@akram.writer: کبھی کبھی انسان ایسے مقام پر آ کھڑا ہوتا ہے ، جہاں نہ خاموشی سکون دیتی ہے اور نہ الفاظ سمجھ پاتے ہیں۔ چپ رہو تو لوگ اپنے مطلب کے قصے بنا لیتے ہیں تمہاری خاموشی کو غرور نفرت یا غلطی سمجھ لیتے ہیں۔ اور اگر دل کھول کر بول دو اپنا دکھ اپنی صفائی اپنی حقیقت بیان کر دو تو وہی لوگ رشتوں کی دیواریں گرا دیتے ہیں۔ .... کتنا عجیب ہے نا ہم ساری زندگی صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں سمجھ لے مگر اکثر لوگ صرف وہی سنتے ہیں جو اُن کے مطلب کا ہو۔ اس لیے اب کچھ لوگ بولنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہر لفظ کی قیمت کسی نہ کسی رشتے کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خاموش رہنا ہار مان لینا نہیں ہوتا بلکہ خود کو مزید ٹوٹنے سے بچانا ہوتا ہے۔ اور کبھی سچ بول دینا بدتمیزی نہیں ہوتا بس دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی آخری کوشش ہوتی ہے۔