@masoomlover03: ہر ماں باپ کامل نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت جتنی تلخ ہے، اتنی ہی ضروری بھی۔ ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ والدین ہمیشہ درست ہوتے ہیں، اُن کے ہر فیصلے میں بھلائی ہوتی ہے، اور اُن سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔ مگر حقیقت میں وہ بھی انسان ہوتے ہیں۔ اُن سے بھی غلط اندازے، غلط فیصلے اور ناانصافیاں ہو سکتی ہیں۔ کچھ والدین اولاد میں فرق بھی کرتے ہیں۔ کسی ایک بچے کو زیادہ محبت، زیادہ اہمیت، اور زیادہ نرمی ملتی ہے… جبکہ دوسرا بچہ ہمیشہ خود کو ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ یہ فرق صرف دل نہیں توڑتا، یہ انسان کے اندر احساسِ کمتری بھی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ بچہ جو بار بار نظر انداز ہوتا ہے، آہستہ آہستہ خاموش ہونا سیکھ جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشیں چھپانا سیکھ لیتا ہے، کیونکہ اُسے لگنے لگتا ہے کہ شاید اُس کی اہمیت کم ہے۔ یہ مان لینا کہ والدین بھی غلط ہو سکتے ہیں بدتمیزی نہیں، بلکہ حقیقت کو سمجھنا ہے۔ ہاں، اُن کی عزت اپنی جگہ ضروری ہے، مگر ہر غلط رویے کو “ماں باپ ہیں” کہہ کر درست ثابت کرنا بھی انصاف نہیں۔ بعض اوقات بچوں کے دلوں پر سب سے گہرے زخم باہر والوں نے نہیں، اپنوں نے دیے ہوتے ہیں۔ اور سب سے مشکل درد وہ ہوتا ہے جب انسان محبت بھی اُنہی سے چاہے جو اُسے مسلسل نظر انداز کر رہے ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین سے نفرت کی جائے، بلکہ یہ سمجھا جائے کہ انسان ہونے کے ناطے اُن سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اور شاید اگلی نسل کو بہتر بنانے کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے— کہ ہم اُن تکلیفوں کو پہچانیں جو ہمیں ملیں، تاکہ ہم وہی زخم اپنی اولاد کو نہ دیں۔ #unfreezemyacount