@kienthucquansu902: (KTQS. B-1/3) Vũ Khí Được Buôn Lậu Như Thế Nào ? #vukhi #sung #kienthucquansu #fyp #is

Kiến Thức Quân Sự  902
Kiến Thức Quân Sự 902
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 13 May 2026 02:42:32 GMT
41353
1059
12
20

Music

Download

Comments

jalgabchsb
loitran 💫 :
giá
2026-06-02 05:52:01
0
lvnhinhin
Lê Văn Hiến (Ct Joseph Allen) :
ra phần tiếp nhé
2026-05-30 08:48:47
1
nguyn.vn.ngha1300
Nguyễn Văn Nghĩa :
ống 21 đài 40 , các si nước , ống 8 ly , bi sắc 6 ly , keo nhựa , nhiều cuồng bạn kéo đen
2026-06-09 06:51:21
0
nguyn.vn.ngha1300
Nguyễn Văn Nghĩa :
3 ống 21 đài 6 Cm , 6 Cm , 9 Cm , nấp đậy , ti lữa điện , bánh răng đầu đích 27 dặng ra rô
2026-06-09 06:49:53
0
nguyn.vn.ngha1300
Nguyễn Văn Nghĩa :
hột quẹt , cây nhựa , cái quặng , khoét 2 lỗ , 2 cộng dây điện lột võ 4 đầu
2026-06-09 06:48:12
0
nguyn.vn.ngha1300
Nguyễn Văn Nghĩa :
nấp đậy , giấy nhám , cây thước , cái cưa , khoét lỗ , quoan né khí
2026-06-09 06:47:00
0
leduy9009
Buồn Của Anh :
😂😂😂
2026-06-02 07:15:36
0
manh.ta68
Manh Ta :
👍👍👍
2026-05-13 16:06:00
0
achung50
Bộ đội cụ hồ :
😳😳😳
2026-06-03 10:48:24
0
To see more videos from user @kienthucquansu902, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار
سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار "یادگارِ شہدا" کے نام سے موجود ہے، جو کشمیریوں کو ان کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ ان دونوں شخصیات کا نام تاریخِ کشمیر میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے—ایک نے خطے کو سدھنوتی کی پہچان دی اور دوسرے نے اسی مٹی کی آزادی کے لیے اپنی کھال کا نذرانہ پیش کیا۔

About