@rare.someone: زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ عمر کو عقل کا مترادف سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ ہر سفید بال کے پیچھے حکمت نہیں ہوتی، بعض چہروں پر وقت صرف جھریاں چھوڑتا ہے، شعور نہیں۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو برسوں جیتے ہیں مگر ایک لمحہ بھی سچائی، برداشت یا دانائی کے ساتھ نہیں گزارتے۔ وہ عمر کے ساتھ صرف ضد میں پختہ ہوتے ہیں، سوچ میں نہیں۔ اسی لیے ہر بڑے کی نصیحت مان لینا دانشمندی نہیں بلکہ اندھی تقلید ہے۔ کچھ لوگ وقت کے ساتھ صرف اپنی انا کو بڑا کرتے ہیں، کردار کو نہیں۔ ان کے لفظ تجربے سے نہیں بلکہ ناکامیوں، تعصب اور اندر کے زہر سے جنم لیتے ہیں۔ دانا انسان وہ نہیں جو زیادہ سال جئے، بلکہ وہ ہے جو ہر غلطی سے سیکھے، ہر تکلیف سے شعور کشید کرے اور ہر کامیابی کے بعد عاجزی اختیار کرے۔ عقل ایک انتخاب ہے، اور یہ انتخاب ہر شخص نہیں کرتا۔ کچھ لوگ پوری زندگی اپنی جہالت کو تجربہ سمجھ کر دوسروں پر مسلط کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ نصیحت سننے سے پہلے نصیحت کرنے والے کے کردار، ظرف اور سوچ کو پرکھے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک خاموش نوجوان، ایک شور مچاتے بوڑھے سے کہیں زیادہ دانا ہوتا ہے۔