@chengunncute: Trả lời @nguyennam17765 rất dễ em nhé #shoppefood #shipper #xhtiktok

Cheng ủn🐽
Cheng ủn🐽
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 13 May 2026 13:54:12 GMT
28678
714
11
21

Music

Download

Comments

nttt_o7
𝘾𝙝𝙖𝙣🍭 :
Weoo thì ra là vậyyy😂
2026-05-13 14:09:30
3
i.lop.you90
Ăm chã húiiiiiiiii☺️ :
Công thức hay
2026-07-05 03:16:57
0
mahtu.ng647_
𝙢𝙖𝙣𝙝 𝙩𝙪 :
Thôi thôi
2026-05-13 14:34:39
0
jazor_09
xấu zai và buồn :
ôi cô cheng dạy học sinh
2026-06-26 00:04:10
0
nhatlongmai3
Longg :
em mà có chắc chắn e sẽ k quên chị mô😶
2026-06-24 04:45:05
0
user5536806932077
user5536806932077 :
anh ước em ạ😅
2026-05-26 15:00:03
0
tienleotop17tuoi
Tiến :
kế của cj hay đó để e thực hành
2026-05-14 14:57:57
0
linhdanluxury68
Linh Dan Luxury 1 :
vi phạm đấy😄
2026-05-14 02:07:06
0
uservkvwxxxx4e
hdân lên đurim loh :
😁😁😁
2026-05-13 14:48:36
0
long2k811
Long I Love you như :
🥰🥰🥰
2026-05-15 04:53:05
0
To see more videos from user @chengunncute, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔
#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔

About