@bukhari_700: وہ شمع جو بل کھائی وہ ایک نظارہ تھا جو ٹوٹ کے بکھرا ہے وہ خواب ہمارا تھا اس پھول کی خوشبو کو کس طرح بھلاؤں میں سانسوں میں بسایا تھا لفظوں میں اتارا تھا ہر ایک کرن دل پر بجلی سی گراتی تھی اک چاند کے پہلو میں دریا کا کنارا تھا یونہی نہیں ہلتے ہیں شاخوں پہ ہرے پتے زلفوں کا جھٹکنا بھی قربت کا اشارا تھا دنیا نے نہ جانے کیوں دونوں کو الگ رکھا لیلیٰ بھی کنواری تھی مجنوں بھی کنوارا تھا اس پار اترنے کی کرتا میں سعی کیسے دریا میں تلاطم تھا کشتی میں شرارہ تھا سب ہاتھ میں تیرے ہے جو چاہے عطا کر دے جینا بھی گوارا تھا مرنا بھی گوارا تھا ہر خار کو چوما ہے پلکوں سے اٹھایا ہے نورینؔ محبت میں دامن بھی پسارا تھا