@youarebetterbutnothing: اس لیے بلب جلاتا ہوں کہ سایہ تو بنے یعنی دو فرد لگیں کمرے میں، تنہا نہ لگوں۔ شب بھر تری یادوں کا دھواں رہتا ہے دل میں اک شخص نہیں ہوتا مگر تنہا نہ لگوں۔ دیوار پہ تصویر لگا رکھی ہے تیری ہر بار اسے دیکھ کے ویرانا نہ لگوں۔ خاموشی مری چیخ سے بڑھ کر ہے زمانے میں بول بھی دوں تب بھی کہیں جھوٹا نہ لگوں۔ اک عمر سے عادت ہے تیرے ہجر کی لیکن یہ زخم نئے لگتے ہیں، پرانا نہ لگوں۔ کھڑکی سے اترتی ہوئی بارش کی صدا میں میں خود سے مخاطب ہوں کہ تنہا نہ لگوں۔ سب لوگ تو محفل میں ہنسے جاتے ہیں لیکن میں اپنے ہی اندر کہیں ٹوٹا نہ لگوں۔ اب کے چراغوں سے یہی بات کہی ہے، سیفؔ کم روشنی رکھنا مجھے اچھا نہ لگوں۔