@sheikh.kashif.raza: یہ شعر گہری حقیقت بیان کر رہا ہے کہ انسان کی موت کے بعد سب کچھ وقتی ہے، اور لوگ قبر یا مرنے والے کو جلدی بھول جاتے ہیں۔ اس میں زندگی اور تعلقات کی فانی نوعیت کی طرف اشارہ ہے۔ شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے: "دفنا کر بھول جاتے ہیں لوگ کہ قبر کونسی ہے" → لوگ مرنے کے بعد بھی جلد ہی مرنے والے کو بھول جاتے ہیں، چاہے قبر کتنی ہی قیمتی یا اہم کیوں نہ ہو۔ "اور تم اس گمان ہو کہ میرے اپنے بہت ہیں" → یہاں شاعر یہ بتا رہا ہے کہ تمہیں لگتا ہے کہ اس کے بہت قریبی یا اپنے لوگ ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ #followers➕ #fypシ