@hizyayinlari: Bazı hataların telafisi olmaz. Ama Denemax’ta her hatanın telafisi var! Denemax’ta her hatanın telafisi var. Denemeni çöz, yanlış ve boşlarını gir. Sana özel telafi kitapçığın otomatik oluşturulsun. Tekrar çöz, hatalarını telafi et. https://onlinesatis.hizyayinlari.com/denemax-8.-sinif-matematik-10lu-akilli-deneme-1238 #denemax #telafikitapçığı #LGS #deneme #sınavhazırlık

Hız Yayınları
Hız Yayınları
Open In TikTok:
Region: TR
Friday 08 May 2026 12:26:58 GMT
325902
99
0
6

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hizyayinlari, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں اب اُن باتوں پر نہیں لکھتا جن کی حقیقت دھند میں لپٹی ہو۔ میں اُن چہروں پر بھی یقین نہیں کرتا جو ہر زاویے سے مختلف نظر آئیں کیونکہ جب سچ اپنا نقاب اتار دیتا ہے تو لفظوں کا کام دلیل دینا نہیں بلکہ گواہی دینا ہوتا ہے۔ اب حقیقتیں چھپی ہوئی نہیں رہیں۔ محبت ایک جذبہ نہیں رہی، وہ مفاد کا نرم لباس پہنے ایک معاہدہ ہے۔ تعلق ایک پناہ گاہ نہیں رہا، وہ ضرورتوں کا پل ہے جس پر ہر کوئی اپنی منزل تک پہنچ کر پل کو جلا دیتا ہے۔ اپنائیت اکثر ملکیت کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتی ہے، جہاں کہا جاتا ہے تم میرے ہو، وہیں سے آزادی کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ جنگوں میں مرنے والے سپاہی وطن کے نام پر نہیں مرتے، وہ نقشوں پر کھینچی گئی لکیروں کے لیے گرتے ہیں۔ زمین کا ٹکڑا جس پر خون بہایا جاتا ہے کبھی خود کسی کا نام نہیں لیتا۔ مویشیوں کو پیار سے پالا جاتا ہے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے، مگر اس لمس میں شفقت کم اور حساب زیادہ ہوتا ہے۔ وہ محبت نہیں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ پرندوں کو دانہ دیا جاتا ہے، ان کے لیے سنہری پنجرے خریدے جاتے ہیں، اور کہا جاتا ہے یہ حفاظت ہے، حالانکہ حفاظت کے نام پر پرواز چھین لی جاتی ہے۔ محبت بھی اکثر ایسا ہی پنجرہ بنتی ہے، جس میں لفظ آزادی کے ہوتے ہیں مگر دروازہ اندر سے بند ہوتا ہے۔ انسان اپنے مفاد کو جذبے کا نام دیتا ہے، اپنی خواہش کو تقدس بنا دیتا ہے، اور پھر حیران ہوتا ہے کہ سچ کڑوا کیوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر رشتے ضرورت کے موسم میں اگتے ہیں اور خود غرضی کی دھوپ میں پکتے ہیں، جو باقی رہ جاتا ہے وہ یا تو عادت ہوتی ہے یا خوف۔ میں اب دھند پر نہیں لکھتا، میں اُن آئینوں پر لکھتا ہوں جو ٹوٹ چکے ہیں کیونکہ ٹوٹا ہوا آئینہ کم از کم سچ کو مسخ نہیں کرتا۔ وہ چہرہ زخمی دکھاتا ہے مگر جھوٹا نہیں دکھاتا۔ محبت، تعلق، اپنائیت یہ سب اپنے خالص روپ میں برے نہیں، مگر جب ان کے پیچھے مفاد سانس لے رہا ہو تو وہ سب سے خوبصورت الفاظ بھی سب سے مہذب دھوکہ بن جاتے ہیں۔ راغب #kafka #franz #کافکا #franz #kafka
میں اب اُن باتوں پر نہیں لکھتا جن کی حقیقت دھند میں لپٹی ہو۔ میں اُن چہروں پر بھی یقین نہیں کرتا جو ہر زاویے سے مختلف نظر آئیں کیونکہ جب سچ اپنا نقاب اتار دیتا ہے تو لفظوں کا کام دلیل دینا نہیں بلکہ گواہی دینا ہوتا ہے۔ اب حقیقتیں چھپی ہوئی نہیں رہیں۔ محبت ایک جذبہ نہیں رہی، وہ مفاد کا نرم لباس پہنے ایک معاہدہ ہے۔ تعلق ایک پناہ گاہ نہیں رہا، وہ ضرورتوں کا پل ہے جس پر ہر کوئی اپنی منزل تک پہنچ کر پل کو جلا دیتا ہے۔ اپنائیت اکثر ملکیت کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتی ہے، جہاں کہا جاتا ہے تم میرے ہو، وہیں سے آزادی کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ جنگوں میں مرنے والے سپاہی وطن کے نام پر نہیں مرتے، وہ نقشوں پر کھینچی گئی لکیروں کے لیے گرتے ہیں۔ زمین کا ٹکڑا جس پر خون بہایا جاتا ہے کبھی خود کسی کا نام نہیں لیتا۔ مویشیوں کو پیار سے پالا جاتا ہے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے، مگر اس لمس میں شفقت کم اور حساب زیادہ ہوتا ہے۔ وہ محبت نہیں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ پرندوں کو دانہ دیا جاتا ہے، ان کے لیے سنہری پنجرے خریدے جاتے ہیں، اور کہا جاتا ہے یہ حفاظت ہے، حالانکہ حفاظت کے نام پر پرواز چھین لی جاتی ہے۔ محبت بھی اکثر ایسا ہی پنجرہ بنتی ہے، جس میں لفظ آزادی کے ہوتے ہیں مگر دروازہ اندر سے بند ہوتا ہے۔ انسان اپنے مفاد کو جذبے کا نام دیتا ہے، اپنی خواہش کو تقدس بنا دیتا ہے، اور پھر حیران ہوتا ہے کہ سچ کڑوا کیوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر رشتے ضرورت کے موسم میں اگتے ہیں اور خود غرضی کی دھوپ میں پکتے ہیں، جو باقی رہ جاتا ہے وہ یا تو عادت ہوتی ہے یا خوف۔ میں اب دھند پر نہیں لکھتا، میں اُن آئینوں پر لکھتا ہوں جو ٹوٹ چکے ہیں کیونکہ ٹوٹا ہوا آئینہ کم از کم سچ کو مسخ نہیں کرتا۔ وہ چہرہ زخمی دکھاتا ہے مگر جھوٹا نہیں دکھاتا۔ محبت، تعلق، اپنائیت یہ سب اپنے خالص روپ میں برے نہیں، مگر جب ان کے پیچھے مفاد سانس لے رہا ہو تو وہ سب سے خوبصورت الفاظ بھی سب سے مہذب دھوکہ بن جاتے ہیں۔ راغب #kafka #franz #کافکا #franz #kafka

About