@kingsadami39: "ہم خاموش ہیں کیونکہ ہر بات کا جواب ہم نہیں دیتے" زینو کہتا ہے کہ ہماری خاموشی کمزوری نہیں بلکہ برداشت، سمجھداری اور وقار کی علامت ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، بعض اوقات خاموش رہنا زیادہ بہتر اور باوقار عمل ہوتا ہے۔ "اور جو سچ ہم جانتے ہیں وہ تم سے برداشت نہیں ہو پائے گا" یہ مصرع اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شاعر بہت سے ایسے حقائق یا سچ جانتا ہے جو اگر بیان کر دیے جائیں تو سامنے والا انہیں سن یا برداشت نہیں کر سکے گا۔ یعنی خاموشی دراصل دوسروں کی مصلحت اور حالات کی نزاکت کی وجہ سے اختیار کی گئی ہے۔ شعر میں خودداری، دانائی اور خاموشی کی طاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ زینو کہنا چاہتا ہے کہ ہر خاموش انسان بےبس نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ بہت کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتا ہے کیونکہ ہر سچ ہر شخص برداشت نہیں کر سکتا۔#صدام_حسين_المجيد_رئيس_جمهورية_العراق #viralpicture #foryou #foryoupageofficiall