@fernfern22399:

เฟินเฟินเกิดเดือนมกรา🤍
เฟินเฟินเกิดเดือนมกรา🤍
Open In TikTok:
Region: TH
Wednesday 13 May 2026 18:12:16 GMT
182
5
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @fernfern22399, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بہت سے گھروں میں کسی شخص کے انتقال کے بعد تیجہ، دسواں اور چالیسواں منایا جاتا ہے؟ بعض خاندانوں میں یہ رسومات اتنی ضروری سمجھی جاتی ہیں کہ اگر کوئی غریب شخص اپنے والدین کے انتقال پر چالیسویں کا کھانا نہ کھلائے تو رشتہ دار اسے طعنے دیتے ہیں۔ لیکن کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی کسی کی وفات کے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن اس طرح کی تقریبات منعقد کی جاتی تھیں؟ اور کیا اسلام نے واقعی ان دنوں کو مرحوم کے لیے کوئی خاص مذہبی اہمیت دی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک ایسے واقعے کی طرف جانا ہوگا جس میں ایک خاندان اپنے عزیز کی شہادت کے بعد شدید غم میں مبتلا تھا۔ غزوۂ موتہ میں جب حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ایک ایسی ہدایت دی جو آج ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسی مصیبت آ پڑی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔ سنن ابی داؤد، حدیث 3132۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے غمزدہ خاندان کو لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ دوسروں کو ان کے لیے کھانا بنانے کی ہدایت دی۔ لیکن آج بعض جگہ معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ جس گھر میں موت ہوتی ہے، وہی خاندان تدفین کے بعد مہمانوں کے کھانے، تیجے اور چالیسویں کے انتظامات میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا میت کے لیے دعا کرنا، قرآن پڑھنا یا صدقہ دینا منع ہے؟ نہیں، ان اعمال کے احکام الگ الگ ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث 1631 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ اسی طرح میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت بھی صحیح احادیث میں موجود ہے، جبکہ قرآن پڑھ کر ثواب پہنچانے کے مسئلے میں فقہاء کی مختلف آرا ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان نیکیوں کے لیے تیسرا، دسواں یا چالیسواں دن مقرر کرنا ضروری ہے؟ قرآن اور صحیح احادیث میں ان مخصوص دنوں کی لازمی تقریبات مقرر نہیں کی گئیں۔ برصغیر میں وقت کے ساتھ مختلف سوگ اور یادگاری رسومات رائج ہوئیں، جن پر مقامی ثقافت اور مذہبی روایات کے اثرات بھی موجود ہیں۔ تاہم ہر رسم کو لازماً ہندو مذہب سے منسوب کرنا تاریخی ثبوت کے بغیر درست نہیں۔ بعض علماء مخصوص دنوں کی اجتماعی تقریبات کو بدعت کہتے ہیں، جبکہ دوسرے علماء دعا، تلاوت اور صدقے کے اجتماعات کی گنجائش بیان کرتے ہیں، بشرطیکہ انہیں دین کا لازمی حکم نہ سمجھا جائے۔ لیکن کسی غمزدہ خاندان کو ان تقریبات کے اخراجات اٹھانے پر مجبور کرنا ایک الگ معاشرتی مسئلہ ہے۔ اب ایک ایسے باپ کا تصور کیجیے جس نے ابھی اپنے جوان بیٹے کو دفن کیا ہے۔ وہ پہلے ہی غم سے ٹوٹ چکا ہے، لیکن اسے فکر ہے کہ تیجے پر کتنے لوگوں کو کھانا کھلانا ہوگا اور چالیسویں کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ کیا یہی وہ ہمدردی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی تھی؟ سنن ابن ماجہ کی حدیث 1612 میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میت کے گھر جمع ہونے اور تدفین کے بعد وہاں کھانا تیار کیے جانے کو نوحہ کی صورتوں میں شمار کرتے تھے۔ اس روایت کے اطلاق میں اہلِ علم نے تفصیل بھی بیان کی ہے۔ اس لیے کسی مرحوم کے لیے دعا کرنا نیکی ہے، لیکن اس کے خاندان پر مہمان نوازی اور مخصوص رسومات کا بوجھ ڈالنا دینی ذمہ داری نہیں۔ اگر واقعی ہم کسی غمزدہ خاندان سے محبت کرتے ہیں تو ان کے لیے کھانا تیار کریں، ان کی ضروریات پوری کریں اور مرحوم کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ان کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرنے کی تعلیم دی تھی۔ تو پھر ہم نے غمزدہ خاندان کا سہارا بننے کے بجائے اسی خاندان پر رسومات کا بوجھ کیوں ڈال دیا؟ #viral #taybiivibes #islamic #DeenUrduStories #foryoupage
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بہت سے گھروں میں کسی شخص کے انتقال کے بعد تیجہ، دسواں اور چالیسواں منایا جاتا ہے؟ بعض خاندانوں میں یہ رسومات اتنی ضروری سمجھی جاتی ہیں کہ اگر کوئی غریب شخص اپنے والدین کے انتقال پر چالیسویں کا کھانا نہ کھلائے تو رشتہ دار اسے طعنے دیتے ہیں۔ لیکن کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی کسی کی وفات کے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن اس طرح کی تقریبات منعقد کی جاتی تھیں؟ اور کیا اسلام نے واقعی ان دنوں کو مرحوم کے لیے کوئی خاص مذہبی اہمیت دی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایک ایسے واقعے کی طرف جانا ہوگا جس میں ایک خاندان اپنے عزیز کی شہادت کے بعد شدید غم میں مبتلا تھا۔ غزوۂ موتہ میں جب حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ایک ایسی ہدایت دی جو آج ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسی مصیبت آ پڑی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔ سنن ابی داؤد، حدیث 3132۔ غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے غمزدہ خاندان کو لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ دوسروں کو ان کے لیے کھانا بنانے کی ہدایت دی۔ لیکن آج بعض جگہ معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ جس گھر میں موت ہوتی ہے، وہی خاندان تدفین کے بعد مہمانوں کے کھانے، تیجے اور چالیسویں کے انتظامات میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا میت کے لیے دعا کرنا، قرآن پڑھنا یا صدقہ دینا منع ہے؟ نہیں، ان اعمال کے احکام الگ الگ ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث 1631 میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ اسی طرح میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت بھی صحیح احادیث میں موجود ہے، جبکہ قرآن پڑھ کر ثواب پہنچانے کے مسئلے میں فقہاء کی مختلف آرا ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان نیکیوں کے لیے تیسرا، دسواں یا چالیسواں دن مقرر کرنا ضروری ہے؟ قرآن اور صحیح احادیث میں ان مخصوص دنوں کی لازمی تقریبات مقرر نہیں کی گئیں۔ برصغیر میں وقت کے ساتھ مختلف سوگ اور یادگاری رسومات رائج ہوئیں، جن پر مقامی ثقافت اور مذہبی روایات کے اثرات بھی موجود ہیں۔ تاہم ہر رسم کو لازماً ہندو مذہب سے منسوب کرنا تاریخی ثبوت کے بغیر درست نہیں۔ بعض علماء مخصوص دنوں کی اجتماعی تقریبات کو بدعت کہتے ہیں، جبکہ دوسرے علماء دعا، تلاوت اور صدقے کے اجتماعات کی گنجائش بیان کرتے ہیں، بشرطیکہ انہیں دین کا لازمی حکم نہ سمجھا جائے۔ لیکن کسی غمزدہ خاندان کو ان تقریبات کے اخراجات اٹھانے پر مجبور کرنا ایک الگ معاشرتی مسئلہ ہے۔ اب ایک ایسے باپ کا تصور کیجیے جس نے ابھی اپنے جوان بیٹے کو دفن کیا ہے۔ وہ پہلے ہی غم سے ٹوٹ چکا ہے، لیکن اسے فکر ہے کہ تیجے پر کتنے لوگوں کو کھانا کھلانا ہوگا اور چالیسویں کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ کیا یہی وہ ہمدردی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی تھی؟ سنن ابن ماجہ کی حدیث 1612 میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میت کے گھر جمع ہونے اور تدفین کے بعد وہاں کھانا تیار کیے جانے کو نوحہ کی صورتوں میں شمار کرتے تھے۔ اس روایت کے اطلاق میں اہلِ علم نے تفصیل بھی بیان کی ہے۔ اس لیے کسی مرحوم کے لیے دعا کرنا نیکی ہے، لیکن اس کے خاندان پر مہمان نوازی اور مخصوص رسومات کا بوجھ ڈالنا دینی ذمہ داری نہیں۔ اگر واقعی ہم کسی غمزدہ خاندان سے محبت کرتے ہیں تو ان کے لیے کھانا تیار کریں، ان کی ضروریات پوری کریں اور مرحوم کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ان کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرنے کی تعلیم دی تھی۔ تو پھر ہم نے غمزدہ خاندان کا سہارا بننے کے بجائے اسی خاندان پر رسومات کا بوجھ کیوں ڈال دیا؟ #viral #taybiivibes #islamic #DeenUrduStories #foryoupage

About