❤️🌹گرتی زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری جھکتی انکھوں نے بتایا میں کشی کیا چیز ہے عشق کیجئے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے انکھیں ہیں جیسے جیل پہ پیالے بھرے ہوئے مستی ہے ان میں پیار کی تم وہ شباب ہو چاندنی کا چاند ہو یا افتاب ہو جو بھی ہو خدا کی قسم لاجواب ہو جینے کے واسطے تیری باتیں خرید لوں میرا بس چلے تیری یادیں خرید لوں جو صرف تیرا دیدار کر سکیں سب کچھ لٹا کر وہ انکھیں خريد لوں یہ تو کچھ نہیں اپ کو دیکھ کر مجھے اس سے بھی کئی زیادہ حسین غزلیں یاد ا جاتی ہے جو اگر لکھنے بیٹھ جاؤں تو یہ درد مند انسان اس دنیا میں جی رہے ہیں ان کا پتہ نہیں کیا ہوگا خاموش ہی رہے تو ہم بہتر ہیں❤️🌹