@fiaraheem: ہم تکلیف میں سب سے پہلے یہی سوچتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی کیوں؟ میں نے کیا کیا تھا؟ لیکن چیتا جب ہرن کو پکڑتا ہے تو ہرن بھی یہی سوچتا ہے — اور جب ہرن بھاگ نکلتا ہے تو چیتا بھوکا رہتا ہے۔ دونوں کے لیے ایک ہی فیصلہ ہو رہا ہے، ایک ہی لمحے میں، ایک ہی ہاتھ سے۔ تم سمجھ بھی نہیں رہے کہ جو تمہارے خلاف لگتا ہے، وہ بھی اسی کے حکم سے ہے — اور جو تمہارے حق میں آتا ہے، وہ بھی۔ لوگ کہتے ہیں "اللہ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا" — لیکن یہ وہی لوگ کہتے ہیں جو صرف اپنا نقصان دیکھتے ہیں، پورا نقشہ نہیں۔ چیتے کو رزق ملا — خدا رازق ہوا۔ ہرن بچ گیا — خدا محافظ ہوا۔ ایک ہی واقعے میں دو نام، دو رحمتیں، دو فیصلے — یہ معاملہ انسانی عقل سے بڑا ہے۔ اور جو اپنی عقل سے اس ذات کو ناپنے بیٹھ جائے، وہ ہمیشہ غلط نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اور سب سے گہرا سچ یہ ہے کہ تمہاری تکلیف بے مقصد نہیں — تمہارا انتظار بے فائدہ نہیں — تمہارا نقصان بے حکمت نہیں۔ جس نے چیتے اور ہرن کا حساب رکھا ہے، اس نے تمہارا بھی رکھا ہوا ہے۔ بس اتنا فرق ہے کہ ہرن کو فیصلہ اسی لمحے پتہ چل جاتا ہے — اور تمہیں وقت کے ساتھ۔ آخری بات: "جب سب دروازے بند ہو جائیں اور کوئی راستہ نہ دکھے — تو یاد کرو کہ جس نے چیتے کو روکا اور ہرن کو بچایا، وہ ابھی بھی دیکھ رہا ہے۔ اور اس کا دیکھنا ہی کافی ہے۔"