارت کھڑی کرنے کے بجائے نیکیوں کا گھر آباد کرو لوگوں کے دل جیتو کسی کا دل مت توڑو کسی کمزور کو حقیر مت سمجھو کیونکہ ممکن ہے جسے تم کمزور سمجھ رہے ہو، وہ اللہ کے نزدیک تم سے کہیں زیادہ بلند مقام رکھتا ہو اور جب کبھی تمہیں اپنی دولت، طاقت یا مقام پر فخر ہونے لگے تو صرف اتنا یاد کر لینا

About