@sultanabdulhameeedsani: “جب پوری دنیا سلطان کے خلاف کھڑی تھی… تب بھی اُس نے امت کا سودا نہیں کیاے جب خلافتِ عثمانیہ چاروں طرف سے سازشوں میں گھِر چکی تھی۔ چہرے پر خاموشی ہے… مگر آنکھوں میں ایک پوری امت کا درد چھپا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اُس زمانے میں یورپی طاقتیں عثمانیہ کے نقشے تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہی تھیں، مگر سلطان عبدالحمید ثانی ہر دباؤ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ انہوں نے صرف تخت کی حفاظت نہیں کی… بلکہ بیت المقدس، حجاز اور اسلامی وحدت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ دشمن سلطان کی تلوار سے کم اُن کے ایمان اور ثابت قدمی سے زیادہ خوف کھاتے تھے۔ تصویر میں سلطان کا جھکا ہوا چہرہ شکست نہیں… بلکہ امت کے مستقبل کی فکر ظاہر کرتا ہے۔ جب اپنے ساتھ چھوڑنے لگے، وزیر بدلنے لگے، اور سلطنت کے اندر غداری بڑھنے لگی… تب بھی سلطان نے آخری سانس تک خلافت کا پرچم جھکنے نہیں دیا۔ “تاریخ گواہ ہے… بعض بادشاہ سلطنت سے نہیں، اپنے صبر اور وفا سے عظیم بنتے ہیں”