@sj_clothes003: Slimfit ដៃវែង5.5$ instock new colors 😝🩷🩷#sj_clothes003 #viralvideo #fyp #highquality #outfitideas

SJ_Clothes
SJ_Clothes
Open In TikTok:
Region: KH
Wednesday 13 May 2026 14:27:49 GMT
72270
3861
19
323

Music

Download

Comments

jgmixlvngzz
jgmixlvngzz :
Nv mean ot b
2026-07-22 07:25:52
1
nhsmostrovort
HUM REAKSA🍒 :
Os nv b
2026-07-12 00:25:41
1
ahkomhuch
Ayynie :
os nv b
2026-05-29 07:47:03
1
mey.ju17
ℒ :
Som buy nk lukkk
2026-05-14 04:18:29
1
i.dont.have.a.heart25
Christine :
Jg buy 🥰
2026-05-14 03:52:46
1
farinaa69
FRN :
Som ig b
2026-05-14 02:32:07
1
maliyluvu
malie :
Av sart myang nk luk Rít tah sart😭
2026-05-14 02:40:04
1
summergurll_44
summergurll_44 :
Rk fb ot see bóng
2026-05-13 15:29:28
1
hehmijmnes
Bye :
Mean por kmav ot b
2026-06-19 03:13:06
1
uuuu_145
尼卡 :
😭😭😭
2026-05-15 00:04:28
0
To see more videos from user @sj_clothes003, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

� جس راستے سے مسئلہ بنا، واپسی بھی اسی راستے سے ہوگی یہ جسمانی نہیں بلکہ سوچ اور عادتوں کی مسلسل تبدیلی سے جو ایک پختہ راستہ اور ڈر  روز دہراتے ہے وہ اپکے عقلی اور اعصابی حصہ بن جاتا ہے ،اس کیلئے اپ دوائیاں لینا شروع کر دیتے ہیں , لکن دوائیاں کیسے اپکوں انسانوں کے درمیان لا سکتے ہیں بھلا ؟  ذرا تصور کریں ایک شخص کو لوگوں کے سامنے بات کرنے سے خوف ہوا۔ پہلی بار وہ گھبرایا۔ اس نے لوگوں کے سامنے جانا چھوڑ دیا۔ اسے فوراً سکون ملا۔ اس نے سوچا: “اچھا ہوا میں نہیں گیا، ورنہ کچھ برا ہو جاتا۔” اگلی بار پھر وہی صورتحال آئی۔ اب وہ پہلے سے زیادہ ڈرا۔ پھر وہ بچ گیا۔ پھر سکون ملا۔ اور یہی عمل بار بار دہرایا گیا۔ آہستہ آہستہ اس کے دماغ نے ایک نیا اصول سیکھ لیا: “لوگ = خطرہ” “بچنا = حفاظت” اب مسئلہ صرف خوف نہیں رہا۔ خوف ایک عادت بن گیا۔ بچنا ایک عادت بن گیا۔ اور یہی عادت اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ اب اگر وہ شخص کہے: “مجھے ایک گولی دو اور میرا خوف ختم کر دو۔” تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کیونکہ سوال یہ ہے: جس شخص نے خوف کی وجہ سے برسوں لوگوں سے بچنے کی مشق کی ہے، کیا وہ ایک گولی یا دو ملاقاتوں کے بعد فوراً لوگوں میں گھلنا ملنا سیکھ جائے گا؟ ضروری نہیں۔ پھر اصل علاج کیا ہے؟ جس طرح مسئلہ آہستہ آہستہ بنا: خوف → بچنا → سکون → خوف مضبوط اسی طرح تبدیلی بھی آہستہ آہستہ ہوگی: خوف کو سمجھنا → بچنے کی عادت پہچاننا → تھوڑا تھوڑا سامنا کرنا → مشق کرنا → نیا تجربہ حاصل کرنا → خوف کم ہونا مثلاً پہلے صرف ایک شخص سے بات کرنا۔ پھر دو لوگوں سے۔ پھر چھوٹی محفل میں بیٹھنا۔ پھر اپنی بات کرنا۔ پھر آہستہ آہستہ بڑے حالات کا سامنا کرنا۔ ہر قدم کے ساتھ دماغ ایک نئی بات سیکھتا ہے: “میں ڈرا ضرور تھا، لیکن میں محفوظ رہا۔” پھر: “میں گھبرایا، لیکن میں نے صورتحال کا سامنا کیا۔” پھر: “میں یہ کام کر سکتا ہوں۔” اور یہی نئے تجربات آہستہ آہستہ پرانے خوف کے نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ 🧠 اصل بات دوا بعض صورتوں میں علامات کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن عادت کو بدلنے کے لیے مشق چاہیے۔ تھراپی راستہ دکھاتی ہے، لیکن اس راستے پر چلنا انسان کو خود سیکھنا پڑتا ہے۔ سیشن میں سمجھنا ضروری ہے، لیکن اصل تبدیلی اکثر سیشن کے باہر، روزمرہ زندگی میں مشق سے آتی ہے۔ اس لیے ایسے مسائل میں جلد بازی اکثر مایوسی پیدا کرتی ہے۔ برسوں سے بنے ہوئے خوف کو سمجھنا، اس کے مطابق بنے ہوئے رویے کو بدلنا اور مسلسل نئے تجربات دینا ہی اصل راستہ ہے۔ ایک مختصر پیغام: “جس خوف کو آپ برسوں سے بچنے کی عادت دے رہے ہیں، وہ ایک دو دن میں ختم نہیں ہوگا۔ اب دماغ کو بچنے کی نہیں، آہستہ آہستہ سامنا کرنے کی نئی مشق سکھانی ہوگی۔ #socialanxiety #anxiety #phobia #social #anxietydisorder
� جس راستے سے مسئلہ بنا، واپسی بھی اسی راستے سے ہوگی یہ جسمانی نہیں بلکہ سوچ اور عادتوں کی مسلسل تبدیلی سے جو ایک پختہ راستہ اور ڈر روز دہراتے ہے وہ اپکے عقلی اور اعصابی حصہ بن جاتا ہے ،اس کیلئے اپ دوائیاں لینا شروع کر دیتے ہیں , لکن دوائیاں کیسے اپکوں انسانوں کے درمیان لا سکتے ہیں بھلا ؟ ذرا تصور کریں ایک شخص کو لوگوں کے سامنے بات کرنے سے خوف ہوا۔ پہلی بار وہ گھبرایا۔ اس نے لوگوں کے سامنے جانا چھوڑ دیا۔ اسے فوراً سکون ملا۔ اس نے سوچا: “اچھا ہوا میں نہیں گیا، ورنہ کچھ برا ہو جاتا۔” اگلی بار پھر وہی صورتحال آئی۔ اب وہ پہلے سے زیادہ ڈرا۔ پھر وہ بچ گیا۔ پھر سکون ملا۔ اور یہی عمل بار بار دہرایا گیا۔ آہستہ آہستہ اس کے دماغ نے ایک نیا اصول سیکھ لیا: “لوگ = خطرہ” “بچنا = حفاظت” اب مسئلہ صرف خوف نہیں رہا۔ خوف ایک عادت بن گیا۔ بچنا ایک عادت بن گیا۔ اور یہی عادت اس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ اب اگر وہ شخص کہے: “مجھے ایک گولی دو اور میرا خوف ختم کر دو۔” تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کیونکہ سوال یہ ہے: جس شخص نے خوف کی وجہ سے برسوں لوگوں سے بچنے کی مشق کی ہے، کیا وہ ایک گولی یا دو ملاقاتوں کے بعد فوراً لوگوں میں گھلنا ملنا سیکھ جائے گا؟ ضروری نہیں۔ پھر اصل علاج کیا ہے؟ جس طرح مسئلہ آہستہ آہستہ بنا: خوف → بچنا → سکون → خوف مضبوط اسی طرح تبدیلی بھی آہستہ آہستہ ہوگی: خوف کو سمجھنا → بچنے کی عادت پہچاننا → تھوڑا تھوڑا سامنا کرنا → مشق کرنا → نیا تجربہ حاصل کرنا → خوف کم ہونا مثلاً پہلے صرف ایک شخص سے بات کرنا۔ پھر دو لوگوں سے۔ پھر چھوٹی محفل میں بیٹھنا۔ پھر اپنی بات کرنا۔ پھر آہستہ آہستہ بڑے حالات کا سامنا کرنا۔ ہر قدم کے ساتھ دماغ ایک نئی بات سیکھتا ہے: “میں ڈرا ضرور تھا، لیکن میں محفوظ رہا۔” پھر: “میں گھبرایا، لیکن میں نے صورتحال کا سامنا کیا۔” پھر: “میں یہ کام کر سکتا ہوں۔” اور یہی نئے تجربات آہستہ آہستہ پرانے خوف کے نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ 🧠 اصل بات دوا بعض صورتوں میں علامات کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن عادت کو بدلنے کے لیے مشق چاہیے۔ تھراپی راستہ دکھاتی ہے، لیکن اس راستے پر چلنا انسان کو خود سیکھنا پڑتا ہے۔ سیشن میں سمجھنا ضروری ہے، لیکن اصل تبدیلی اکثر سیشن کے باہر، روزمرہ زندگی میں مشق سے آتی ہے۔ اس لیے ایسے مسائل میں جلد بازی اکثر مایوسی پیدا کرتی ہے۔ برسوں سے بنے ہوئے خوف کو سمجھنا، اس کے مطابق بنے ہوئے رویے کو بدلنا اور مسلسل نئے تجربات دینا ہی اصل راستہ ہے۔ ایک مختصر پیغام: “جس خوف کو آپ برسوں سے بچنے کی عادت دے رہے ہیں، وہ ایک دو دن میں ختم نہیں ہوگا۔ اب دماغ کو بچنے کی نہیں، آہستہ آہستہ سامنا کرنے کی نئی مشق سکھانی ہوگی۔ #socialanxiety #anxiety #phobia #social #anxietydisorder

About