@epiphany.dcrew: Відповідь користувачу @Albanie she said she was really embarrassed and learned “Celebrate” 😭 (but “BOOMBAYAH” is still her favorite of course) #boombayah #celebration #blackpink #lesserafim #kpopcoverdance

EPIPHANY
EPIPHANY
Open In TikTok:
Region: UA
Saturday 16 May 2026 07:48:43 GMT
9828
181
3
1

Music

Download

Comments

jenni_fan76
No neme :
Так це танець від celebrating
2026-05-16 14:35:14
1
jayjay_yunki1009
✦☆𝐽𝑎𝑦𝑗𝑎𝑦☆✦¹⁰⁰⁹ :
wrong sound
2026-05-24 11:48:28
0
lyuchi2
𝚘𝚗𝚍𝚊 𝚊𝚗𝚍𝚊𝚛 :
перша
2026-05-16 08:12:02
0
To see more videos from user @epiphany.dcrew, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ قول انسانی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ عظمت، کامیابی اور ذہنی سکون صرف خوشحال اور آسان زندگی سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن تاریخ ہمیں ایک مختلف حقیقت دکھاتی ہے۔ دنیا کے بہت سے عظیم انسانوں نے اپنی زندگی میں شدید غم، بیماری، تنہائی، ذہنی دباؤ، ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کے راستے ہمیشہ آسان نہیں تھے، بلکہ کئی مرتبہ یہی مشکلات ان کی شخصیت، فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید گہرا کرتی گئیں.! تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کارلائل صحت کے مسائل اور ہاضمے کی خرابی سے دوچار رہے، سیزر کو مرگی کے دورے پڑتے تھے، جبکہ روس کا آئیون بھی اپنی زندگی میں شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات سے گزرا۔ اسی طرح بہت سے عظیم فنکار، ادیب، مفکر اور تخلیق کار ایسے گزرے ہیں جن کے اندر کی بے چینی، تنہائی اور دکھ ان کے فن میں نمایاں ہوئے۔ بعض اوقات انسان کی سب سے گہری تخلیق اُس وقت جنم لیتی ہے جب وہ زندگی کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے.! اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غم یا بیماری عظمت کی ضمانت ہیں، یا یہ کہ انسان کو مشکلات تلاش کرنی چاہئیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مشکلات انسان کو اندر سے بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جو شخص اپنے دکھ کو سمجھنے، برداشت کرنے اور اسے مثبت سوچ، علم، فن یا تخلیق میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کے اندر زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ پیدا ہو سکتا ہے.! غم انسان کو دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کے قابل بھی بناتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے خود تنہائی محسوس کی ہو، وہ کسی دوسرے کی خاموشی کو زیادہ گہرائی سے سمجھ سکتا ہے۔ جس نے ناکامی دیکھی ہو، وہ کامیابی کی قدر بہتر جان سکتا ہے۔ اور جس نے زندگی کی سختیوں کا سامنا کیا ہو، اُس کے الفاظ میں اکثر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے جو صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی.! اسی لیے اس قول کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ زندگی کی مشکلات کو اپنی کمزوری سمجھ کر ختم نہ ہو جائیں۔ بعض اوقات انسان کے زخم ہی اسے زیادہ حساس، سمجھدار اور گہرا بناتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے دکھ کو اپنی شناخت نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں! ہر مشکل ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، لیکن مشکل سے حاصل ہونے والی سمجھ انسان کے ساتھ بہت دور تک جا سکتی ہے! زندگی میں آنے والے غم ہمیں توڑ بھی سکتے ہیں اور ہمیں پہلے سے زیادہ مضبوط، باشعور اور بامقصد بھی بنا سکتے ہیں۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم اپنے دکھ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں.! مختصر یہ کہ عظمت کا تعلق صرف خوشیوں سے نہیں؛ بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے اندھیروں میں ہی اپنے اندر کی سب سے روشن صلاحیت دریافت کرتا ہے!!! #Quotes #LifeLessons #DeepThoughts #UrduQuotes #TheSoulfulLine
یہ قول انسانی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ عظمت، کامیابی اور ذہنی سکون صرف خوشحال اور آسان زندگی سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن تاریخ ہمیں ایک مختلف حقیقت دکھاتی ہے۔ دنیا کے بہت سے عظیم انسانوں نے اپنی زندگی میں شدید غم، بیماری، تنہائی، ذہنی دباؤ، ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کے راستے ہمیشہ آسان نہیں تھے، بلکہ کئی مرتبہ یہی مشکلات ان کی شخصیت، فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید گہرا کرتی گئیں.! تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کارلائل صحت کے مسائل اور ہاضمے کی خرابی سے دوچار رہے، سیزر کو مرگی کے دورے پڑتے تھے، جبکہ روس کا آئیون بھی اپنی زندگی میں شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات سے گزرا۔ اسی طرح بہت سے عظیم فنکار، ادیب، مفکر اور تخلیق کار ایسے گزرے ہیں جن کے اندر کی بے چینی، تنہائی اور دکھ ان کے فن میں نمایاں ہوئے۔ بعض اوقات انسان کی سب سے گہری تخلیق اُس وقت جنم لیتی ہے جب وہ زندگی کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے.! اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غم یا بیماری عظمت کی ضمانت ہیں، یا یہ کہ انسان کو مشکلات تلاش کرنی چاہئیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مشکلات انسان کو اندر سے بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جو شخص اپنے دکھ کو سمجھنے، برداشت کرنے اور اسے مثبت سوچ، علم، فن یا تخلیق میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کے اندر زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ پیدا ہو سکتا ہے.! غم انسان کو دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کے قابل بھی بناتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے خود تنہائی محسوس کی ہو، وہ کسی دوسرے کی خاموشی کو زیادہ گہرائی سے سمجھ سکتا ہے۔ جس نے ناکامی دیکھی ہو، وہ کامیابی کی قدر بہتر جان سکتا ہے۔ اور جس نے زندگی کی سختیوں کا سامنا کیا ہو، اُس کے الفاظ میں اکثر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے جو صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی.! اسی لیے اس قول کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ زندگی کی مشکلات کو اپنی کمزوری سمجھ کر ختم نہ ہو جائیں۔ بعض اوقات انسان کے زخم ہی اسے زیادہ حساس، سمجھدار اور گہرا بناتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے دکھ کو اپنی شناخت نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں! ہر مشکل ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، لیکن مشکل سے حاصل ہونے والی سمجھ انسان کے ساتھ بہت دور تک جا سکتی ہے! زندگی میں آنے والے غم ہمیں توڑ بھی سکتے ہیں اور ہمیں پہلے سے زیادہ مضبوط، باشعور اور بامقصد بھی بنا سکتے ہیں۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم اپنے دکھ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں.! مختصر یہ کہ عظمت کا تعلق صرف خوشیوں سے نہیں؛ بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے اندھیروں میں ہی اپنے اندر کی سب سے روشن صلاحیت دریافت کرتا ہے!!! #Quotes #LifeLessons #DeepThoughts #UrduQuotes #TheSoulfulLine

About